Home / اہم ترین / فرانس میں مسلمانوں کے خلاف کریک ڈائون شروع

فرانس میں مسلمانوں کے خلاف کریک ڈائون شروع

پیرس : (ہرپل نیوز؍پریس ریلیز)یکم اکتوبر: فرانسیسی حکومت نے گزشتہ سال منظور کئے گئے قانون کے مطابق ملک میں مسلمانوں کے خلاف کریک ڈائون شروع کر دیا ہے اور کئی عبادتگاہوں اسلامی مراکز کو بند کرنے کے درپے ہے۔ فرانسیسی وزارت داخلہ کی طرف سے جار ی کردہ بیان میں مسلمانوں پر بنیاد پرستی کاالزام عائد کیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے علاقائی حکام کو ہدایات دی ہیں کہ وہ کسی بیرونی ملک کی طرف سے بھیجے گئے امام کو رہائش کا اجا زت نامہ جاری کرنے سے انکار کرے۔

فرانس کے وزیر داخلہ جیرارڈ ڈارمنین نے منگل کو کہا کہ فرانس ۶؍مساجد کو بند کرنے اور کئی انجمنوں کو توڑنے کی کوشش کر رہاہے جن پر بنیاد پرست اسلامی پروپیگنڈا کرنے کا شبہ ہے۔ انہوں نے لی فگارو نامی اخبار کو بتایا کہ ۸۹؍ عبادت گاہوں میں سے ایک تہائی پر ’بنیاد پرست‘ ہونے کا شبہ ہے اور انٹیلی جنس سروس کی طرف سے انھیں نامزد کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان میں سے فرانس کے ۵؍ مختلف محکموں میں سے ۶؍ کو بند کرنے کی کارروائی شروع کی گئی ہے۔ حکام اسلام پسند پبلشرز نوا اور بلیک افریقی ڈیفنس لیگ کو تحلیل کرنے کی بھی درخواست کریں گے۔

ڈارمنین نے الزام عائد کیا کہ ’’فرانس کے جنوبی قصبے ایریج میں مقیم کچھ بنیاد پرست یہودیوں کے خاتمے پر اکساتے ہیں اور ہم جنس پرستوں کے خلاف شدت پسندانہ رویہ رکھتے ہیں‘‘انہوں نے نے مذکورہ تنظیم کے خلاف ایک عجیب سا الزام لگایا کہ گزشتہ سال جون میں پیرس میں امریکی سفارت خانے کے سا منے پولیس تشدد کے خلاف ہونے والے احتجاج کے منتظمین نفرت اور امتیازی سلوک کا مطالبہ کررہے تھے ۔

واضح رہے کہ ۲۰۲۰ء میں امریکہ میں جارج فلائیڈ کے پولیس کے ہاتھوں قتل کے خلاف بڑے پیمانے پر ’بلیک لائیوز میٹر‘ کے عنوان سے احتجاج ہوا تھا۔ یہی احتجاج فرانس میں بھی کیا گیا تھا جس میں بلیک افریقی ڈیفنس لیگ نے حصہ لیا تھا۔ واضح رہے کہ یہ احتجاج نسل پرستی اور امتیازی سلوک کے خلاف تھا لیکن فرانسیسی وزیر داخلہ خود مظاہرین پر امتیازی سلوک کا الزام لگا رہے ہیں۔

جیرارڈ ڈارمنین کا کہنا ہے کہ آنے والے سال میں ۱۰؍ دیگر انجمنیں بھی تحلیل کے طریقہ کارکا سامنا کریں گی ، ان میں سے چار پر اگلے ماہ ہی کارروائی کی جائے گی۔‘‘گزشتہ ہفتے ، فرانس کی اعلیٰ ترین انتظامی عدالت ، کونسل آف اسٹیٹ نے فرانس میں اسلامو فوبیا کے خلاف احتجاج کرنے والی تنظیم سی سی آئی ایف اور براکا سٹی کو تحلیل کرنے کے حکومتی اقدام کی منظوری دی ہے ۔ واضح رہے کہ ایمانویل میکرون کی حکومت نے اکتوبر ۲۰۲۰ء میں ایک اسکول ٹیچر سیموئل پیٹی کے قتل کے بعد مسلمانوںکے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا جس کیلئے نیا قانون منظور کیا گیا تھا۔ فرانس کی پولیس کا الزام ہے کہ پیٹی کا قتل ایک آن لائن مہم کے بعد کیا گیاتھا کیونکہ اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اہانت آمیز خاکے طلبہ کو دکھائے تھے جو کہ بدنام زمانہ میگزین چارلی ہیبڈو نے سول کلاس کے دوران شائع کیا تھا۔ واضح رہے کہ فرانس کے صدر ایمانویل میکرون سے ان دنوں عوام ناراض ہیں ۔ حال ہی میں ان پر ایک پروگرام میں انڈا پھینک کر مارا گیا جبکہ اس سے پہلے ایک عام آدمی انہیں طمانچہ رسید کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایمانویل میکرون انہی صورتحال کو تبدیل کرنے کی غرض سے مسلمانوں کے خلاف کارروائی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/KFrlF

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.