Home / اہم ترین / دجالی فتنوں کا ظہور اور ان سے بچاؤکی تدابیر : مولاناسید احمدومیض ندوی

دجالی فتنوں کا ظہور اور ان سے بچاؤکی تدابیر : مولاناسید احمدومیض ندوی

عین قربِ قیامت کے موقع جن بڑی علامتوں کا ظہور ہوگا ان میں ایک نمایاں علامت ’’دجال‘‘ کا خروج ہے ۔ فتنۂ دجال سب سے بھیانک فتنہ ہوگا۔ اس کی خطرناکی کا اندازہ ان روایات سے لگایا جاسکتا ہے جن میں آپ انے دجال سے چوکنا فرمایا ہے ۔ اس فتنہ کی ہولناکی کے لیے یہی ایک بات کافی ہے کہ خود رسولِ خدا ااس فتنہ سے پناہ مانگتے تھے ۔ چنانچہ ایک سے زائد مقامات پر آپ اکی دعاؤں میں فتنۂ دجال سے پناہ طلب کرنے کا ذکر ہے۔ جب نبی کریم ا حضراتِ صحابہ کے سامنے اس فتنہ کا تذکرہ فرماتے تو صحابہ کے چہروں پر خوف کے اثرات نمودار ہوجایا کرتے تھے۔ فتنۂ دجال سے صرف نبی آخر الزماں ہی نے اپنی قوم کو نہیں ڈرایا بلکہ آپ ا کی صراحت کے مطابق ہرپیغمبر نے اپنی قوم کو اس فتنہ سے ڈرایا ہے۔ چنانچہ حضرت انسؓ کی روایت ہے ، آپ نے فرمایا : ما بعث نبی إلا أنذر أمتہ الأعورالکذاب (بخاری شریف ۶۵۹) کوئی نبی ایسے نہیں بھیجے گئے جنہوں نے اپنی امت کو کانے کذاب سے نہ ڈرایا ہو۔ ایک اور روایت میں فتنۂ دجال کی ہولناکی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا گیا آدم علیہ السلام کی پیدائش اور روزِ قیامت کے درمیان ایک بہت بڑا فتنہ ظاہر ہوگا اور وہ دجال کا فتنہ ہے۔ (مستدرک حاکم ۴/۵۷۳) نبی کریم اکو حضراتِ صحابہ کو فتنۂ دجال سے بچانے کی اس قدر فکر دامن گیر رہتی تھی کہ آپ نے انہیں نماز میں بعد تشہد پڑھی جانے والی دعاؤں میں ایک دعا ایسی تعلیم فرمائی جس میں فتنۂ دجال سے پناہ مانگی گئی ہے۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ حضور ا سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں تشہد پڑھ کر فارغ ہوجائے تو اﷲ تعالیٰ سے چار چیزوں سے پناہ مانگے اور کہے اے اﷲ! میں جہنم کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور قبر کے عذاب سے اور موت وحیات کے فتنے سے اور مسیح دجال کے شر سے۔

مسیح دجال ایک متعین شخص ہوگا جو قیامت سے متصل خروج کرے گا۔ لیکن بعض احادیث کے اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ خروجِ دجال سے بہت پہلے سے دجالی فتنے ظاہر ہونے لگیں گے ۔ دجال دجل سے ماخوذ ہے ، دجل کے معنٰی فریب اورانتہائی درجہ کی عیاری ومکاری کے ہیں۔ دجال دجل وفریب کی سب سے اونچی منزل پر ہوگا۔ لیکن اس کے خروج سے کافی پہلے سے دجالی فتنے رونما ہونے شروع ہوجائیں گے۔اس وقت دنیا بھر میں شیطانی قوتوں کے ذریعہ جیسے کچھ حالات پیدا کئے جارہے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دجالی فتنے پوری قوت کے ساتھ اپنا اثر دکھارہے ہیں۔ جب دجال ظاہر ہوگا تو اس کا سب سے بڑا دجل حقائق کو الٹنے اور باطل کو حق کی شکل میں پیش کرنے سے متعلق ہوگا جو اہلِ ایمان کے لیے آزمائش ہوگا۔ چنانچہ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ا نے فرمایا دجال کے خروج سے پہلے چند سال دھوکہ وفریب کے ہوں گے ، سچے کو جھوٹا بنایا جائے گا اور جھوٹے کو سچا بنایا جائے گا ، خیانت کرنے والے کو امانت دار بنایا جائے گا اور امانت دار کو خیانت کرنے والا قرار دیا جائے گااور ان میں رویبضہ بات کریں گے ، پوچھا گیا رویبضہ کون ہیں؟ فرمایا گھٹیا(فاسق وفاجر) لوگ ، وہ لوگوں کے اہم معاملات میں بولا کریں گے۔(مسند احمد: ۱۳۳۲)

صلیبی وصہیونی طاقتیں اور مغربی میڈیا آج وہ سب کچھ کررہا ہے جس کی طرف حدیث بالا میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ بعض معاصر علماء نے موجودہ صہیونی وصلیبی طاقتوں اور ان کی جانب سے ہونے والی عالمی سطح کی اسلام مخالف سرگرمیوں کو دجالی فتنوں کا مظہر قرار دیا ہے ۔ گوکہ اس نظریہ سے کلی اتفاق ضروری نہیں لیکن اتنی بات تو احادیث میں بھی مذکور ہے کہ دجال یہود میں سے ہوگا اور جب اس کا ظہور ہوگا تو یہودی ہزاروں کی تعداد میں اس کے جھنڈے تلے جمع ہوجائیں گے۔ اور مال و دولت اور حیرت انگیز مادّی وسائل کے ذریعہ لوگوں کو مبہوت کرکے رکھ دیں گے اور بہت سے کمزور ایمان والے مسلمان مالی مفاد کی خاطر دجال کی ہمنوائی کرنے لگیں گے۔ حضرت عبید بن عمیر اللیثی فرماتے ہیں کہ دجال نکلے گا تو کچھ ایسے لوگ اس کے ساتھ شامل ہوجائیں گے جو یہ کہتے ہوں گے کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ یہ (دجال) کافر ہے ، بس ہم تو اس کے اتحادی اس لیے بنے ہیں کہ اس کے کھانے میں سے کھائیں اور اس کے (باغات) میں اپنے مویشی چرائیں۔ چنانچہ جب اﷲ کا غضب نازل ہوگا تو ان سب پر نازل ہوگا۔ (الفتن نعیم بن حماد ۲/۵۴۶) علامہ شہرستانی نے الملل والنحل میں دجال کے حوالہ سے حافظ ابن حزم کا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دجال کا کرشمہ (حیل) یعنی ٹیکنالوجی کی نوعیت کا ہوگا۔ایک حدیث میں دجال کے حیرت انگیز کرشموں کا ذکر کیا گیا ہے ۔ چنانچہ حضرت اسماء بنت یزید انصاریہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ا میرے گھر تشریف فرماتھے ، آپ نے دجال کا بیان فرمایا اور فرمایا اس کے فتنے میں سب سے خطرناک فتنہ یہ ہوگا کہ وہ ایک دیہاتی کے پاس آئے گا اور کہے گا کیاخیال ہے اگرمیں تیری (مری ہوئی) اونٹنی زندہ کردوں تو کیا تو نہیں مانے گاکہ میں ہی تیرا رب ہوں؟ دیہاتی کہے گا ہاں۔ آپ ا نے فرمایا اس کے بعد شیاطین اس کے اونٹ جیسا بنادیں گے ، اس سے بھی بہتر جس طرح وہ دودھ والی تھی اورپیٹ بھرا ہوا تھا (اسی طرح) دجال ایک ایسے شخص کے پاس آئے گا جس کے باپ اور بھائی مرگئے ہوں گے ، ان سے کہے گا کیا خیال ہے اگر میں تیرے باپ اور بھائی کو زندہ کردوں تو تو پھر بھی نہیں پہچانے گا کہ میں تیرا رب ہوں؟ تو وہ کہے گا کیوں نہیں۔ چنانچہ شیاطین اس کے باپ اور بھائی کی شکل میں آجائیں گے۔ یہ بیان کرکے آپ ا باہر کسی کام سے تشریف لے گئے،پھر کچھ دیر بعد آئے تو لوگ اس واقعہ سے رنجیدہ تھے ، آپ ا دروازے کی دونوں چوکھٹیں پکڑ کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا اسماء کیا ہوا؟ تو حضرت اسماء نے فرمایا یا رسول اﷲ ! آپ نے تو دجال کا ذکرکرکے ہمارے دل ہی نکال دئے۔ اس پر آپ نے فرمایا : اگر وہ میرے ہوتے ہوئے نکل آیاتو میں اس کے لیے رکاوٹ ہوں گا ورنہ میرا رب ہر مومن کے لیے نگہبان ہوگا۔ پھر اسماء نے پوچھا یا رسول اﷲ !ہم آٹا گوندھتے ہیں تو اس وقت تک روٹی نہیں پکاتے جب تک بھوک نہ لگے تو اس وقت تک اہلِ ایمان کی کیا حالت ہوگی؟ آپ نے فرمایا ان کے لیے وہی تسبیح وتحمید کافی ہوگی جو آسمان والوں کو کافی ہوتی ہے ۔ (الفتن لابی نعیم بن حماد ۲/۵۳۵)عصر حاضر کی دجالی طاقتیں تین محاذوں سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ (۱)تعلیمی وفکری محاذ (۲) مالی وغذائی محاذ (۳) ثقافتی محاذ۔ ان تینوں محاذوں سے اس وقت دجل وفریب کا بازار گرم ہے ۔ اور دجال اکبر کے لیے اسٹیج تیار کیا جارہا ہے ۔ جہاں تک تعلیمی میدان کا تعلق ہے تو مخلوط طرز تعلیم آزادی فکر پر مبنی نصابِ تعلیم۔ مقاصدِ تعلیم میں صرف مادّیت پر زورجیسی شکلوں میں دجالی فتنے دندنا رہے ہیں۔ پھر سودی بینکنگ سسٹم ، لائف انشورنس ، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعہ مالی نظام پر دجال کے چیلوں کی گرفت مضبوط ہوتی جارہی ہے۔اس کے علاوہ اوپن کلچر، آزادئ نسواں ، فیوچر پلاننگ اور جنسی انارکی کے ذریعہ ساری دنیا پردجالی تہذیب مسلط کی جارہی ہے۔دجال کبیر کا ظہور تو قربِ قیامت پر ہوگا لیکن دجالی اثرات اور دجالی طرزِ فکر ابھی سے سارے عالم پر چھاتا جارہا ہے ۔ دجالی فکر اسلامی فکرسے بالکلیہ طور پر متصادم ہے ۔ اور اس وقت مغرب اور یہودونصاریٰ اسی دجالی فکرکی نمائندگی کررہے ہیں۔ بقول مولانا طالب جلال ندوی :

’’مغربی نظام کے ہر گوشے میں دجالیت کی موجیں ٹھاٹھیں ماررہی ہیں۔ دجالیت ہر شعبے میں اسلام سے برسرپیکارہے ۔ اسلام کا تصور یہ ہے کہ دین اصل ہے ، دنیا اس کے تابع ہے ۔ ترجیحات میں دین ہمیشہ نمبر ایک پر رہے گا اور دنیا ہمیشہ نمبر دو پر رہے گی۔ اور دجالی تصور یہ ہے کہ دنیا میں ترقی کرنی ہے تو دنیا کو نمبر ایک پر رکھنا ہوگا اور دین کو نمبر دو پر ۔ دین ایک نجی معاملہ ہے ، اس کا تعلق چند باطنی اعتقادات سے ہے ۔ دنیا میں کھاؤ پیو مستی کرو، فیوچر پلاننگ صرف دنیوی نقطۂ نظر سے کرو۔آج آخرت کے نقطۂ نظر سے فیوچر پلاننگ کروگے تو کچھ نہیں ملے گا۔‘‘

دجالی فتنو ں سے بچاؤ کی روحانی وعملی تدابیر:اب رہا یہ سوال کہ عالمگیر سطح کے ان دجالی اثرات سے مسلمان خود کو کیسے محفوظ رکھیں اور دجالی فتنوں سے تحفظ کے لیے کیا تدابیر اختیار کریں تو اس سلسلہ میں مفتی ابولبابہ شاہ منصور (جنہیں اس موضوع پر گہری بصیرت حاصل ہے ) کی کتاب ’’دجال جلد دوم‘‘ میں درج تدابیر کا خلاصہ پیش کرنا مناسب معلوم ہوتاہے۔چونکہ مفتی ابولبابہ شاہ منصور نے اس سلسلہ کی تمام تدابیر کا خوبی کے ساتھ احاطہ کیاہے۔

اس عظیم فتنے سے بچنے کے لیے قرآن وسنت اور نصوصِ شریعت کی عصری تطبیق سے اخذ کردہ روحانی وعملی تدابیر ملاحظہ فرمائیں:

روحانی تدابیر:۱) ہر قسم کے گناہوں سے سچی توبہ اور نیک اعمال کی پابندی۔

۲) اﷲ تعالیٰ پر یقین اور اس سے تعلق کو مضبوط کرنا اور دین کے لیے فدائیت (قربان ہونے) اور فنائیت (مرمٹنے) کا جذبہ پیدا کرنا۔

۳) آخری زمانے کے فتنوں اور حادثات کے بارے میں جاننا اور ان سے بچنے کے لیے نبوی ہدایات سیکھنا اور ان پر عمل کرنا۔

۴) دل کی گہرائیوں سے اﷲ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اﷲ تعالیٰ ہمیں فتنوں کا شکار ہونے سے بچائے اور حق کی مدد کے وقت باطل کے ساتھ کھڑنے کی بدبختی اور اس کے وبال وعذاب سے محفوظ رکھے ۔ اس دعا کا اہتمام کرنا :اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَھَرَ وَمَا بَطَنَ، اَللّٰھُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وّاَرْزُقْنَا اِتَّبَاعَہٗ، وَاَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلاً وَّارْزُقْنَا اِجْتِنَابَہْ۔

۵) ان تمام گروہوں اور نت نئی پیدا شدہ جماعتوں سے علیحدہ رہنا جو علمائے حق اور مشائخِ عظام کے متفقہ اور معروف طریقے کے خلاف ہیں اور اپنی جہالت یا خودپسندی کی وجہ سے کسی نہ کسی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

۶) امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے گناہوں بھرے شہروں کے بجائے حرمین شریفین ، ارضِ شام ، بیت المقدس وغیرہ میں رہنے کی کوشش کرنا ، خونی معرکوں میں زمین کے یہ خطے مؤمنوں کی جائے پناہ ہیں اور دجال ان میں داخل نہ ہوسکے گا ۔ ایسا ممکن نہ ہوتو اپنے شہروں میں رہتے ہوئے جید علمائے کرام کے حلقو ں سے جڑے رہنا۔

۷) پابندی سے تسبیح وتحمید اور تہلیل وتکبیر(آسانی کے لیے تیسرا اور چوتھا کلمہ کہہ لیں) کی عادت ڈالی جائے۔ دجال کے فتنے کے عروج کے دنوں میں جب وہ مخالفین پر غذائی پابندی لگائے گا ان دنوں ذکر وتسبیح غذا کا کام دے گی ، لہٰذا ہر مسلمان صبح وشام مسنون تسبیحات (درودِ شریف ، تیسرا (یا چوتھا) کلمہ اور استغفار کی عادت ڈالے ۔ ابھی سے تہجد کی عادت ڈالیں۔)

۸) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمانوں پر اٹھائے جانے اور خروجِ دجال کے بعد واپس زمین پر آکر دجال اور اس کے پیروکاریہودیوں کا خاتمہ کرنے (جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تکلیفیں دیں) پر یقین رکھے کہ یہ امت کا اجماعی عقیدہ ہے۔

۹) جب حضرت مہدی کا ظہور ہو اور علمائے کرام ان کو صحیح احادیث میں بیان کردہ علامات کے مطابق پائیں تو ہر مسلمان ان کی بیعت میں جلدی کرے۔ باطل پرست اور گمراہ وبے دین لوگ دجالی قوتوں کے جن نمائندوں کو فرضی روحانی شخصیات کہہ کر (مہدی موعود یا مسیح موعود) اور ان کی تشہیر کرتے ہیں ان سے دور رہنا اور ان کے خلاف کلمہ حق کہنے والے علمائے حق کا ساتھ دینا۔

۱۰) جمعہ کے دن سورۂ کہف کی تلاوت کرنا ، اس کی ابتدائی اور آخری دس آیات کو حفظ کرلینا اور صبح وشام ان کو دہرانا۔ ایک مشہور حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ دجال کے فتنے سے جو محفوظ رہنا چاہتا ہے اس کو چاہیے کہ سورۂ کہف کی ابتدائی یا اخری دس آیتوں کی تلاوت کرے۔ ان میں کچھ ایسی تاثیر اور برکت ہے کہ جب ساری دنیا دجال کی دھوکہ بازیوں اور شعبدہ بازیوں سے متأثر ہوکر نعوذباﷲ اس کی خدائی تک تسلیم کرچکی ہوگی اس سورت یا ان آیات کی تلاوت کرنے والا اﷲ کی طرف سے خصوصی حصار میں ہوگا اور دجالی فتنہ اس کے دل ودماغ کو متأثر نہ کرسکے گا، لہٰذا ہر مسلمان پوری سورۂ کہف یا کم از کم شروع یا آخرکی دس آیتوں کو زبانی یاد کرے اور ان کا دور کرتا رہے۔

عملی تدابیر:۱) صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین کے ملکوتی اخلاق پھیلانا:

صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم اجمعین کی تین صفات ہیں جنہیں اپنانے والے ہی مستقبل قریب میں برپا ہونے والے عظیم رحمانی انقلاب کے لیے کارآمد عنصر ثابت ہوسکیں گے:

پہلی صفت: صحابہ کرام کے دل باطنی بیماریوں اور روحانی آلائشوں یعنی تکبر، حسد، ریا ، لالچ ، بخل ، بغض وغیرہ سے بالکل پاک وصاف اور خالص ومخلص تھے، لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ سچے اﷲ والے ، متبعِ سنت بزرگ کی خدمت میں اپنے آپ کو پامال کرے اور ان کی اصلاحی تربیت کے ذریعے ان مہلک روحانی بیماریوں سے نجات سے حاصل کرنے کی کوشش کرے۔

دوسری صفت: وہ علم کے اعتبار سے اس عالمِ امکان میں علمیت اور حقیقت شناسی کی آخری حدوں تک پہنچ گئے تھے جہاں تک ان سے پہلے انبیاء کو چھوڑ کر نہ کوئی انسان پہنچ سکا اور نہ آئندہ پہنچ سکتا ہے ، لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ روحانی اور رحمانی علم کی جستجو کرے ۔ یہ علم اﷲ والوں کی صحبت کے بغیر حاصل نہیں ہوتا اور اس علم کے بغیر کائنات اور اس میں موجود اشیاء حوادث کی حقیقت سمجھ میں نہیں آسکتی۔

تیسری صفت:وہ روئے زمین پر سب سے کم تکلف کے حامل بننے میں کامیاب ہوگئے ۔ ہر مسلمان بے تکلفی، سادگی اور جفاکشی اختیار کرے۔ مغرب کی ایجاد کردہ طرح طرح کی سہولیات اور عیش وعشرت کے اسباب سے سختی کے ساتھ بچیں۔ ہر طرح کے حالات میں رہنے ، کھانے، پینے اور پہننے کی عادت ڈالیں۔ (تیز قدموں سے ) پیدل چلنے، تیراکی کرنے ، گھڑسواری ، نشانہ بازی اور ورزشوں کے ذریعے خود کو چاق وچوبند رکھنے کا اہتمام کریں۔

۲) مسلمانوں کی بقاء وفلاح اس میں ہے کہ اپنی نئی نسل میں جذبۂ جہاد کی روح پھونک کر اس دنیا سے جائیں اور اپنے اہل وعیال اور متعلقین کا اﷲ کے راستے میں جان ومال قربان کرنے کا ذہن بنائیں۔

۳) فتنۂ مال واولاد سے حفاظت:فتنۂ دجال دراصل ہے ہی مال کی محبت او رمادّیت پرستی کا فتنہ، اس لیے ضروری ہے کہ ہر مسلمان حلال وحرام کا علم حاصل کرے۔ ہر طرح کے حرام سے بالکل اجتناب کرے ۔ صرف اور صرف حلال مال کمائیں اور پھر اس میں سے خود بھی فی سبیل اﷲ خرچ کریں اور بچوں سے بھی اﷲ کے راستے میں خرچ کرواکر ان کی عادت ڈالیں ۔ اولاد کی دینی تربیت کریں اور ان کی محبت کو دینی کاموں اور جہاد فی سبیل اﷲ میں رکاوٹ نہ بننے دیں۔

۴) فتنۂ جنس سے حفاظت:(۱) مرد اور عورت کا مکمل طور پر علیحدہ علیحدہ ماحول میں رہنا جو شرعی پردے کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔

(۲) عورتوں کو زیادہ سے زیادہ شرعی مراعات دینا اور ان کی مخصوص ذمہ داریوں کے علاوہ دیگر ذمہ داریوں سے انہیں سبکدوش کرنا جو اُن کی فطرت اور شریعت کے خلاف ہے ۔

(۳) بالغ ہونے کے بعد مردوں اور عورتوں کی شادی میں دیر نہ کرنا۔

(۴) نکاح کو زیادہ سے زیادہ آسان بنانا اور فسخ نکاح کو زیادہ سے زیادہ منضبط بنانا ۔

(۵) کسی بھی عمر میں جنسی ونفسیاتی محرومی کو کم سے کم واقع ہونے دینا، لہٰذا بڑی عمروں کے مردوں اور عورتوں کو بھی پاکیزہ گھریلو زندگی گزارنے کے لیے نکاحِ ثانی کی آسانی فراہم کرنا۔

(۶) کثرتِ نکاح اور کثرتِ اولاد کو رواج دینا، ورنہ امت سکڑتے سکڑتے دجالی فتنے کے آگے سرنگوں ہوجائے گی۔

(۷) مردوں کی ایک سے زیادہ شادی، دوسری شادی ترجیحاً بیوہ، مطلقہ، خلع یافتہ یا بے سہارا عورت سے کی جائے۔

(۸) بیوہ ومطلقہ عورتوں کی جلد شادی۔

(۹) شادی کو خرچ کے اعتبار سے آسان تر بنانا اور نکاحِ ثانی اور بیوہ ومطلقہ سے شادی پر ہر طرح کی معاشرتی پابندیوں کا خاتمہ کرنا۔

(۱۰) معاشرے میں آسان ومسنون نکاح کی ہمت افزائی کرنا اور مشکل نکاح سے (جس سے غیر شرعی رسومات اور فضول خرچی پر مشتمل رواج ہوتے ہیں) ناپسندیدگی کا اظہار کرنا۔

(۱۱) ماہر اور تجربہ کار دائیوں کی زیر نگرانی گھر میں ولادت کاانتظام کرنا اور زچگی کے آپریشن سے حتی الوسع اجتناب کرنا۔

۵) فتنۂ غذا سے حفاظت:فتنۂ دجال اکبر کے سامنے سب سے زیادہ آسان شکار حلال وطیب کے بجائے حرام مال اور خبیث غذا سے پروردہ جسم ہوتا ہے ، لہٰذا جن چیزوں کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے ان سے اپنے آپ کو سختی سے بچایا جائے۔ حرام لقمہ، حرام گھونٹ اور حرام لباس سے خود کو آلودہ نہ ہونے دیاجائے۔ مصنوعی طور پر Cross-Polinationاور Hybridizationکے ذریعے پیدا کردہ غذاؤں نیز ڈبہ بند غذائی اشیاء اور جینیاتی وکیمیاوی طور پر تیار کردہ غذاؤں سے سختی سے پرہیز کیا جائے۔

۶) فتنۂ میڈیا سے حفاظت:(۱) دجالی قوتوں کا سب سے اہم ہتھیار’’دجل‘‘ ہے یعنی جھوٹ اور مکرو فریب ، جھوٹا پروپیگنڈہ ، جھوٹی افواہیں، جھوٹے الزامات، جھوٹے دعوے ، جھوٹا رعب ، جھوٹی دھمکیاں، مصدقہ جھوٹی خبریں جو غلط کو صحیح بتائیں اور مبینہ جھوٹی رپورٹیں جو سچ کو جھوٹ میں چھپادیں ۔

یہ سب کچھ اور اس جیسا اور بہت کچھ دجالی کے ہر کاروں کے مخصوص حربے ہیں۔ اس دور کے انسانوں پر لازم ہے کہ جدید ذرائعِ ابلاغ کے فتنے سے خود کو بچائیں اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ (صبح شام) سورۂ کہف کی ابتدائی وآخری آیات پڑھ کر اﷲ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ انہیں حق وباطل میں اور اصل ودجل میں تمیز کی صلاحیت عطاکرے۔

(۲) اس دعا کے ساتھ ہر طرح کے گناہوں سے بچیں اور ظاہر وباطن میں تقویٰ کا اہتمام کریں کہ اس کی برکت سے اہلِ ایمان کو ’’فرقان‘‘عطاہوتا ہے یعنی ایسی فہم وفراست جس سے صحیح اور غلط، سچ اور جھوٹ میں فرق کی صلاحیت پیدا ہوجائے۔

(۳) میڈیا پر انحصار کرنے کے بجائے حقیقتِ حال معلوم کرنے کے نجی طریقے استعمال میں لائے جائیں۔

(۴) اگر جدید میڈیا سے خبریں سننی ہی پڑجائیں تو ان کی رَو میں بہہ جانے کے بجائے ان کا تجزیہ کیا جائے۔ جن اسلامی ممالک ، دینی افراد، نظریاتی تعلیمات ، جہادی تحریکات یا دینی اداروں کے متعلق افواہی خبریں فراہم کی جارہی ہیں، ان سے متعلق تحقیق کی جائے۔ اگر تضاد یا تعارض دکھائی دے تو اہلِ علم وصلاح کی بات پر اعتماد کیا جائے نہ کہ جھوٹی خبریں بیچ کر دجل پھیلانے والوں کے اصرار پر۔

(۵) دین ومذہب اور ملک وملت کے مفاد کے خلاف کسی بات کو آگے نہ پھیلایا جائے۔ کسی نیک نیت شخصیت یا ادارے ، تحریک وتنظیم کے خلاف مہم میں شریک ہونے بننے کے بجائے خیر کی بات پھیلائی جائے اور حسنِ ظن پر مبنی تبصرہ دوٹوک انداز میں بیان کیاجائے۔ افواہوں کا آسان شکار بننے کے بجائے مؤمنانہ فراست کا اظہار کیا جائے۔

۷) فتنۂ شیطانیت سے حفاظت:شیطان نے جنت سے نکالے جانے کے وقت قسم کھائی تھی کہ وہ آدم کی اولاد کو گمراہ کرنے کا ہر وہ جتن کرے گا جس کے ذریعے وہ اسے جنت میں داخلے سے روک سکے اور اس میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا ۔ شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار چونکہ دجال ہے، اس لیے شیطان کی پوجا اور دجال کی جھوٹی خدائی کو تسلیم کرنا دونوں ہم معنی باتیں ہیں۔ ان دونوں چیزوں یعنی شیطانیت اور دجالیت کی تعظیم وتشہیر کے لیے آج کل کچھ شیطانی علامات اور دجالی نشانات دنیا بھر میں باقاعدہ منصوبے کے تحت پھیلائے جارہے ہیں اور ان کو فروغ دے کر عنقریب ظہو رکرنے والے ’’ایک چشم شیطان‘‘ سے لوگوں کو مانوس کیا جارہا ہے ۔ اپنے گردوپیش میں پھیلی ہوئی ان علامات کو پہچاننا اور ان کی نحوست سے خود کو اوردوسروں کو بچانا اور ان کے پیچھے چھپے ہوئے خفیہ شیطانی پیغام کو مسترد کرکے رحمان کے مبارک پیغامات کو پھیلانا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے ۔ ان علامات میں سب سے مشہور اکلوتی آنکھ ہے۔ جو دجال کی معیوب اور قابلِ نفرت پہچان ہے ۔

سب سے بڑھ کریہ کہ دوشیطانی کاموں سے بچنے کی کوشش جوشیطان کی پوجاکرنے والوں اوردجال کی راہ ہموارکرنے والوں کاسب سے آزمودہ گرہیں۔(۱) فحاشی یعنی جنسی بے راہ روی، جس کی کوئی انتہا نہیں اور یہ انسان کو حیوانیت(کتے ، بلی) کی سطح تک لے جاتی ہے۔ یعنی ’’اسفل السافلین‘‘ تک جہاں وہ بآسانی دجال کا غلام اور شیطان کا پجاری بن جاتا ہے ۔(۲) جادوگر:شیطان کوخوش کرکے دنیاوی فوائد(دولت ،شہرت،جنسی تسکین) لوٹنے اورمافوق الفطرت شیطانی قوتوں سے یہ مدد حاصل کرنے کے لیے آج کل جادو کو سائنٹفک طریقے سے فروغ دینے کے لیے شیطان کے چیلے جدیدترین اندازاختیارکررہے ہیں۔اس شیطانی دجال سے بچئے جس میں پھنسنے والاایمان سے ہاتھ دھوکردھوکے اورسراب میں پڑارہتا ہے،یہاں تک کہ اسے موت کے سکرات میں گھیرتے ہیں۔(دجال ۲/۱۷۸-۱۸۵)

(مضمون نگار اردو کے معروف قلمکار ہیں اور دارالعلوم حیدرآباد میں استاذِ حدیث  کی حیثیت سےخدمت انجام دے رہے ہیں )

The short URL of the present article is: http://harpal.in/g4Dnl

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.