Home / اہم ترین / سدرشن ٹی وی کے ’’یو پی ایس سی جہاد‘‘ سے متعلق ’’بنداس بول ‘‘ کو مزید نشر کرنے پرسپریم کورٹ نے لگائی روک۔کورٹ نے بتائی یہ وجہ

سدرشن ٹی وی کے ’’یو پی ایس سی جہاد‘‘ سے متعلق ’’بنداس بول ‘‘ کو مزید نشر کرنے پرسپریم کورٹ نے لگائی روک۔کورٹ نے بتائی یہ وجہ

نئی دہلی( ہرپل نیوز ،ایجنسی) 15ستمبر:سپریم کورٹ نے مسلمانوں کی یو پی ایس سی کے امتحانات میں کامیابی سے متعلق سدرشن ٹی وی کے متنازعہ شو ’’بنداس بول‘‘ کی اگلی قسطوں کی نشریات پر اگلے احکامات پر روک لگا دی۔جسٹس ڈی وائی چندرچوڈ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے مشاہدہ کیا کہ در حقیقت اس پروگرام کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو بدنام کرنا ہے۔عدالت نے کہا کہ ’’آپ کسی ایک برادری کو نشانہ نہیں بناسکتے اور انھیں خاص طور پر نشان زد نہیں کرسکتے ہیں۔‘‘عدالت عظمیٰ نے چینل کے چیف ایڈیٹر سریش چوہانکے کی میزبانی والے شو کے ٹیلی کاسٹ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران یہ باتیں کہیں۔درخواست گزار نے کہا تھا کہ ’’یو پی ایس سی جہاد‘‘ کے عنوان سے یہ شو یوپی ایس سی میں مسلمانوں کے داخلے کو فرقہ وارانہ رنگ دے رہا ہے۔
عدالت نے کہا ’’آئینی حقوق اور اقدار کی حکومت کے تحت ایک مستحکم جمہوری معاشرے کی عمارت کا قیام برادریوں کے باہمی وجود پر ہے۔ ہندوستان تہذیبوں، ثقافتوں اور اقدار کا مجموعہ ہے۔ کسی بھی برادری کی بے حرمتی کرنے کی کسی بھی کوشش کو اس عدالت کے ذریعے ایک بدنظمی کے طور پر دیکھا جائے گا، جو کہ آئینی حقوق کی پاسدار ہے۔‘‘چینل کے لیے پیش ہوتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ شیام دیوان نے کہا کہ یہ شو ’’تحقیقاتی صحافت‘‘ اور ’’آزادی اظہار رائے کے مسئلے‘‘ کا حصہ ہے۔اس کے جواب میں جسٹس چندرچوڑ نے قطعی طور پر اس سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ آزادی اظہار کی بات نہیں ہے۔ جب آپ کہتے ہیں کہ جامعہ کے طلبا سول سروسز میں دراندازی کی سازش کا حصہ ہیں، تو یہ جائز نہیں ہے۔ آپ کسی ایک برادری کو نشانہ نہیں بنا سکتے اور انھیں کسی خاص طریقے سے نشان زد نہیں کرسکتے ہیں۔‘‘جسٹس چندرچوڑ نے کہا شو کے ذریعے ایک خاص برادری کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انھوں نے مزید کہا ’’قوم کی اعلیٰ عدالت کی حیثیت سے ہم آپ کو یہ کہنے کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں کہ مسلمان سول سروسز میں دراندازی کر رہے ہیں۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ صحافی کو ایسا کرنے کی پوری آزادی ہے۔‘‘درخواست گزار کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے وکیل شاہ رخ عالم نے عرض کیا کہ یہ شو آزادی اظہار رائے کے دائرے سے آگے نکل گیا ہے کیوں کہ چینل اپنے ناظرین کی طرف سے ردعمل طلب کر رہا ہے، جو مسلم برادری کے بارے میں متعصبانہ تبصرے کررہے ہیں۔
11 سے 14 ستمبر تک نشر ہونے والے شو کے چار ایپی سوڈ کے بارے میں جسٹس چندرچوڑ نے مشاہدہ کیا کہ ’’یہ پروگرام انتہائی بےبنیاد ہے۔ اس خاص برادری کے شہری یکساں امتحانات سے گزرتے ہیں اور یکساں پینل کو انٹرویو دیتے ہیں۔ کیا اس سے بھی یو پی ایس سی امتحان میں دخل اندازی ہوتی ہے؟ ہم ان مسائل سے کیسے نپٹتے ہیں؟ کیا اس کو برداشت کیا جاسکتا ہے؟
انھوں نے حیرت زدہ ہوتے ہوئے کہا ’’۔۔۔۔۔یہ کتنا متعصبانہ ہے؟ کسی ایسی برادری کو نشانہ بنانا جو سول سروسز کے امتحانات کے لیے حاضر ہو رہا ہے!‘‘

(بشکریہ دعوت دہلی)

The short URL of the present article is: http://harpal.in/CbYrJ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.