Home / اہم ترین / متھرا جیل میں کیے گئے بھیانک مظالم۔ کئی دن تک نہیں دیا گیا کھانا پانی:ڈاکٹر کفیل خان کا الزام

متھرا جیل میں کیے گئے بھیانک مظالم۔ کئی دن تک نہیں دیا گیا کھانا پانی:ڈاکٹر کفیل خان کا الزام

’’مجھے متھرا جیل میں جسمانی اور ذہنی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، کئی دن تک کھانا پانی دینے سے بھی انکار کیا گیا تھا:ڈاکٹر کفیل خان

نئی دہلی،(ہرپل نیوز،ایجنسی)ستمبر 22: یوپی کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں پیڈیاٹریکس کے سابق اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کفیل خان نے، جنھیں حال ہی میں نیشنل سیکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت الزامات سے بری کیا گیا تھا، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن (یو این ایچ آر سی) کا اس بات کے لیے شکریہ ادا کیا ہے کہ انھوں نے ’’ہندوستانی حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر انسانی حقوق کے محافظوں کو رہا کیا کرے جنھیں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف پرامن طور پر احتجاج کرنے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔‘‘اقوام متحدہ کے ماہرین نے رواں سال 26 جون کو حکومت ہند کو لکھے گئے ایک خط میں ہندوستان سے اپیل کی تھی کہ وہ ’’انسانی حقوق کے محافظوں کو فوری طور پر رہا کرے، جنھیں سی اے اے مخالف احتجاج کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔‘‘یو این ایچ آر سی کو لکھے گئے اپنے خط میں ڈاکٹر کفیل نے کہا ہے کہ ’’حکومت نے اس کی اپیل نہیں سنی اور بہت سارے دیگر افراد کو اب بھی جیل میں قید رکھا گیا ہے۔‘‘ڈاکٹر کفیل نے لکھا کہ ’’جیل میں مجھے جسمانی اور ذہنی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔‘آسام سے ممبر پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے این ایچ آر سی سے سی اے اے مخالف احتجاج کے دوران پولیس فائرنگ سے ہوئی 5 اموات پر…الہ آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر کفیل خان کی نظربندی کو چیلینج کرنے والے درخواست پر سماعت 27 اگست تک ملتوی کی

قومی سلامتی ایکٹ کے تحت ڈاکٹر کفیل خان کی نظربندی میں 3 ماہ کی توسیع انھوں نے لکھا کہ ’’مجھ پر کئی دن تک جسمانی اور ذہنی طور پر تشدد کیا گیا، کھانا اور پانی دینے سے انکار کیا گیا اور میرے ساتھ 7 ماہ تک بھیڑ سے بھری ہوئی متھرا جیل میں غیر انسانی سلوک کیا گیا۔‘‘واضح رہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے یہ کہتے ہوئے ان پر این ایس اے کا مقدمہ خارج کر دیا تھا کہ ان کی تقریر نفرت یا تشدد کو فروغ نہیں دیتی ہے بلکہ اس خطاب سے شہریوں میں قومی سالمیت اور اتحاد پر زور دیا گیا ہے۔انھوں نے خط میں لکھا کہ ’’حکومت کی ناکامی کو چھپانے کے لیے، مجھے قربانی کا بکرا بنا دیا گیا اور نو ماہ کے لیے قید کردیا گیا۔‘‘

The short URL of the present article is: http://harpal.in/aHy5S

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.