Home / اہم ترین / لکھیم پور کھیری میں آشیش کی جگہ عتیق ملزم ہوتا تو یوگی سرکار بلڈوزر چلواتی : اسد الدین اویسی

لکھیم پور کھیری میں آشیش کی جگہ عتیق ملزم ہوتا تو یوگی سرکار بلڈوزر چلواتی : اسد الدین اویسی

نئی دہلی: (ہرپل نیوز؍ایجنسی)11؍اکتوبر: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر اور حیدرآباد سے ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے کسان انٹرکالج میں منعقدہ 'شوشت ونچت سمیلن' میں بی جے پی کے خلاف جم کر نشانہ سادھا ۔ اس دوران انہوں نے لکھیم پور کھیری معاملہ میں مرکزی وزیر کی بات کرتے ہوئے کہا کہ اجے مشرا اعلی ذات کے ہیں ، الیکشن نزدیک ہے اور انہیں اعلی ذات کے ووٹ نہیں ملیں گے ۔ اگر آشیش کی جگہ ان کا نام عتیق ہوتا تو کیا وہ ان کے گھر پر بلڈوزر نہیں چلاتے ؟ اویسی کا یہ بیان نیوز ایجنسی اے این آئی نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر جاری کیا ہے ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اویسی نے بلرام پور میں کہا کہ وزیر مملکت برائے داخلہ کے بیٹے آشیش کو پولیس کسٹڈی میں دن میں آٹھ آٹھ مرتبہ ناشتہ کرایا گیا ، جیسے وہ سسرال میں ہوں ۔ اویسی نے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ لکھیم پور میں کسانوں پر گاڑی چڑھا کر مارنے والے کے والد اجے مشرا ٹینی کو مودی جی وزیر کے عہدہ سے کیوں نہیں نکالتے ؟ آشیش کے ابا جان کو کیوں نہیں ہٹاتے ؟ یوگی جی ، ابا جان کا نام اجے ہے ، اگر عتیق ہوتا تو گھر پر بلڈوزر چڑھا دیا جاتا ۔ اویسی نے ان حالات کے پیش نظر مسلمانوں سے متحد ہونے کی اپیل کی ۔

یوپی سرکار کے کام کاج کے دعوی پر نشانہ سادھتے ہوئے اسد الدین اویسی نے کہا کہ منکا پور سے سعد اللہ نگر تک 25 کلو میٹر سڑک میں پانچ ہزار گڑھے ہیں ۔ یوگی جی کی سڑکوں کی یہ حقیقت ہے ۔ اب تک آپ نے سبھی پارٹیوں کو ووٹ دیا ، کیونکہ آپ کے پاس کوئی متبادل نہیں تھا ۔ اب متبادل کے طور پر اے آئی ایم آئی ایم نے ڈاکٹر عبدالمنان کو اتارا ہے ۔ یوپی کے مسلمانوں کے ووٹ کی اہمیت نہیں رہی ۔ اپنی طاقت دکھانے کیلئے مجلس کو ووٹ دینا پڑے گا۔ آپ نے سالوں تک غیروں کو وٹ دیا ، لیکن اس مرتبہ مجلس آپ کی اپنی پارٹی ہے ، انصاف قائم کرنے کیلئے مجلس کو ووٹ دیں ۔

اسد الدین اویسی نے کہا کہ اپنی ہی پارٹی سے دو مرتبہ ممبر اسمبلی رہے سابق ممبر اسمبلی عارف انور ہاشمی کیلئے اکھلیش یادو نہیں بولتے ہیں ۔ خواب دیکھنا شروع کرو کہ اپنا بھی کوئی لیڈر ہو ۔ اترپردیش کی جیلوں میں 27 فیصد مسلمان بند ہیں ۔ ہر سماج کا لیڈر ہے ، لیکن اترپردیش کے مسلمانوں کا کوئی لیڈر نہیں ہے ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/zJzCU

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.