Home / اہم ترین / رنجن گوگوئی راجیہ سبھا کے رکن نامزد ۔حکومت کے فیصلے پر ماہرین قانون کا تیکھا رد عمل ۔ٹوئٹر پر سوالات کی بوچھار ۔کیا یہ کسی خاص فیصلہ کا انعام ہے ؟

رنجن گوگوئی راجیہ سبھا کے رکن نامزد ۔حکومت کے فیصلے پر ماہرین قانون کا تیکھا رد عمل ۔ٹوئٹر پر سوالات کی بوچھار ۔کیا یہ کسی خاص فیصلہ کا انعام ہے ؟

نئی دہلی (ہرپل نیوز،ایجنسی) 17مارچ: حکومت نے سابق چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی کو راجیہ سبھا کیلئے نامزد کیا ۔ اس ضمن میں وزارت اُمور داخلہ نے اعلامیہ جاری کردیا ہے ۔ اس کے مطابق صدرجمہوریہ نے دستوری اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے رنجن گوگوئی کو راجیہ سبھا کے لئے نامزد کیا ہے جہاں وہ ایک نامزد رکن کی سبکدوشی کے سبب خالی نشست کو پُر کریں گے ۔ یہ نشست کے ٹی جی تلسی کے ریٹائرمنٹ کے سبب خالی ہوئی ۔ گوگوئی نے پانچ ججوں کی اُس بنچ کی قیادت کی تھی جس نے گزشتہ سال 9 نومبر کو حساس نوعیت کے بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی ایودھیا اراضی تنازعہ کا فیصلہ سنایا تھا ۔ اُسی ماہ وہ سی جے آئی کی حیثیت سے سبکدوش ہوگئے ۔ گوگوئی نے اُن بنچوں کی قیادت بھی کی تھی جنھوں نے رافیل لڑاکا جٹ معاملہ اور سبری مالا مندر میں عورتوں کے داخلے جیسے متعلق اُمور پر فیصلے دیئے تھے۔ دوسری جانب سیاسی حلقہ سے لے کر ماہرین قانون بھی صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کے ذریعہ سبکدوشی کے محض چار ماہ بعد رنجن گوگوئی کو راجیہ سبھا رکن بنائے جانے سے حیران ہیں۔ اس فیصلہ نے کئی ایسے سوال بھی کھڑے کر دیے ہیں جس کا جواب ہنوز ملتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے۔ سینئر وکلاء سنجے ہیگڑے، پرشانت بھوشن، گوتم بھاٹیا اور آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) سربراہ اسدالدین اویسی تک نے سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی کو راجیہ سبھا رکن بنائے جانے پر سوال کھڑے کیے ہیں۔سپریم کورٹ کے سینئر وکیل سنجے ہیگڑے نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’اب یہ صرف ان کے (رنجن گوگوئی) ذاتی جیوڈیشیل ریکارڈ کا حصہ نہیں ہے۔ اس طرح سے انھوں نے اپنے ساتھ بیٹھنے والے سبھی ساتھی ججوں کی آزادی اور غیر جانبداری پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔‘‘ سینئر وکیل گوتم بھاٹیا نے تو اس قدم کو آزاد عدالت کی موت قرار دے دیا ہے۔ انھوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’چیزوں کے واضح ہونے میں کچھ وقت ضرور لگا اور وہ کھل کر سامنے آ گیا، لیکن ان سب کے بعد ’آزاد عدلیہ‘ کی موت ہو گئی۔‘‘اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی نے اپنے ٹوئٹ میں رنجن گوگوئی کو راجیہ سبھا رکن بنائے جانے کا نوٹیفکیشن شیئر کرتے ہوئے سیدھے یہ سوال کر دیا ہے کہ ’کیا یہ معاوضہ ہے؟‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ ’’کوئی شخص آخر کس طرح ججوں کی آزادی کا بھروسہ کر سکتا ہے۔ یہاں کئی سوال ہیں۔‘‘ یہاں قابل ذکر ہے کہ اسدالدین اویسی ایودھیا متنازعہ اراضی معاملہ میں بابری مسجد کے خلاف فیصلہ سنائے جانے سے پہلے ہی ناراض ہیں اور کئی اس فیصلہ پر انگلی بھی اٹھا چکے ہیں۔ سابق چیف جسٹس کو راجیہ سبھا رکن بنائے جانے کے بعد انھوں نے اپنی اس ناراضگی کو ایک بار پھر ظاہر کیا ہے۔
مشہور و معروف وکیل اور سماجی کارکن پرشانت بھوشن نے بھی سابق چیف جسٹس کو راجیہ سبھا رکن بنائے جانے کے بعد اپنا سخت رد عمل سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’جنسی استحصال کا الزام لگانے والے ملازم (جس کی ایک فرضی معاملے میں گرفتاری اور پٹائی ہوئی، شوہر اور بھائی کو ملازمت سے نکلوایا گیا) کو ڈرانے کے لیے حکومت کی مدد لینے کے بعد، اور ایودھیا و رافیل کیس حکومت کو تحفہ میں پیش کرنے کے بعد، گوگوئی راجیہ سبھا سیٹ سے نوازے گئے!‘‘
سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سربراہ دشینت دَوے نے سابق چیف جسٹس کو راجیہ سبھا رکن بنائے جانے کو پوری طرح سیاسی معاملہ قرار دیا ہے۔ انھوں نے ایک انگریزی روزنامہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ (راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا جانا) واضح طور پر سیاسی عمل ہے۔ یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ عدلیہ کو کس طرح پامال کیا جا رہا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’یہ عدالتی آزادی کی عدم موجودگی کا واضح ثبوت ہے۔‘‘

The short URL of the present article is: http://harpal.in/PdssS

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.