Home / اہم ترین / لاک ڈاون نافذ کرنے پر غور کیا جائے۔مرکز اور ریاستوں کو سپریم کورٹ کی ہدایت

لاک ڈاون نافذ کرنے پر غور کیا جائے۔مرکز اور ریاستوں کو سپریم کورٹ کی ہدایت

نئی دہلی( ہرپل نیوز، ایجنسی)4 مئی ۔کووِڈ19 کی دوسری لہر کے مدنظر سپریم کورٹ نے پیر کے دن مرکز اور ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی کہ وہ اجتماعی تقاریب اور بھیڑبھاڑ پر امتناع پر غور کریں۔ لاک ڈاون پر بھی غور کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم مرکز اور ریاستی حکومتوں سے سنجیدگی سے کہنا چاہیں گے کہ وہ اجتماعی تقاریب پر جن سے وائرس پھیل سکتا ہو‘ امتناع عائد کرنے پر غور کریں۔ مفادِ عامہ میں لاک ڈاون پر بھی غور کیا جاسکتا ہے تاکہ وائرس کی دوسری لہر پر قابو پایا جائے۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے کہا کہ ہمیں لاک ڈاون کے سماجی۔ معاشی اثرات کا علم ہے۔ لاک ڈاون سے درکنار طبقات متاثر ہوں گے۔ لاک ڈاون کیا جاتا ہے تو ایسے انتظامات پیشگی طورپر کرلئے جائیں کہ درکنار افراد کی ضرورتیں پوری ہوں۔ سپریم کورٹ نے مرکز اور ریاستی حکومتوں سے یہ بھی کہا کہ وہ مہلک وائرس کا پھیلاو روکنے کے لئے کئے گئے ان کے اقدامات کو ریکارڈ پر لائیں۔ کورونا وائرس 1 کروڑ 99 لاکھ 25ہزار 604 افراد کو تاحال متاثر کرچکا ہے۔ ملک میں ایکٹیو کیسس یعنی زیرعلاج مریضوں کی تعداد 34 لاکھ 13 ہزار 642ہے اور تاحال 2لاکھ 18 ہزار 959 اموات ہوچکی ہیں۔ عدالت نے مرکز اور ریاستوں سے یہ بھی کہا کہ وہ بتائیں کہ انہوں نے مستقبل قریب میں اس عالمی مرض سے نمٹنے کے لئے کیا منصوبہ بندی کی ہے۔ کووِڈ19 بحران کا جائزہ لیتے ہوئے عدالت نے ہدایت دی کہ کسی بھی ریاست یا مرکزی زیرانتظام علاقہ میں کسی بھی مریض کو اس بنیاد پر دواخانہ میں شریک کرنے سے یا ضروری دوائیں دینے سے انکار نہ کیا جائے کہ اس کے پاس مقامی رہائش یا آئی ڈی پروف نہیں ہے۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے ہدایت دی کہ مرکزی حکومت کو دواخانوں میں مریضوں کو شریک کرانے کے معاملہ میں اندرون 2ہفتہ قومی پالیسی بنانی چاہئے ۔جج نے کہا کہ اس پالیسی کو تمام ریاستی حکومتوں کو ماننا ہوگا۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے کہا کہ دواخانہ میں بیڈ ملنا آج سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے ۔ ملک بھر میں ہزاروں لوگوں کو اس چیلنج کا سامنا ہے۔ ملک کے شہری بڑی اذیت جھیل رہے ہیں۔ ملک میں مختلف دواخانوں میں اڈمیشن کا پیمانہ مختلف ہونے کی وجہ سے افراتفری مچی ہے۔ یہ صورت ِ حال جاری نہ رہے۔ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ اس سلسلہ میں پالیسی بنائے۔ پی ٹی آئی کے بموجب سپریم کورٹ نے مرکز سے کہا کہ وہ اپنی کووِڈ19 ویکسین پرائسنگ پالیسی کا دوبارہ جائزہ لے۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے کہا کہ ویکسین بنانے والوں نے 2 قیمتیں طئے کی ہیں۔ وہ مرکز کو سستے دام پر اور ریاستوں کو مہنگے دام پر ویکسین فروخت کررہے ہیں۔ 18 تا 44 سال کی عمر کے لوگوں میں کئی غریب یا غیرمراعات یافتہ / درکنار گروپ سے تعلق رکھتے ہیں جو ویکسین کے دام نہیں چکاسکتے۔ ویکسین کی مختلف قیمت کی وجہ سے ملک میں نابرابری پیدا ہوگی۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/mCXnp

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.