Home / اہم ترین / عید کی خوشی ماتم میں تبدیل۔ فلسطینیوں پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری ، 28 افراد شہید

عید کی خوشی ماتم میں تبدیل۔ فلسطینیوں پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری ، 28 افراد شہید

غزہ /یروشلم :(ہرپل نیوز/ایجنسی)12/مئی ۔:اسرائیل یوں تو سال بھر فلسطینیوں پر ظلم کا کوئی موقع نہیں گنواتا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے دیکھنے میں آیا ہے کہ رمضان کے دوران اور عیدالفطر کے موقع پر صیہونی مملکت کی وحشیانہ کارروائیاں بڑھ جاتی ہیں۔ گزشتہ دو روز سے اسرائیل نے حماس کی طرف سے راکٹ حملوں کا بہانہ بناتے ہوئے پھر ایک بار فلسطینیوں کے خلاف قیامت خیز فضائی حملے چھیڑ رکھے ہیں۔ دو یوم کی بمباری میں غزہ اور اطراف و اکناف کے فلسطینی علاقوں کے کم از کم 28 فلسطینی شہید ہوگئے اور 180 سے زیادہ دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ لگ بھگ130 حملوں میں کئی رہائشی عمارتیں نشانہ بنیں،خوف سے سہمے لوگ جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگتے رہے، بچے خوف سے چلاتے رہے۔بمباری سے شہید فلسطینیوں کی تعداد 28 ہوگئی جن میں 10 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 180 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔حملوں میں حماس کے 15 کمانڈرز بھی مارے گئے۔فلسطینی صدرمحمودعباس نے غزہ پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے اور عید کی تقریبات منسوخ کردی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی برادری فلسطینیوں کیخلاف اسرائیلی جرائم روکنے کے لئے فوری اقدامات کرے۔ترک خبر رساں ایجنسی ’اناطولو‘ کے مطابق پیر سے اب تک اسرائیل کی جانب سے تقریباً 130 حملے کئے جاچکے ہیں جن میں شہری آبادی اور ایک اسکول پر حملہ بھی شامل ہیں۔حماس سے وابستہ فلاحی تنظیم الصلاح چیاریٹیبل سوسائٹی کے زیر انتظام ایک اسکول کو وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح میں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں وہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔اس کے علاوہ اسرائیلی فضائی حملوں میں مشرقی غزہ میں ایک پلاسٹک فیکٹری کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ساتھ ہی غزہ پٹی اور خان یونس پر لاتعداد گھروں اور اپارٹمنٹس کو اسرائیلی طیاروں نے بمباری کرکے تباہ کیا۔اسرائیلی آرمی کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے حماس کے 130 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جن میں 15 حماس کمانڈرز مارے گئے ہیں۔ کافی عرصے سے مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے شیخ جراح سے فلسطینی مسلمانوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرکے یہودیوں کو آباد کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور اس کیخلاف مسلمان سراپا احتجاج ہیں۔اسی دوران جمعۃ الوداع کے روز اسرائیلی فورسز نے مسجد الاقصیٰ میں نمازیوں پر چڑھائی کردی جس کے نتیجے میں متعدد نمازی زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے بعد حماس نے اسرائیل سے مسجد الاقصیٰ سے فوری طور پر فوج ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا اور اس حملے کا بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا۔پھر حماس کی جانب سے گزشتہ روز غزہ سے اسرائیلی علاقے میں راکٹ داغے گئے جس میں اطلاعات کے مطابق دو اسرائیلی ہلاک اور 8 زخمی ہوئے۔ اس حملے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے کہا تھا کہ اسرائیل بھرپور طاقت کے ساتھ جواب دیگا اور حملہ کرنے والوں کو اس کی بھاری قیمت چکانی ہوگی اور پھر اسرائیلی طیاروں نے غزہ پر بمباری شروع کردی۔دوسری جانب غزہ کی صورتحال پر اوآئی سی کے مستقل مندوبین کا اجلاس ہورہا ہے جس میں فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنے کے معاملے پرغور کیا جائے گا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/qf4Zm

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.