Home / اہم ترین / لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ بل پیش۔ اسدالدین اویسی نےحکومت سے پوچھےتیکھے سوالات۔ اعظم خان کا دوٹوک موقف۔ بولے طلاق خالص مذہبی معاملہ ہے سیاسی نہیں

لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ بل پیش۔ اسدالدین اویسی نےحکومت سے پوچھےتیکھے سوالات۔ اعظم خان کا دوٹوک موقف۔ بولے طلاق خالص مذہبی معاملہ ہے سیاسی نہیں

نئی دہلی:(ہرپل نیوز، ایجنسی)21جون:لوک سبھا میں حکومت کی طرف سے جمعہ کو طلاق ثلاثہ سے متعلق بل پیش کئے جانے کے ساتھ ہی پورے ملک میں ایک بارپھراس پربحث شروع ہوگئی ہے۔ کچھ مقامات پرمخالفت کی آوازاٹھنے لگی ہےتوکچھ جگہ اس کی حمایت بھی ہورہی ہے۔ مرکزی حکومت کے ذریعے پیش کئے گئے بل پر اپوزیشن نے سخت اعتراض جتایا ۔ بل کی پیشی کے حوالے سے ووٹنگ کرائی گئی۔ بل کی پیشی کے حق میں ایک سو چھیاسی ووٹ پڑے جبکہ بل کی پیشی کی مخالفت میں چوہتّر ووٹ پڑے ۔ وزیر قانون روی شنکر پرساد نے باقاعدہ بل پیش کردیا۔تین طلاق بل پر ایوان میں اگلے ہفتے بحث کا امکان ہے۔اس بیچ مجلس اتحادالمسلمین کے صدرو حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے حکومت سے کچھ تھیکے سولات پوچھے۔ اویسی نے کہاکہ طلاق ثلاثہ بل دستور ہند کے آرٹیکل 14 اور 15 کی خلاف ورزی ہے ۔ مجلس اتحاد المسلمین کے صدر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا کہ تین طلاق سے شادی ختم نہیں ہوتی تو پھر سزاء کیسے دی جائیگی۔ اویسی نے کہا کہ مرکزی حکومت کو کیرالا کی بہنوں سے کیوں ہمدردی نہیں ہے۔حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ کسی دوسرے مذاہب ماننے والے افراد اگراپنی بیوی کو طلاق دیتے ہیں تو انہیں ایک سال کی سزاء ہوتی ہے۔ جبکہ مسلم شخص اگرطلاق دیتاہے تو اس تین سال کی قید ہوگی۔ اس طرح سے بل میں دستورہند کے آرٹیکل 14 اور 15 کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ اس بل سے متعلق جب سماجوادی پارٹی کےسینئرمسلم لیڈراوررامپورسے رکن پارلیمنٹ اعظم خان سے پوچھا گیا تو انہوں نے دوٹوک الفاظ میں اس کا جواب دیا۔
اعظم خان کا رد عمل
سماجوادی پارٹی کےسینئرمسلم لیڈراوررامپورسے رکن پارلیمنٹ اعظم خان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ اوران کی پارٹی اس معاملے پرصرف انہیں باتوں کی حمایت کرتی ہے اورمانتی ہے، جو کہ قرآن میں لکھی گئی ہیں۔ انہوں نےکہا یہ مسئلہ پوری طرح سے مذہبی ہےاوراس کا سیاست سےکوئی لینا دینا نہیں ہے۔ واضح رہے کہ مودی حکومت نے ایک بارپھرطلاق ثلاثہ بل آج لوک سبھا میں پیش کیا تھا، جس پربحث کرتے ہوئے مسلم رہنماوں نے اس کی شدید مخالفت کی۔اس دوران اعظم خان نےکہا کہ اسلام میں جتنے حقوق خواتین کودیئے جاتے ہیں، اتنے کسی بھی مذہب میں نہیں دیے جاتے۔ 1500 سال قبل اسلام ہی واحد ایسا مذہب تھا، جس میں خواتین کو برابرکے حقوق دیئے گئےتھے۔ جبکہ ایسا کسی دیگرمذہب میں کبھی نہیں کیا گیا تھا۔ اسی کے ساتھ اعظم خان نےدعویٰ کیا کہ آج طلاق اورخواتین کےتئیں تشدد کی خبریں سب سےکم مذہب اسلام میں ہی سننےکوملتی ہیں۔ خواتین کوجلایا یا انہیں قتل نہیں کیا جاتا ہے۔
اعظم خان نے کہا کہ تین طلاق کا موضوع مذہبی ہے نہ کہ سیاسی۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے لئے قرآن سے بڑھ کرکچھ بھی نہیں ہے۔ شادی کے لئے، طلاق کے لئے ایسی سبھی باتوں کے لئے قرآن میں واضح طورپراحکامات دیئے گئے ہیں اورہم ان پرعمل کرتے ہیں۔ لہٰذا کسی کوبھی اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/sNEh9

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.