Home / ریاستی خبریں / اندھرا ؍تلنگانہ / حیدر آباد : حی الفلاح مہم ۔نماز فجر میں بھی بچوں کی بھیڑ، مسجدانتظامیہ نے اپنایا تھا یہ انوکھا طریقہ

حیدر آباد : حی الفلاح مہم ۔نماز فجر میں بھی بچوں کی بھیڑ، مسجدانتظامیہ نے اپنایا تھا یہ انوکھا طریقہ

حیدرآباد(ہرپل نیوز) : 02 جنوری۔ اٹھکیلیاں کرنے کی عمر میں بچوں کونماز اور دین کی بنیادوں سے قریب کر نے کی کوشش کی جائے تو یہ کوشش یقینا کار آمد ثابت ہو گی۔ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے میں پائی جانے والی دین بیزاری کے بعد نوعمر بچوں کو نماز سے قریب کرنے کی کوئی بھی کوشش قابل تحسین سمجھی جائے گی ۔ گزشتہ دنوں حیدر آباد کے تاریخی قلعہ گولکنڈہ کے قاضی گلی محلے میں واقع مسجد اسلامک سنٹر میں حی علی الفلاح مہم کے تحت نماز فجر سے بچوں کو جوڑنے کی کامیاب سعی کی گئی۔ حی علی الفلاح کے موضوع پر منعقدہ مہم کے تحت بچوں اور نوجوانوں کو مسلسل چالیس روز تک نماز فجر پڑھنے کی ترغیب دی گئی تھی۔ مہم کے اختتام پر نماز کی پابندی کرنے والے بچوں کو انعامات سے نوازا گیا۔ مسجد اسلامک سنٹر قاضی گلی کی انتظامی کمیٹی کے صدر سلطان مح الدین نے کہا کہ نمازفجر کی مہم کا موضوع حی علی الصلوۃ (آؤ نماز کی طرف) بھی رکھا جا سکتا تھا تاہم اسے حی علی الفلاح (آؤ کامیابی کی طرف) کا نام دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ مقصد کے تحت مہم رکھی گئی اور اس کے ذریعے نہ صرف نمازوں کی پابندی کرانا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر انسان کو دونوں جہاں کی کامیابی سے ہمکنار کرانا ہے

بچوں میں جذبہ عمل:منتظمین کے مطابق یہ مہم توقع سے زیادہ کامیاب رہی ۔ بچوں اور نوجوانوں نے بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیا۔ موسم سرما میں صبح سویرے کون اپنے بستر سے اٹھنا چاہے گا، لیکن نماز فجر میں بچوں کی کثیر تعداد نے یہ ثابت کردیا کہ اگر پختہ عزم ہو اورر مقصد پیش نظر رہے تو کوئی کام مشکل نہیں ہے۔ شدید ٹھنڈ میں بھی بچے پابندی سے مسجد کا رخ کررہے تھے۔ نماز کے لئے بچوں کا یہ جوش و خروش قابل دید رہا۔ بچوں کے والدین اور دیگر افراد نے جب یہ منظر دیکھا تو وہ کافی خوش ہو ئے۔ نہ صرف قاضی گلی بلکہ آس پاس کے محلوں اور دور دراز علاقوں سے بھی بچے نماز فجر ادا کرنے مسجد اسلامک سنٹر پہنچ رہے تھے۔ منتظمین کےمطابق اکثر بچے تکبیر اولیٰ کے ساتھ نماز میں شامل رہے۔ بچوں کو پانچوں وقت نماز پڑھنے کی تلقین کی گئی۔ بچوں نے بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ نمازوں کی پابندی جاری رکھیں گے۔ حی علی الفلاح مہم کے کنوینر جناب محمد عبد السبحان کا کہنا ہے کہ اس مہم کے دوران بچوں کو دین کی بنیادی تعلیمات سے واقف کرایا گیا۔ نماز کا صحیح طریقہ بتایا گیا، قرآن مجید کی چھوٹی سورتیں، احادیث اور دعائیں یاد کروائی گئیں۔ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر روشنی ڈالی گئی۔ اس کے علاوہ مختلف موضوعات پر لیکچرس اور کھیل کود کی سرگرمیاں بھی منعقد کی گئیں۔

بچوں کی حوصلہ افزائی:عبدالسبحان کہتے ہیں مہم کے اختتام پر پابند رہنے والے بچوں کو محترم حامد محمد خان امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند حلقہ تلنگانہ و دیگر کے ہاتھوں انعامات سے سرفراز کیا گیا، بچوں میں سائیکلیں، اسپورٹس کٹس، اسمارٹ گھڑیاں، ٹرافی اور اسناد تقسیم کئے گئے،سبھی کو قرآن مجید معہ ترجمہ بھی بطور تحفہ دیا گیا۔ یقیناً، انعامات بچوں کے لئے محرک عمل رہے. تاہم یہ مہم ان کی زندگیوں کو صحیح سمت دینے میں معاون ثابت ہوگی. مہم کے بعد بھی بیشتر بچوں کو نماز فجر کی پابندی کرتے دیکھا گیا۔

آئندہ کا لائحہ عمل:محمد عبدالسبحان کا کہنا ہے کہ چالیس روزہ مہم تو اختتام پذیر ہوگئی لیکن حی علی الفلاح کی صدا بلند ہوتی رہے گی اور لوگوں کو فلاح کے راستے پر گامزن کرنے کا کام جاری رہےگا۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کمیٹی نے بچوں کو آگے بھی نمازوں کا پابند بنانے اور ان کا تربیتی عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے تحت تجوید کی کلاسز شروع کی گئی ہیں.اس کے علاوہ ہفتہ واری سطح پر سنڈے اسلامک اسکول کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔

نماز فجر مہم کے اثرات:مسجد اسلامک سنٹرقاضی گلی کی نماز فجر مہم کے یقیناً دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔ اس مہم نے نہ صرف بچوں بلکہ ان کے سرپرستوں کو بھی متحرک کیا ہے۔گھروں کے ماحول پر مثبت اثر چھوڑا ہے۔ مسجد کمیٹی کی جانب سے بچوں کا تربیتی عمل جاری رکھنے کا فیصلہ بھی قابل ستائش ہے۔نماز فجر مہم ایک اچھا ماڈل ہے جسے وسیع پیمانے پر اپنانے کی ضرورت ہے. مساجد کمیٹیاں اپنی سطح پراگر اس نوعیت کی مہمات شروع کریں گی تو اس کے معاشرے پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں. کیونکہ نماز، انسان کے اندر ڈسپلن پیدا کرتی ہے، برائیوں سے روکتی ہے، اس سے زندگی میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ اگر بچوں اور نوجوانوں کو عمر کے اس پڑاؤ پر صحیح رہنمائی کی جائے، ان کے اندر دینی مزاج پیدا کیا جائے اور ان کی زندگیوں کو با مقصد بنادیا جائے تو یہ نہ صرف خاندان، معاشرہ بلکہ پوری ملت کا اثاثہ ثابت ہوں گے اور دنیاوی واخروی فلاح سے ہمکنار ہو سکتے ہیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/0HsXr

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.