Home / اہم ترین / درندگی سے بھر پور مآب لنچنگ – معمولی بات پرسفاکانہ پٹائی ،جلدی موت نہ ہو اس لئے پانی پلا پلا کر کی گئی پٹائی

درندگی سے بھر پور مآب لنچنگ – معمولی بات پرسفاکانہ پٹائی ،جلدی موت نہ ہو اس لئے پانی پلا پلا کر کی گئی پٹائی

مہندر گڑھ: (ہرپل نیوز؍ایجنسی)14؍اکتوبر: مہندر گڑھ میں ایک پسماندہ طبقہ کے طالب علم جس کا نام گورو بتایا جاتا ہے ، کو لاٹھی ڈنڈے سے جم کر پیٹا گیا۔ طالب علم ہسپتال میں علاج کے دوران دم توڑ گیا۔ طالب علم کی بے رحمانہ لاٹھیوں اور ڈنڈوں کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ حملے میں زخمی ہونے والا طالب علم دوران علاج دم توڑ گیا۔ وائرل ویڈیو میں مارتے پیٹتے بدمعاش کے ساتھ ساتھ ایک ایسا بھی سفاک نوجوان نظر آتا ہے ، جو طالب علم کو درمیان میں پانی پلاتا ہے ، تاکہ جلدی موت نہ ہوجائے ۔

یہ واقعہ 9 اکتوبر کا ہے ، لیکن ویڈیو اب منظر عام پر آئی ہے۔اس معاملہ میں مہندر گڑھ پولیس نے کئی لوگوں کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کیا ہے جن میں آدھا درجن نامزد ہیں۔ ایک ملزم وکی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ عدالت نے اسے دو دن کے ریمانڈ پر بھیجا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ طالب علم کی موت وحشیانہ مار پیٹ کی وجہ سے ہوئی ہے۔

18 سالہ گورو یادو 9 اکتوبر کی دوپہر مہندر گڑھ سے موٹر سائیکل سے گھر لوٹ رہا تھا۔ اسی دوران اسے روی ، کیپٹن ، اجے اور موہن سمیت 10 سے زیادہ لوگوں نے گاؤں مالدہ میں نہر کے قریب رو ک لیا۔ اس سے پہلے کہ گورو کچھ سمجھ پاتا بدمعاشوں نے اسے چاروں اطراف سے گھیر لیا۔جبکہ ایک ملزم اس واقعے کی ویڈیو بنا رہا تھا ، دوسروں نے گورو پر لاٹھی چلائی ۔

ایک شخص اسے بچانے آتا ہے جسے ملزمان وہاں سے ہٹا دیتے ہیں ۔گورو ہاتھ جوڑ کر رحم کی بھیک مانگتا رہا ، لیکن ملزم اس پر حملہ کرتا رہا۔ کچھ دیر رکنے کے بعد ملزم گورو کو پینے کے لئے پانی دیتا ہے ، اور پھر اسے مارنے لگ جاتے ہیں ۔بتایا جا رہا ہے کہ اس کے بعد بدمعاش اسے ایک ہوٹل کے پیچھے لے گئے،یہاں بھی گورو کو بری طرح پیٹا گیا۔ کچھ دیر بعد ملزمان اسے بے ہوش چھوڑ کر بھاگ گئے ۔ گورو کے رشتہ دار اسے ہسپتال لے گئے ، جہاں وہ اسی دن فوت کر گیا۔ذرائع کے مطابق 15 ستمبر کو اس علاقہ میں دیوی جاگرن کا انعقاد کیا جا رہا تھا۔ یہیں گورو اور روی عرف لنگڑا کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوگیا۔

وائرل ویڈیو میں روی کو بے رحمی سے مارتے اور گالیاں دیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے 3 مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔اب دیکھنا ہے کہ پولیس اس سلسلے میں کیا کاروائی کرتی ہے ، اور کب تک ملزمان کو گرفتار کرتی ہے ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/Uyp0h

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.