Home / اہم ترین / فرید آباد: فحش ویڈیوز کے ذریعہ ٹھگی میں اضافہ ،زد میں آئے ٹیچر، طلباء اور پولیس اہلکار

فرید آباد: فحش ویڈیوز کے ذریعہ ٹھگی میں اضافہ ،زد میں آئے ٹیچر، طلباء اور پولیس اہلکار

فرید آباد: (ہرپل نیوز؍ایجنسی)11؍اکتوبر: این سی آر خطہ میں واقع شہر فریدآباد میں فحش چیٹس اورپورن ویڈیو کالز کے ذریعہ لوگوں کو بلیک میل کرنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ عام لوگوں کے ساتھ ساتھ سائبر جعل سازوںنے طلباء ، اساتذہ اور پولیس اہلکاروں کوبھی اپنا شکار بنایا ہے۔ اس تناظر میں فرید آباد پولیس کے سائبر سیل کو گزشتہ دھوکہ دہی کی 30 سے زائد شکایات موصول ہوچکی ہیں۔

خیال رہے کہ سائبر گینگ میں شامل لڑکیاں پہلے پیار کے بہانے ویڈیو کال کرتی ہیں اور پھر فحش چیٹس کرکے لوگوں کو اپنے جال میں پھانس لیتی ہیں، اس کے بعد بلیک میلنگ کا اصل کھیل شروع ہوتا ہے۔ حال ہی میں فرید آباد این آئی ٹی -3 کے ایک طالب علم کو ایک نامعلوم نمبر سے ایک پورن ویڈیو کال ملی،جس کی آڑ میں ایک ویڈیو کال بھی کی گئی۔

اس کے بعد ٹھگوں نے اسے خود کی پورن ویڈیو بھیج کر 2 لاکھ روپے کا مطالبہ کردیا۔ نوجوان نے اس سے گھبرا کر اپنے گھر والوں کو یہ بات بتائی۔ اس کے بعد نوجوان کے والد نے سائبر سیل کو شکایت کی ۔اس کے علاوہ اس گروہ نے حال ہی میں اولڈ فرید آباد کے ایک مشہور اسکول کے ایک ٹیچر کو بھی اپنے جال میں پھنسایا۔ جب کہ فحش چیٹس کا کچھ مواد یوٹیوب پر اپ لوڈ کرکے کئی بار 5000 روپے وصول کیے گئے ، لیکن جب سائبر ٹھگوں کا مطالبہ جاری رہا تو متأثر ٹیچر نے سائبر سیل میں شکایت درج کرائی۔

اسی طرح فرید آباد کے ایک تھانے کا اے ایس آئی بھی ایک لڑکی کے عشق میں جال میں پھنس گیا۔ لڑکی نے پہلے اس سے دوستی کی اور پھر فحش ویڈیو ریکارڈ کر کے اسے بلیک میل کرنے لگی۔ معاملہ ختم کرنے کے لیے پولیس والے سے اپنے اکاؤنٹ میں 10 ہزار روپے بھی جمع کرالئے گئے ، لیکن جب پیسوں کی مانگ نہ رکی تو اے ایس آئی کوبھی سائبر سیل سے مدد مانگنی پڑی۔حیران کن یہ ہے کہ لڑکیوں کی بڑی تعداد اس گینگ میں شامل ہے ،وہ ایک منصوبہ بندی کے تحت لوگوں کو اپنا شکار بناتے ہیں۔

لوگوں کو لبھانے کا عمل ایک مس کال سے شروع ہوتا ہے۔ اگر اس کی طرف سے کال موصول نہیں ہوتی ہے تو لڑکیوں کی جانب سے واٹس ایپ یا فیس بک پر چیٹنگ کی جاتی ہے۔ اس کے بعد جب بات چیت شروع ہوتی ہے تو کچھ دنوں کے بعد فحش ویڈیو کالز ریکارڈ کر کے بلیک میلنگ کا کھیل شروع ہوتا ہے۔فرید آباد سائبر پولیس اسٹیشن کے انچارج بسنت کمار نے کہا ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں ویڈیو کالنگ کے ذریعہ بلیک میلنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ اس گینگ کا مرکز میوات اور دہلی ہے۔

یہ لوگ عمومی طور پر فیک آئی ڈی کا استعمال کرتے ہیں ، اس بناء پر انہیں ٹریس کرنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/wH5OT

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.