Home / اہم ترین / راجدھانی دہلی میں جئے شری رام نہ کہنےپر مولانا پر قاتلانہ حملہ۔ تحقیقات میں جٹی پولیس

راجدھانی دہلی میں جئے شری رام نہ کہنےپر مولانا پر قاتلانہ حملہ۔ تحقیقات میں جٹی پولیس

دہلی ( ہرپل نیوز، ایجنسی) 23جون: دہلی کے روہنی میں ایک مولانا پر قاتلانہ حملہ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ مولانا کا الزام ہے کہ کار سوار 3 بدمعاشوں نے’’جئے شری رام‘‘ بولنے کو کہا اور ایسا نہ کرنے پر انھیں کار سے ٹکر مار کر زخمی کر دیا۔دہلی میں ایک بار پھر ’جئے شری رام‘ کا نعرہ نہیں لگانے پر اقلیتی طبقہ کے ایک شخص کو نشانہ بنایا گیا۔ بری طرح سے زخمی مولانا مومن نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’روہنی میں جمعرات کو تین لوگوں نے ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کے لیے کہا۔ میں نے جیسے ہی انکار کیا تو انھوں نے میرے اوپر کار چڑھانے کی کوشش کی اور قاتلانہ حملہ کیا۔‘‘ پولس نے اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کر لی ہےاور مولانا کے دعووں کی جانچ کر رہی ہے۔
پولس کو دی گئی اپنی شکایت میں مولانا مومن نے کہا ہے کہ ’’جمعرات کو جب وہ مسجد سے نکل کر مدرسے کے پاس ٹہل رہے تھے تو ان کے پاس کار پر سوار کچھ نوجوان پہنچے۔ کار میں بیٹھے کچھ لوگوں نے انھیں ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کو کہا اور جب انھوں نے ایسا نہیں کیا تو انھیں کار سے ٹکر ماری گئی۔‘‘ حیرانی کی بات یہ ہے کہ پولس نے اس پورے معاملے کو ہلکے میں لیا ہے اور اسے محض حادثہ قرار دیتے ہوئے ایکسیڈنٹ کا معاملہ درج کیا ہے۔ اب دہلی پولس مولانا مومن کے الزامات کی جانچ میں مصروف ہو گئی ہے۔ پولس اس معاملے میں واقعہ کی جگہ پر موجود سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی دہلی میں ’جئے شری رام‘ کا نعرہ لگوانے کا دباؤ ایک ڈاکٹر پر بنایا گیا تھا۔ دراصل مہاراشٹر کے مشہور ڈاکٹر اور رائٹر ارون گڈرے راجدھانی دہلی کے مصروف ترین علاقہ کناٹ پلیس میں ٹہل رہے تھے جب نامعلوم افراد نے انھیں جبراً جئے شری رام کا نعرہ لگانے کو کہا۔ واقعہ اسی سال 26 مئی کا ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/gvjoZ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.