Home / اہم ترین / شدید بارش سے حیدرآباد کے شہریوں پر قیامت صغریٰ،20 ہلاک۔بنڈلہ گوڑہ میں دیوار گرنے سے 3 کمسن بچوں سمیت 8 افراد زندہ دفن۔ کئی علاقے جل تھل۔حمایت ساگر سمیت تلنگانہ کے بیشتر آبی ذخائرلبریز، آئندہ 72 گھنٹے تک مسلسل بارش کی پیش قیاسی۔سخت چوکسی برتنے چیف منسٹر کی ہدایت۔

شدید بارش سے حیدرآباد کے شہریوں پر قیامت صغریٰ،20 ہلاک۔بنڈلہ گوڑہ میں دیوار گرنے سے 3 کمسن بچوں سمیت 8 افراد زندہ دفن۔ کئی علاقے جل تھل۔حمایت ساگر سمیت تلنگانہ کے بیشتر آبی ذخائرلبریز، آئندہ 72 گھنٹے تک مسلسل بارش کی پیش قیاسی۔سخت چوکسی برتنے چیف منسٹر کی ہدایت۔

حیدرآباد(ہرپل نیوز، ایجنسی) 14اکتوبر: ہندوستان کی کئی ریاستوں میں آج بادل پھٹ پڑے۔ کرناٹک، تلنگانہ، جنوبی مغربی اڈیشہ اور کیرالا میں پیر کی دوپہر سے موسلا دھار بارش جاری ہے۔ شمال مشرقی آندھراپردیش کے ساحل پر ہوا کے شدید دباؤ کے بعد آئندہ 5 دن تک کئی ریاستوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ساحلی کرناٹک، تلنگانہ، جنوب مغربی اڈیشہ، شمال مشرقی آندھراپردیش، شمالی مشرقی کرناٹک اور کیرالا میں شدید سے شدید تر بارش کی پیش قیاسی کی گئی ہے۔ آندھراپردیش میں بارش سے ہونے والے حادثات میں 9 افراد اور تلنگانہ میں11 افراد ہلاک ہوئے۔

بنڈلہ گوڑہ میں دیوار گرنے سے 3 کمسن بچوں سمیت 8 افراد زندہ دفن

شہر میں شدید بارش کے نتیجہ میں آج رات دیر گئے پرانے شہر کے علاقہ بنڈلہ گوڑہ چندرائن گٹہ میں ایک سانحہ پیش آیا جس میں 8 افراد بشمول 3 کمسن بچے زندہ دفن ہوگئے جبکہ 3 شدید زخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق بنڈلہ گوڑہ محمد نگر میں واقع محمدیہ ہلز کے خانگی فارم ہاؤز کی پتھر کی دیوار اچانک منہدم ہونے کے نتیجہ میں 3 مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ 2 خاندانوں سے تعلق رکھنے والے 8 افراد جائے حادثہ پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ مہلوکین کی شناخت عبدالصمد ، صبا، دو ماہ کے شیرخوار زین، ضہیب، انم اور دیگر کی حیثیت سے کی گئی۔ آج رات دیر گئے دیوار منہدم ہونے پر مقامی عوام نے ایک زبردست دھماکہ کی آواز سنی اور کچھ ہی دیر میں دیکھا کہ دو مکانات مکمل طور پر ملبہ میں تبدیل ہوگئے۔ اِس واقعہ کے بعد علاقہ میں سنسنی پھیل گئی اور رہائشی علاقہ کے افراد چیخ و پکار کرنے لگے۔ اِس واقعہ کی اطلاع ملنے پر چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن سے وابستہ پولیس عملہ، این ڈی آر ایف اور جی ایچ ایم سی کے ڈی آر ایف ٹیمیں جائے حادثہ پہونچ گئیں اور ملبہ میں دبی ہوئی نعشوں اور زخمیوں کو باہر نکالا۔ ڈپٹی کمشنر پولیس ساؤتھ زون گجا راؤ بھوپال نے بتایا کہ اِس حادثہ میں 8 افراد کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ 4 زخمی افراد دواخانہ میں زیرعلاج ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس فلک نما مسٹر ایم اے ماجد بھی جائے حادثہ پر پہونچ گئے اور راحت کاری کاموں کا جائزہ لیا۔ حادثہ کی اطلاع ملنے پر رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اسدالدین اویسی بھی پہونچ گئے اور معائنہ کیا۔ ایک خاتون اُس وقت ہلاک ہوئی جب وہ اپنے بیٹے اور بہو کے ساتھ سفر کررہی تھی کہ کار سیلاب کے پانی میں بہہ گئی۔ خلیج بنگال میں ہواء کے دباؤ کے اثرات نے ریاست تلنگانہ اور آندھرا پردیش کو بری طرح سے متاثر کیا ہے۔مسلسل بارش کو دیکھتے ہوئے محکمہ موسمیات کی جانب سے ریاست تلنگانہ میں ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا ہے اور ریاست آندھرا پریش میں بھی وشاکھاپٹنم ‘ مشرقی گوداوری‘ ویزاگ کے علاوہ کئی اضلاع میں ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے عوام کو گھروں سے نہ نکلنے کی تاکید کی گئی ہے۔ شہر حیدرآباد میں مسلسل بارش کا سلسلہ جاری ہے اور آئندہ 72 گھنٹوں کے دوران مسلسل ہلکی اور تیز بارش کی محکمہ موسمیات کی جانب سے پیش قیاسی کی گئی ہے ۔ ریاست تلنگانہ اور آندھراپردیش کے بیشتر تمام اضلاع میں 13اکٹوبر کی دوپہر سے مسلسل بارش کا سلسلہ جاری ہے اور کہا جارہاہے کہ آئندہ 3یوم کے دوران یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے کی گئی پیش قیاسی کے مطابق اندرون 24گھنٹے 90تا160 ملی میٹر یعنی 9انچ تا16 انچ بارش کے امکانات ہیں ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ نواحی و مضافاتی علاقو ںمیں مسلسل تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری ہے ۔ شہر کے کئی علاقوں میں طوفان بادوباراں کی صورتحال دیکھی جار ہی ہے۔ ریاست تلنگانہ کے بیشتر تمام اضلاع میں مسلسل بارش کے سبب تمام ذخائر آب لبریز ہوچکے ہیں اور محکمہ آبپاشی کی جانب سے جاریہ سال کے دوران آج چوتھی مرتبہ ناگرجنا ساگر سے پانی کے اخراج کے اقدامات کئے گئے ہیں۔ محکمہ آبپاشی کے عہدیداروں نے بتایا کہ 10سال بعدحمایت ساگر کی سطح آب مکمل ہوئی ہے اور کسی بھی لمحہ حمایت ساگر سے پانی کے اخراج کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے ۔ محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں اور پولیس کی جانب سے چادر گھاٹ ‘ موسی نگر‘ ندی موسی علی گوڑہ ‘ اسد بابانگر کے علاوہ رود موسی کی گذرگاہوں سے قریب قیام کرنے والوں کو چوکسی اختیار کرنے کی رتاکید کی جانے لگی ہے کیونکہ محکمہ کی جانب سے کسی بھی وقت پانی کی نکاسی کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ ریاستی تلنگانہ کے 5 بڑے ذخائر آب مکمل طور پر لبریز ہوچکے ہیں جن میں پلی چنتلہ‘ ناگرجنا ساگر‘ سری پدا یلم پلی ‘ ویلگوڑو اور جرالہ شامل ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں محکمہ آبپاشی کی جانب سے لبریز ہونے والے تمام ذخائرآب کی مکمل سطح کا جائزہ لیا جارہاہے۔ تلنگانہ میں سب سے زیادہ بارش ضلع کھمم میں ریکارڈ کی گئی اور گذشتہ 187.7ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ شہر حیدرآباد میں 57.4ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی ضلع رنگاریڈی میں 63ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔حمایت ساگر کی مکمل سطح آب 1763فیٹ ہے اور آج ریکارڈ کی جانے والی مسلسل بارش کے سبب 1762 فیٹ تک لبریز ہوچکا ہے جو کہ 10سال بعد ریکارڈ کی گئی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے تمام علاقو ںمیں مسلسل موسلادھار بارش ریکارڈ کی جارہی ہے ۔ چارمینار‘ فلک نما‘ چندرائن گٹہ‘ سنتوش نگر‘ ملک پیٹ‘ ونستھلی پورم‘ شاستری پورم‘ بنجارہ ہلز‘ بہادرپورہ‘ تاڑبن ‘ کالا پتھر‘ مادھا پور‘ آمنگل‘ رنگاریڈی‘خیریت آباد‘ لکڑی کا پل‘ بیگم پیٹ ‘ بندلہ گوڑہ ‘ حیدرگوڑہ ‘ لنگر حوض ‘ کاروان‘ سعیدآباد‘ گولکنڈہ کے علاوہ نامپلی ‘ معظم جاہی مارکٹ اور دیگر علاقوں میں مسلسل بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے شہر حیدرآباد میں مسلسل چوکسی اختیار کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں اور محکمہ آبرسانی اور آبپاشی کے عہدیداروں نے شہر حیدرآباد و سکندرآباد کے حدود میں موجود تالابوں کی سطح آب کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جی ایچ ایم سی اور محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں نے حسین ساگر کی سطح آب پر بھی گہری نظر رکھنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل آف پولیس مسٹر ایم مہیندر ریڈی نے ریاست بھر میں پولیس عہدیداروں کو چوکسی اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی اور 24گھنٹے مستعد رہنے اور کسی بھی طرح کی ہنگامی صورتحا ل میں عوام کی مدد کیلئے تیار رہنے کے لئے کہا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہناہے کہ یہ سلسلہ آئندہ 72 گھنٹوں تک جاری رہے گا ۔ شہر حیدرآباد میں مطلع مکمل ابر آلود ہونے اور گھنے بادل کے سبب سہ پہر سے ہی گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا گیا گیاتھا ۔مسلسل بارش کے دوران نشیبی علاقوں میں بارش کے پانی کو داخل ہونے اور جمع ہونے سے روکنے کے لئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عملہ کو چوکسی اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ رات دیر گئے موصولہ اطلاعات کے مطابق سری سیلم پراجکٹ کے 10دروازوں کو 15 فیٹ اونچا اٹھاتے ہوئے پانی کا اخراج عمل میں لایا جارہاہے۔ تفصیلات کے مطابق 4لاکھ کیوزکپانی پراجکٹ میں جمع ہورہا ہے جبکہ 3.60لاکھ کیوزک پانی کا اخراج عمل میں لایا جا رہا ہے۔ سری سیلم پراجکٹ میں آئندہ 24گھنٹوں کے دوران 10لاکھ کیوزک پانی جمع ہونے کا امکان ہے اسی لئے مسلسل پانی کے اخراج کو یقینی بنایا جارہا ہے۔

حیدرآباد میں 29 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ: شہر حیدرآباد میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 29 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔ رات 11 بجے تک حیات نگر میں 27.9 سینٹی میٹر ، سرور نگر میں 26.7 سینٹی میٹر ، اوپل میں 24.8 سینٹی میٹر بارش ہوئی ۔ تلنگانہ اسٹیٹ ڈیولپمنٹ پلاننگ سوسائیٹی نے کہا کہ سکندرآباد میں 21.5 سینٹی میٹر ، خیرت آباد میں 18.7 سینٹی میٹر ، شیخ پیٹ میں 14.5 سینٹی میٹر ، آصف نگر میں 19.5 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔ بنڈلہ گوڑہ میں 23.7 سینٹی میٹر ، مشیرآباد میں 24.5 سینٹی میٹر ، چارمینار 21.6 میٹر ، بالانگر 20.8 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔ بہادرپورہ ،دبیر پورہ ، نامپلی ، گولکنڈہ ، راجندر ، مہدی پٹنم میں 16 تا 15 سینٹی میٹر بارش ہوئی ۔

چند گھنٹوں کی بارش سے حیدرآباد زیرآب : گزشتہ شب سے جاری بارش نے آج منگل کی شام سے خطرناک صورتحال اختیار کرلی اور چند گھنٹوں تک موسلا دھار بارش نے سارے شہر کو عملاً تہس نہس کردیا۔ بارش نے بے انتہا تباہی مچائی۔ درجنوں بستیاں اور محلے پانی میں گھر گئے۔ کئی مقامات پر درخت اور برقی کھمبے گر پڑے۔ عوام جان بچانے کے لئے دوسرے مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے۔ پانی جمع ہونے کے لئے مشہور علاقہ ٹولی چوکی تو تالاب کی شکل اختیار کرگیا اور ندیم کالونی و دیگر مقامات سے پانی میں محصور عوام کو منتقل کرنے این ڈی آر ایف کی ٹیموں نے کشتیوں کا استعمال کیا۔ شہر کے بیشتر علاقوں خاص طور پر پرانے شہر کے ایک بڑے حصے میں عوام انتہائی بے بسی کی حالت میں دیکھے گئے۔ کئی گھروں میں پانی داخل ہوگیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پانی کی سطح میں اضافہ ہوتا گیا۔ کئی علاقوں میں 4 تا 5 فٹ پانی جمع ہوگیا۔ گھروں کا سامان پانی کے ساتھ بہنے لگا۔ لوگ خود کو بچانے کی فکر میں سامان کی حفاظت نہ کرسکے۔ شہر میں بعض مقامات پر گاڑیاں بہہ جانے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ شہر کے بیشتر علاقوں دبیرپورہ، یاقوت پورہ، ستار باغ، کالا پتھر، ٹولی چوکی، عطاپور، بنڈلہ گوڑہ، گنگا نگر، مولا کا چھلہ، تالاب کٹہ، بھوانی نگر، نشیمن نگر، معین باغ، کشن باغ، بہادر پورہ، سنتوش نگر، ملک پیٹ، جوبلی ہلز، مادھاپور، یوسف گوڑہ، رحمت نگر، صنعت نگر، بالانگر، ایرہ گڈہ میں کئی گھروں میں پانی داخل ہوگیا اور سڑکیں بھی جھیل میں تبدیل ہوگئیں۔ پرانے شہر کے کئی مقامات پر نالے اُبل پڑے جس کے نتیجہ میں آس پاس کے علاقوں کے گھروں میں پانی داخل ہوگیا۔ کئی مقامات پر درخت اُکھڑ جانے کی اطلاعات ہیں جبکہ کچھ مقامات پر برقی کھمبے بھی گر گئے ہیں۔ مسلسل بارش اور برقی کھمبے گرنے کی وجہ سے کچھ علاقوں میں برقی سربراہی کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ تاریکی کی وجہ سے عوام کی مشکلات میں اضافہ دیکھا گیا۔کاچیگوڑہ ریلوے اسٹیشن کی پٹریاں نہر کا منظر پیش کررہی تھیں۔ بلدیہ کی جانب سے ایمرجنسی خدمات کے لئے جو فون نمبرس دیئے گئے تھے وہ تقریباً تمام نمبر ناکارہ ہی ثابت ہوئے۔ عوام نے بتایا کہ درجنوں مرتبہ کوشش کرنے کے باوجود ایک بھی نمبر پر رابطہ نہیں ہوسکا۔ کئی مقامات پر عوامی نمائندے بھی سڑکوں پر دیکھے گئے اور بلدیہ کے عملہ سے رابطہ کرنے کی اُن کی کوششیں بھی بے سود ثابت ہوئیں۔ عنبرپیٹ میں بریج پر سے پانی بہنے لگا تھا اور نالہ اُبل گیا تھا جس کے نتیجہ میں اُس راستے کو عوام کے لئے بند کردیا گیا۔ ملک پیٹ محبوب گنج مارکٹ اور عثمان گنج مارکٹ میں بھی پانی جمع ہوجانے کی اطلاع ہے۔ شہر کی اہم سڑکوں پر بھی 2 تا 3 فٹ پانی جمع ہوگیا تھا جس کے نتیجہ میں گاڑیوں کا گزرنا بھی مشکل ہوگیا تھا۔ دونوں شہروں میں منگل کے دن ہوئی موسلادھار بارش کے نتیجہ میں علاقہ دھول پیٹ میں واقع ایک مکان پر تین چٹانیں گر پڑیں۔ اس واقعہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تفصیلات کے مطابق راجیش سنگھ کے مکان پر آج صبح اچانک تین چٹانیں آگریں اور اس کی آواز سے مقامی عوام خوفـزدہ ہوگئے۔ پہلے تو لوگوں نے یہ سمجھا کہ علاقہ میں زلزلہ آیا ہے لیکن دریافت کرنے پر راجیش سنگھ کے مکان پر چٹانیں آگرنے کا واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے راجیش سنگھ کے مکان کو شدید نقصان پہنچا۔ اس واقعہ میںکوئی جانی نقصان نہیں ہواہے۔بتایا جاتا ہے کہ یہ چٹانیں قریب میں موجود تھیں ۔

چیف منسٹر کا اعلیٰ عہدیداروں سے ربط ، سخت چوکسی کی ہدایت: ریاست بھر میں موسلا دھار بارش اور خاص طور پر حیدرآباد میں تشویشناک صورتحال کے پیش نظر چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے آج ڈائرکٹر جنرل پولیس، چیف سکریٹری اور ضلع عہدیداروں کو سخت چوکسی برتنے اور ہرممکن اقدامات کی ہدایت دی ہے۔ ریاست بھر میں بارش کی وجہ سے پیدا ہوئی صورتحال کے پیش نظر چیف منسٹر نے اعلیٰ عہدیداروں سے رابطہ کرتے ہوئے چوکسی اختیار کرنے کی ہدایت دی۔ اُنھوں نے نشیبی علاقوں کے عوام کو جو پانی میں محصور ہوچکے ہیں محفوظ مقامات کو منتقل کرنے کی ہدایت بھی دی۔ چیف منسٹر کی ہدایت پر چیف سکریٹری سومیش کمار نے بھی اعلیٰ عہدیداروں سے رابطہ کرتے ہوئے انتظامی عملہ کو 24 گھنٹے چوکسی کی حالت میں رہنے کے احکام جاری کئے اور تمام ذمہ دار عہدیداروں کو ہر وقت دستیاب رہنے کی ہدایت دی۔ اُنھوں نے مختلف شہروں کے کمشنران پولیس کو بھی بلدی عملہ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے عوام کی مدد کرنے پر زور دیا۔

عبادت گاہوں میں بھی پانی داخل: شہر میں ہوئی موسلا دھار بارش سے جہاں کئی علاقے زیرآب آگئے تھے وہیں کچھ عبادت گاہوں میں بھی پانی داخل ہوجانے کی اطلاع ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ کچھ مساجد کے علاوہ مندروں اور دوسری عبادت گاہوں میں پانی داخل ہوگیا تھا جس کی نکاسی کے لئے کوششیں شروع کردی گئی تھیں تاہم مسلسل بارش کی وجہ سے اِس کام میں مشکلات پیش آئیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/2nGgD

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.