Home / اہم ترین / طلبہ کی اخلاقی تربیت میں معاشرے کا کردار۔ از:سید تنویر احمد بنگلورو

طلبہ کی اخلاقی تربیت میں معاشرے کا کردار۔ از:سید تنویر احمد بنگلورو

بچوں کی اخلاقی تربیت میں والدین کے بعد جن عناصر کا کردار اہم ہے ان میں اسکول اور معاشرہ ہے۔ یہاں ہم معاشرے کے رول پر بات کریں گے۔ معاشرے میں بچے کا گھر، خاندان، دوست، محلہ، سماج اور ریاست شامل ہیں ۔علامہ اقبال نے کہا تھا کہ بچوں کی تربیت میں تین عناصر اہم ہیں اول بچوں کو حلال رزق کھلانا، دوم بچوں کے حق میں والدین کی دعا اور سوم بچوں کو صالح صحبت فراہم کرنا۔
معاشرے کی بنیاد گھر ہے: گھر میں بچہ ماں اور باپ کے ساتھ رہتا ہے۔ ماں اور باپ کے درمیان رشتوں کی نوعیت طلبہ کے اخلاق کو ترتیب دیتی ہے بلکہ اس کا اثر بچوں کی تعلیم پر بھی ہوتا ہے۔ والدین کے درمیان پیار، محبت اور الفت مطلوبہ درجے میں ہے تو بچے کی نفسیاتی تربیت بہتر ہوتی ہے۔ اگر والدین کے درمیان تعلقات میں کٹھاس ہوتی ہے تو اس کا واضح اثر طلبہ کے رویوں، اخلاق اور تعلیم پر مرتب ہوتا ہے۔نفسیات کے عناوین پر بحث کرنے والے رسالوں میں والدین کے آپسی تعلقات کے بچوں پر اثر سے متعلق عناوین پر وسیع مطالعاتی و ریسرچ پر مبنی مضامین موجود ہیں اور ان رسالوں میں ان بچوں کی اخلاقی تربیت اور رویوں پر بحث ملتی ہے جن کے سنگل پیرنٹ Single Parent(یعنی یا تو ماں ہوتی ہے یا باپ) ہوتے ہیں۔ ایسے بچے تعلیم میں بھی تھوڑا کمزور پائے گئے لیکن یہ کوئی مسلمہ رویہ نہیں ہے بلکہ بعض بچے سنگل پیرنٹ کے ساتھ رہنے کے باوجود بہت اچھے کردار اور نتائج کو ظاہر کرتے ہیں۔اگر والدین اپنے بچوں کو مضبوط بنیادوں پر تربیت کرنا چاہتے ہیں اور انہیں معاشرے کا مکمل صالح فرد بنانا چاہتے ہیں تو اپنے آپسی تعلقات کو بہتر بنائیں اور مندرجہ ذیل منفی کردار سے بچے رہیں۔

ماں باپ کے درمیان لڑائی: کم عمر میں بچوں کے لیے سب سے بڑی دولت ماں اور باپ ہی ہوتے ہیں۔ ان دونوں میں بچے ماں کو سب سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں اور یہ ایک فطری امر ہے لیکن باپ کی بھی اہمیت ہے اور کئی گھرانوں میں بچے ماں سے زیادہ باپ سے محبت کرتے ہیں۔ عام طور پر بچے جب چھوٹے ہوتے ہیں تو ان سے یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ ’’تم امی سے زیادہ پیار کرتے ہو یا ابو سے‘‘۔ جب بچے دیکھتے ہیں کہ اس کا باپ، امی کو ڈانٹتا ہے ۔ غلط رویہ اختیار کرتا ہے تو بچوں پر اس کے منفی اثرات ہوتے ہیں۔ بچوں میں تنائو جنم لیتا ہے۔ ایسے گھروں کے بچے اکثر گھر سے باہر رہنے میں بہتری محسوس کرتے ہیں۔ اسکول میں ان کا رویہ دوستوں کے ساتھ بہتر نہیں ہوتا۔ بھوک نہیں لگتی۔ تنائو کی وجہ سے قوت مدافعت کمزور ہوجاتی ہے۔ مثبت اخلاق جنم نہیں لیتے۔
میں نے بچوں اور والدین کی کونسلنگ کے دوران ایسے کئی دل کو چھولینے والے واقعات بچوں سے سنے ہیں۔ ایک معصوم بچے کے واقعے سے پہلے ایک بڑے شخص کا واقعہ سن لیں جن کے بچپن میں یہ پیش آیا تھا وہ شخص ہیں مسٹر جیفری لینگ ۔ جیفری لینگ امریکہ میں کنساس یونیورسٹی میں ریاضی کے پروفیسر ہیں۔ 1980میں موصوف نے اسلام قبول کیا۔ دین کی زبردست خدمت کررہے ہیں۔ انہوں نے اپنی آپ بیتی ایک لیکچر میں بیان کی ہے۔ یہ لیکچر یوٹیوب پر دستیاب ہے ۔ Dr. Jefferey lang-My journey to islam اس عنوان کے تحت آپ انہیں سن سکتے ہیں۔ اس لیکچر میں انہوں نے کہا کہ آپ کی زندگی میں پیش آنے والے واقعات میں سے ایک واقعہ جس نے ان کی زندگی پر بہت اثر ڈالا تھا وہ تھا ان کے باپ کا ان کی ماں کو پیٹنا۔ جیفری لینگ کی خاص بات یہ ہے کہ ان کے والد کا ماں کو پیٹنا انہیں حق تلاش کرنے میں معاون و مددگار ہوا لیکن ہر بچہ کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔ اس واقعے سے صرف ہم یہ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں کہ ماں باپ کے درمیان تعلقات بچوں کی زندگی اور زندگی کے نظڑیہ کو بھی تبدیل کردیتے ہیں۔ جیفری لینگ نے اس واقعہ سے مثبت راہ تلاش کی لیکن بڑی تعداد میں بچے اور بچیاں منفی جذبات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ایک اور سبق آموز واقعہ بیان کرنا چاہوں گا۔ شعیب (نام بدل دیا گیا ہے) دوسری جماعت کا ہونہار بچہ تھا۔ جس اسکول میں اس نے ایل کے جی اور یو کے جی کی تعلیم حاصل کی تھی اسی اسکول میں پرائمری ایجوکیشن کو جاری رکھا ،بچے کا سابقہ ریکارڈ بتارہا تھا کہ بچہ مکمل طور پر صحت مند اور نفسیاتی اعتبار سے نارمل تھا۔ لیکن تعلیمی سال کا آغاز ہوتے ہی اس کے رویے اور عادت میں غیر معمولی تبدیلی اسکول والوں نے محسوس کی۔ وہ تبدیلی یہ تھی کہ بچہ صبح 9 بجے اسکول تو آجاتا تھا لیکن 10:30بجے ہی مب وہ کلاس میں بے چینی کا اظہار کرتا تھا۔ گھر جانے کی ضد کرتا تھا۔ کلاس ٹیچر مجبور ہوجاتی تھی۔ ماں کو بلایا جاتا اور بچے کو ماں کے ساتھ گھر بھیج دیا جاتا ۔ بچہ تعلیم میں پچھڑ رہا تھا۔ دو ماہ بعد ماں، شعیب کو میرے پاس لائی۔ بچے کے متعلق میں نے کئی سوالات کیے ۔کئی باتیں ،چند ایک ترتیب کے ساتھ اور چند رویے بے ترتیب معلوم ہوئے۔ معمہ Puzzle کے مختلف ٹکڑوں کو جوڑ کر جس طرح ایک تصویر بنائی جاتی ہے ۔ اسی طرح میں ان معلومات کے مختلف ٹکڑوں کو ترتیب دے کر شعیب کے تشویشناک رویے کی تصویر بنانے کی کوشش کررہا تھا۔ بڑی حد تک کامیابی مل گئی تھی لیکن چند ٹکڑے ابھی اپنی جگہ نہیں پارہے تھے۔
کونسلنگ کا عمل تقریباً ایک ہفتہ جاری رہا۔ اس دوران میری کوشش یہ بھی تھی کہ شعیب سے دوستی کی جائے اور دوستی کو اس حد تک لے جایا جائے کہ وہ بے تکلف ہوجائے اور سب کچھ مجھے بتادے۔ چھٹے دن ہماری دوستی اس درجے پر پہنچ گئی جس کا انتظار تھا۔ اس دن میں نے شعیب سے پوچھا ۔ ’’شعیب کیا میں آج آپ کے ساتھ آپ کے گھر چلوں، ہم دونوں آپ کے گھر میں کھیلیں گے‘‘۔ اس سوال پر شعیب کے اندر میں نے ایک عجیب سی خوشی محسوس کی۔ شعیب نے فوری مجھ سے سوال کیا ’’انکل کیا آپ میرے ڈیڈی کے فرینڈ ہیں‘‘ میں نے بھی فوری جواب دیا ’’ہاں شعیب آپ کے ڈیڈی میرے بہت اچھے دوست ہیں‘‘۔ پھر فوری ایک اور سوال شعیب نے داغ دیا۔ پوچھا ’’انکل کیا میرے ڈیڈی آپ کی بات سنتے ہیں؟‘‘۔ میں نے کہا کیوں بیٹے کیا بات ہے۔ آپ کے ڈیڈی میری بات اچھی طرح سنتے ہیں۔ اس پر شعیب تھوڑی دیر کے لیے ساکت ہوگیا۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ اس معصوم کا دل و دماغ کسی بڑے مسئلے کے ساتھ کشمکش کررہا تھا۔ اس کا چہرہ بدل رہا تھا۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن کہنے کی ہمت نہیں کر پارہا تھا۔ وہ انکل کہتا اور رک جاتا تھا۔ اس نے ایسا تین بار کیا۔ میں نے اسے ہمت دلائی۔ وہ اپنی ممی کو دیکھتا اور پھر مجھے دیکھتا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ شائد وہ اپنی ممی سے گھبرا رہا ہے۔ میں نے شعیب کی ماں سے کہا ’’آپ تھوڑی دیر میری کیبن سے باہر چلی جائیں میں شعیب سے تنہائی میں بات کرنا چاہوں گا۔ شعیب کی ممی تردد کے ساتھ باہر چلی گئی۔ ممی کے باہر جاتے ہی شعیب کے تیور بدل گئے۔ چہرہ تبدیل ہوگیا۔ خوشی کی لہر دوڑ پڑی اور اس نے میری قریب آکر معصوم با ادب لہجے میں کہنے لگا ’’انکل ،انکل ڈیڈی کو بولو کہ وہ ممی کو نا جلائیں‘‘ شعیب کی زبان سے یہ جملہ سن کر میرے بدن میں ایک سرد لہر دوڑ گئی۔ میں نے بچے کو پیار کیا۔ اس کی پیٹھ تھپکی، سر پر ہاتھ رکھا۔ ممکنہ شفقت کا اظہار کیا اور کہا کہ شعیب میں ضرور کہوں گا۔ پھر شعیب کو یقین دلایا کہ آپ کے ڈیڈی بہت بہترین ڈیڈی ہیں۔ وہ آپ کی ممی کو بہت چاہتے ہیں وہ آپ کی ممی کو نہیں جلائیں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔
میں نے اس کے بعد شعیب کی والدہ کو بلایا اور شعیب کو باہر بھیج دیا۔ میں نے شعیب کی ممی سے یہ وعدہ لیا کہ وہ جو شعیب نے مجھ سے کہا وہ راز میں رکھیں گی اور شعیب کے سامنے اس کا ذکر نہیں کریں گی۔ پھر میں نے شعیب سے ہوئی بات چیت کو بتایا۔ ماں نے کہا ’’سر یہ بات غلط ہے‘‘۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔ میری شوہر سافٹ ویر انجینئر ہیں۔ ہم دونوں میں کسی قسم کی کھٹاس نہیں ہے۔ پھر میں نے کہا کہ کل شعیب کے ڈیڈی کو میرے پاس بھیجیں۔ دوسرے دن جب شعیب کے ڈیڈی میرے پاس آئے تو میں نے ابتدائی گفتگو کے بعد شعیب سے ہوئی میری گفتگو کو بیان کیا۔ اس پر وہ فوری ناراض ہوگئے۔ بلکہ انہوں نے مجھ پر میاں اور بیوی کے درمیان جھگڑا لگانے کی سازش کا الزام لگایا۔ میں نے ان کی کونسلنگ کی اور بچے کی نفسیاتی صحت کا ذکر کیا اور اس سے اس کے ذہن پر پڑنے والے اثرات کو واضح کیا تو پھر شعیب کے ڈیڈی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور انہوں نے کہا ’’سر چند ہفتوں پہلے شعیب کی ممی سے میری بہت ہی ہلکی بحث ہوگئی۔ میں نے بے قابو ہوکر کہا تھا کہ میں تمہیں زندہ جلادوں گا لیکن اب ہم دونوں کے تعلقات بہت اچھے ہیں‘‘۔
اس واقعے میں شعیب کے ڈیڈی نے بہت بڑی غلطی یہ کردی تھی کہ وہ جملہ انہوں نے شعیب کی موجودگی میں کہہ دیا تھا یہ سمجھ کر کہ بچہ کھیل رہا ہے وہ اس پر توجہ نہیں کرے گا لیکن بچے نے اسے سن لیا تھا۔شعیب کے ڈیڈی ملٹی نیشنل سافٹ ویر کمپنی میں ملازمت کرتے تھے۔ وہ روزانہ 11اور 11:30بجے کے درمیان گھر واپس آتے تھے۔ لہذا شعیب اسی وقت گھر واپس لوٹنا چاہتا تھا تاکہ وہ اپنی ممی کی حفاظت کرے اور اپنے ڈیڈی پر نظر رکھے۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ کس طرح ماں اور باپ کے درمیان کا رشتہ بچوں کی تعلیم پر اثر پر ڈالتا ہے۔ تعلیم ہی نہیں بلکہ عادات اور رویوں پر بھی اثر ڈالتا ہے۔   بشکریہ ہفت روزہ دعوت ، دہلی

The short URL of the present article is: http://harpal.in/WUlJn

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.