Home / اہم ترین / زرعی ترمیمی بل کی منظوری دستورکی دھجیاں اڑا دینے کے مترادف۔صدر جمہوریہ سے غلام نبی آزادکی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کی ملاقات : بل واپس لینے کامطالبہ

زرعی ترمیمی بل کی منظوری دستورکی دھجیاں اڑا دینے کے مترادف۔صدر جمہوریہ سے غلام نبی آزادکی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کی ملاقات : بل واپس لینے کامطالبہ

نئی دہلی (ہرپل نیوز ،ایجنسی)23ستمبر: قائد اپوزیشن راجیہ سبھامسٹر غلام نبی آزاد نے زرعی ترمیمی بل،land reforms bill کی منظوری کے خلاف آج صدر جمہوریہ ہند سے ملاقات اور نمائیندگی کے بعدایک صحافتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 18سیاسی جماعتوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ صدر جمہوریہ کو اس بات سے واقف کروایا جائے کہ کس طرح سے راجیہ سبھا میں کسانوں سے متعلق زرعی ترمیمی بل کومنظور کیا گیا۔انھوں نے کہا کہ کسان ہمارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، کسان دیش کے ان داتا ہیں۔ آج ہمارے ملک میں 70تا 80ہزارغریب خاندانوں میں جو اجناس تقسیم کیا جاتا ہے تو یہ صرف ہمارے دیش کے کسانوں کی وجہ سے ہے۔کیوں کہ وہ اپنا خون پسینہ ایک کرکے اناج پیدا کرتے ہیں۔ اور پھر ہم اس کو تقسیم کرتے ہیں۔ اس لئے کسانوں سے متعلق جو بل تھا سرکار کو کسانوں سے بات چیت کرکے پیش کرنا چاہئے تھا۔ کسانوں کے قائیدین سے اور اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے قائیدین سے بات چیت کرکے پیش کرنا چاہئے تھا۔ ملک کے شمالی، جنوبی، مشرقی، مغربی اور وسطی علاقوں کے قائیدین سے بات چیت کرکے پیش کرنا چاہئے تھا۔ 18اپوزیشن جماعتوں کے قائیدین سے اس بل کے بارے میں مشورہ کرنا چاہئے تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو کسان خوش ہوتے اور سب کا بھلا ہوتا۔ لیکن بد قسمتی سے سرکار نے نہ تو اس بل کو نہ تو قائیمہ کمیٹی کو بھیجا اور نہ ہی سیلیکٹ کمیٹی کو بھیجا۔ اگر ان دونوں کمیٹیوں کو بھیجا ہوتا تو اس صورت میں ایک بہت ہی اچھابل تیار ہوسکتا تھا جس سے کسانوں کو فائیدہ ہوسکتاتھا۔

غلا م نبی آزاد نے کہا کہ جب یہ بل ہمارے پاس راجیہ سبھامیں آیا تو ہماری سبھی پارٹیوں نے پانچ قرار دادیں دی تھیں۔ یہ قرار دادیں الگ الگ پارٹیوں کی تھیں۔ انھوں نے اس آر ڈیننس کے خلاف قرار داد پیش کی اور مطالبہ کیا کہ یہ ٓرڈینینس نہیں ہونا چاہئے تھا۔ اس پر ووٹنگ ہوتی تو بہتر تھا۔ اس کو سیلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے کا تمام پارٹیوں نے مطالبہ کیا تھا۔ 15پارٹیوں کی دستخط کے ساتھ صدر جمہوریہ کو اس معاملہ میں خط لکھا گیا۔ راجیہ سبھا میں جس طرح یہ بل پاس کیا گیا اسی طرح پچھلے برسوں سے جب سے یہ پارٹی اقتدار پر آئی ہے اسی طرح سے بل منظور کروائے جاتے ہیں۔ سیلیکٹ کمیٹی کو بل نہیں بھیجے جاتے۔لیکن اس بار خصوصی طور پر 16تا 17پارٹیاں ہماری تائید میں تھیں۔ بی جے پی کی دو پارٹیاں تھیں۔ اجتماعی رائے کو نہیں مانا گیا جس کے سبب یہ ہنگامہ ہوا۔ اس ہنگامہ کے لئے اپوزیشن ذمہ دار نہیں ہے۔ اس کے لئے سرکارذمہ دار ہے۔ پھر ہمارے ڈپٹی چیرمین جن کے خلاف ہم نے تحریک عدم اعتماد پیش کی انھوں نے دباؤ ڈال کر بل کو پاس کروانے کی کوشش کی۔۔لوک سبھا میں جو لوگ تھے ان کو کچھ معلو م ہی نہیں ہورہا تھاکہ کیا معاملہ ہورہا ے اور آواز تو راجیہ سبھا میں بھی سنائی نہیں دے رہی تھی۔ جو بل پاس ہوا اس کے خلاف قرار داد پیش کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں ملی۔ اس میں ووٹنگ نہیں ہوئی۔ ڈویژ ن آف ووٹس کے لئے ہمارے ساتھی چلا رہے تھے۔کہ ڈویژن کرو، موشن پر ووٹنگ کرو۔ لیکن نہ ووٹنگ ہوئی اور نہ ہی وائیس نوٹ ہوا۔ نہ ڈویژن ہوئی اور نہ ہی لابیز کلیئر ہوئیں۔ کوئی ڈویژ ن نہیں ہوئی۔ اس طرح ہندوستانی دستور کی، قواعد کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ ہندوستان کے سب سے بڑے جمہوری ادارے و دستوری ادارے میں دستور کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔۔ اس لئے ہم سب جماعتوں نے مل کرنمائیندگی کی ہے اور صدر جمہوریہ سے کہا ہے کہ یہ بل صحیح انداز میں منظور نہیں کیا گیا ہے۔ یہ غیر دستوری ہے۔عزت مآب راشٹر پتی جی آپ دستور ہند کے رکھوالے ہیں اس بل کو واپس بھیج دیں تاکہ اس پر دوبارہ چرچا ہوجائے اور بحث کے بعد جو اصلاحات ہیں وہ اصلاحات بھی لائی جائیں۔ اس پر دوبارہ ووٹنگ ہونی چائے تو تب ہی جاکر صحیح بات ہوگی۔ آپ اس بل کو واپس کردیں۔ جناب غلام نبی آزاد نے کہا کہ صدر جمہوریہ نے اس مطالبہ کے جواب میں کہا ہیکہ ٹھیک ہے اس پر غور کیا جائے گا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/UhyOK

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.