Home / اہم ترین / دہلی فسادات: آصف اقبال تنہا اور دیگرکو دہلی ہائی کورٹ سے ملی ضمانت۔’احتجاجی مظاہرہ دہشت گردی نہیں‘ عدالت کا تبصرہ۔ ایس ائی اونے کیا عدالت کے فیصلہ کے خیر مقدم

دہلی فسادات: آصف اقبال تنہا اور دیگرکو دہلی ہائی کورٹ سے ملی ضمانت۔’احتجاجی مظاہرہ دہشت گردی نہیں‘ عدالت کا تبصرہ۔ ایس ائی اونے کیا عدالت کے فیصلہ کے خیر مقدم

نئی دہلی(ہرپل نیوز، ایجنسی)15 جون۔گزشتہ سال قومی راجدھانی میں ہوئے تشدد کے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم آصف اقبال تنہا، جے این یو طالبہ نتاشا نروال اور دیوانگنا کلیتا کو ضمانت دے دی ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ احتجاجی مظاہرہ کرنا دہشت گردی نہیں ہے۔ قابل ذکر ہے کہ تینوں کو گزشتہ سال فروری مہینے میں دہلی میں ہوئے تشدد کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں ان لوگوں کے خلاف غیر قانونی سرگرمی (انسداد) ایکٹ یعنی یو اے پی اے بھی لگایا گیا تھا۔ہائی کورٹ کی جسٹس سدھارتھ مردل اور جسٹس انوپ جے رام بھمبھانی کی بنچ نے تینوں ملزمین کو ضمانت دینے سے انکار کرنے والی ذیلی عدالت کے حکم کو خارج کر دیا اور ان کی ضمانت عرضی کو منظور کر لیا۔ ضمانت 50 ہزار روپے کا نجی بانڈ داخل کرنے پر ملے گی۔ ضمانت کی شرائط میں تینوں کو اپنا پاسپورٹ جمع کرنا ہوگا اور ایسی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہوں گے جو معاملے میں رخنہ ڈالتی ہیں۔ انھیں ضمانت دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا کہ احتجاجی مظاہرہ کرنا دہشت گردی نہیں ہے۔

ہلی ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ملک کی سب سے بڑی اسلامی طلبہ تنظیم  ایس آئی او نے پریس بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ "آصف اقبال تنہا، دیوانگنا کالیتا اور نتاشا ناروال کو دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت ملنے کے فیصلہ کا ہم استقبال کرتے ہیں۔  ایس ائی او کا ماننا ہے کہ ’’سی اے اے مخالف تحریک کی نوجوان قیادت کمزور کرنے کے لئے ان تینوں سمیت کئی اور افراد کو دہلی فساد کے الزام میں تقریبا ایک سال پہلے جیل میں بند کردیا گیا تھا۔ یہ عمل سراسر ناانصافی اور ظلم پر مبنی تھا۔"

واضح رہے کہ راجدھانی دہلی میں فروری 2020 میں ہوئے تشدد میں 50 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی تھی۔ تشدد کے دوران کئی دکانوں کو پھونک دیا گیا تھا اور عوامی ملکیت کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ متنازعہ شہریت قانون کو لے کر یہ تشدد ہوا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ کچھ وقت پہلے نتاشا نروال کے والد کی کورونا سے موت ہو گئی تھی، جس کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے نتاشا کو ضمانت دے دی تھی۔ نتاشا کو 50 ہزار کے نجی مچلکہ پر رِہا کیا گیا تھا۔ عدالت نے نتاشا سے پولس کے رابطہ میں رہنے اور اپنا موبائل نمبر دینے کے لیے کہا تھا۔ بعد میں ضمانت کی مدت ختم ہونے کے بعد نتاشا واپس تہاڑ جیل چلی گئی تھی۔ نتاشا اور دیوانگنا کو فسادات سے جڑے الزام کے معاملے میں گزشتہ سال فروری میں گرفتار کیا گیا تھا۔بتایا گیاہے کہ  نتاشا نروال اور دیوانگنا کلیتا جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں، جو پنجرا توڑ کلیکٹو سے جڑی ہیں۔آصف اقبال تنہا جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بی اے (آنرس)، فارسی پروگرام کے آخری سال کے طالب علم ہیں۔ انھیں مئی 2020 میں یو اے پی اے کے تحت دہلی فسادات کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا اور تب سے لگاتار حراست میں ہیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/QxS3o

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.