Home / اہم ترین / دہلی یونیورسٹی کے نئے کالجوں کے نام بدل کر ساورکر-سشما سوراج رکھنے پر عآپ لیڈر نے کہا نام سے کوئی فرق نہیں پڑتا

دہلی یونیورسٹی کے نئے کالجوں کے نام بدل کر ساورکر-سشما سوراج رکھنے پر عآپ لیڈر نے کہا نام سے کوئی فرق نہیں پڑتا

نئی دہلی:(ہرپل نیوز؍ایجنسی) یکم نومبر:دہلی یونیورسٹی کے دو نئے کالجوں کا نام سشما سوراج اور ویر ساورکر کے نام پر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس پر دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے کہا کہ کالج کا نام کسی کے بھی نام پر رکھ لیے، لیکن بچوں کو اچھی تعلیم ملنی چاہیے۔ دہلی میں ڈینگو کے بڑھتے ہوئے معاملات پر نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس وقت صورتحال قابو میں ہے۔ ہم صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور اندازہ لگا رہے ہیں۔ سسودیا نے بے روزگاری، مہنگائی اور معیشت پر بھی تبصرہ کیا۔سسودیا نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ دہلی میں دو نئے کالج کھل رہے ہیں۔ دہلی یونیورسٹی ایک ایسی یونیورسٹی ہے جس کا ماضی بہت شاندار ہے، دہلی کے لوگوں اور ملک کے لوگوں کے لیے۔ دہلی میں مزید دو کالج کھولے جائیں یہ تو اچھی بات ہوگی ۔ کالج کا نام کسی کے نام پر رکھ لیجیے لیکن بچوں کو پڑھائیے۔ کالج کا نام کسی کے بھی نام پر رکھا جائے لیکن بچوں کو اچھی تعلیم ملے یہ ضروری ہے۔

نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کووڈ کی وجہ سے معیشت میں گراوٹ آئی ہے، جس کا اثر بے روزگاری کی صورت میں دیکھنے کو ملا ہے اور مزید ملے گا۔ اس کے لیے ہماری طرف سے غریب لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے شروع کی گئی تمام اسکیموں کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ لوگوں کو رات کو بھوکا نہیں سونے دیا گیا، یہ ذمہ داری حکومت نے لی ہے۔ غریب لوگ، تعمیراتی کارکن، آٹو ڈرائیور، ٹیکسی ڈرائیور، بی پی ایل میں آنے والے لوگ، ان سب کو لاک ڈاؤن کے دوران حکومت کی طرف سے نقد امداد دی گئی تاکہ ان کی روزی روٹی جاری رہ سکے۔ اب حکومت روزگار کے لیے ایک اسکیم لے کر آرہی ہے، جو کچھ دنوں بعد شروع کی جائے گی۔

ایک طرف جہاں آہستہ آہستہ سب کچھ کھل رہا ہے، لوگوں کو کام کرنے والوںکی ضرورت ہے، کام کرنے والے خالی بیٹھے ہیں، وہیں حکومت ان دونوں کو میچ کرانے کے حکومت ایمپلائمنٹ مارکیٹ 2.0 پر کام کر رہی ہے۔یہ عام آدمی کے لیے سب سے بڑی مصیبت کا وقت رہا ہے اور حکومت اس میں ہر ممکن مدد کر رہی ہے۔ اسی لیے دہلی کی کیجریوال حکومت نے غریبوں پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کا کام کیا ہے۔ عوام کو بجلی اور پانی کا خرچہ برداشت نہیں کرنا پڑتا، خواتین کا سفر مفت ہے، بچوں کی تعلیم کا خرچہ نہیں اٹھانا پڑتا، علاج کا خرچہ برداشت نہیں کرنا پڑتا۔ بجلی، پانی، تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، ان سب پر حکومت نے مدد کی ہے تاکہ کسی غریب کو سر بائبل کا مسئلہ درپیش نہ ہو، حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/ZK1Xc

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.