Home / اہم ترین / سوشیل میڈیا پر وائرل تصویر کا سچ ۔کیا بنگلورمیں ایک مسجد کا نام پی ایم مودی کے نام پر رکھا گیاہے؟

سوشیل میڈیا پر وائرل تصویر کا سچ ۔کیا بنگلورمیں ایک مسجد کا نام پی ایم مودی کے نام پر رکھا گیاہے؟

بنگلور( ہرپل نیوز، ایجنسی) 23جون:مسجد کے حوالے سے ایک فیک نیوز یہ عام کی جا رہی ہے کہ بنگلورمیں مسلمانوں نے ایک مسجد کا نام مودی مسجد رکھ دیا ہے۔ مسجد کی اندرونی تصویریں ٹوئٹر پر شئیر کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ’’بنگلور کے مسلمانوں نے ایک مسجد کا نام پرائم منسٹر مودی کے نام پر رکھا ہے، نہ معلوم کتنے لوگ یہ دیکھ کر خود کشی کر لیں گے‘‘ ٹوئٹر پر مادھو نامی شخص نے جو تصویریں شئیر کی تھیں ان میں مسجد کے اندر مودی کی تصویر بھی دکھائی گئی ہے اور انگریزی میں لکھا گیا ہے’’ مودی مسجد‘‘ آپ کو بتا دیں کہ اس شخص کو ٹوئٹر پر نریندر مودی اور سلمان خورشید خود فالو کرتے ہیں۔ دی وائر اردو میں شائع ایک تحقیقی خبر میں کہا گیا ہے کہ آلٹ نیوز نے انکشاف کیا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بنگلور کی مسجدھذا کا نام ’’ مودی مسجد‘‘ہی ہے لیکن یہ نام پرائم منسٹر نریندر مودی کے نام پر نہیں رکھا گیا ہے۔ بنگلور شیواجی نگر میں روزنامہ سالار کے دفتر کے پاس یہ مسجد تقریباً 175سال پرانی ہے جب مودی عبد الغفور نامی شخص کے نام پر اس کا نام مودی مسجد رکھا گیا تھا۔ گزشتہ دنوں میں اس مسجد کی تعمیر نو کی گئی تھی جس میں مسجد کو عالیشان بنایا گیا ہے ۔ جس کی وجہ سے یہ مسجد کئی دنوں سے خبروں میں مرکز گفتگو بنی ہوئی ہے ۔ جہاں تک ٹوئٹ میں عام کی گئی تصویروں کا سوال ہے تو انگریزی میں مودی مسجد کی تختی والی تصویر مسجد کی ہی ہے لیکن جس تصویر میں مودی کی تصویر موجود ہے،اور جو مسجد میں آویزاں کی گئی ہے یہ کسی دوسرے طبقے کی عبادت گاہ کا‌معاملہ ہے ۔ یہ بات ضرور غورطلب ہے کہ مسجدوں میں انسانی تصاویر لگانے کی اسلام میں اجازت نہیں ہے اس لئے یہ تصویر کسی دوسرے مقام کی معلوم ہوتی ہے۔اب ان دو نوں تصویروں کو
ایک ساتھ وائرل کر کے التباس میں ڈالا جا رہا ہے احتیاط ناگزیر ہے

The short URL of the present article is: http://harpal.in/HiXno

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.