Home / اہم ترین / مرکزی حکومت نے 20یوٹیوب چینلس اور دو ویب سائٹس کو کیا بلاک۔ وزارت اطلاعات نے بتائی یہ وجہ

مرکزی حکومت نے 20یوٹیوب چینلس اور دو ویب سائٹس کو کیا بلاک۔ وزارت اطلاعات نے بتائی یہ وجہ

نئی دہلی(ہرپل نیوز؍ایجنسی)۲۲؍ دسمبر : اطلاعات و نشریات کی مرکزی وزارت نے منگل کو 20 یوٹیوب چینلز اور دو نیوز ویب سائٹس کو بلاک کرنے کا حکم دیا، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ وہ ’’بھارت مخالف پروپیگنڈہ اور جعلی خبریں‘‘ پھیلا رہے ہیں۔وزارت نے ٹیلی کام محکمے سے کہا ہے کہ وہ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں کو ان چینلز اور ویب سائٹس کو بلاک کرنے کی ہدایت کرے۔ یہ کارروائی نئے انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز کے رول 16 کی دفعات کے تحت کی گئی ہے جو حکام کو ’’ہنگامی صورت حال میں‘‘ مواد کو بلاک کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

وزارت نے منگل کو ایک ریلیز میں کہا ’’چینل اور ویب سائٹس کا تعلق ایک مربوط ڈس انفارمیشن نیٹ ورک سے ہے جو پاکستان سے چل رہا ہے اور ہندوستان سے متعلق مختلف حساس موضوعات کے بارے میں جعلی خبریں پھیلا رہا ہے۔ ان چینلز کو کشمیر، ہندوستانی فوج، ہندوستان میں اقلیتی برادریوں، رام مندر، جنرل بپن راوت وغیرہ جیسے موضوعات پر مربوط انداز میں تفرقہ انگیز مواد پوسٹ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔‘‘وزارت نے دعویٰ کیا کہ جن 20 یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کے لیے کہا گیا ہے ان میں سے 15 ’’نیا پاکستان گروپ‘‘ نامی ادارے کے نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ وزارت نے دعویٰ کیا کہ یہ گروپ پاکستان سے چلایا جاتا ہے اور اس کے کچھ چینلز پاکستانی نیوز چینلز کے اینکرز چلا رہے تھے۔

وزارت نے کہا کہ ان چینلز کے سبسکرائبرز کی تعداد 35 لاکھ سے زیادہ تھی اور ان کے ویڈیوز کو 55 کروڑ سے زیادہ بار دیکھا گیا تھا۔بیان میں کہا گیا ہے ’’ان یوٹیوب چینلز نے کسانوں کے احتجاج، شہریت (ترمیمی) قانون سے متعلق مظاہروں اور اقلیتوں کو حکومت ہند کے خلاف اکسانے کی کوشش جیسے مسائل پر مواد بھی پوسٹ کیا تھا۔ یہ خدشہ بھی تھا کہ ان یوٹیوب چینلز کو پانچ ریاستوں میں ہونے والے آئندہ انتخابات کے جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے کے لیے مواد پوسٹ کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔‘‘

وزارت نے مشاہدہ کیا کہ ان چینلز کا زیادہ تر مواد ’’قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے حساس مضامین سے متعلق ہے اور دراصل غلط ہے۔‘‘ہندوستان ٹائمز کی خبر کے مطابق مرکزی وزیر برائے اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ سرحد پار سے بھارت مخالف مواد پھیلانے کی کوششوں کا جائزہ لینے کے لیے انکوائری کی گئی۔انھوں نے دعویٰ کیا ’’یہ چینلز اور ویب پورٹل قانون کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ ان ویب سائٹس کے خلاف سخت کارروائی کی گئی ہے جو پاکستان کے ایجنڈے کو فروغ دینا چاہتی ہیں۔‘‘

سینٹر کی جانب سے فروری میں متعارف کرائے گئے نئے آئی ٹی قوانین، سوشل میڈیا کمپنیوں، اسٹریمنگ پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل نیوز مواد کے لیے ضوابط کا ایک بڑا مجموعہ ہیں۔ وہ عملی طور پر پہلی بار ان پلیٹ فارمز کو حکومت کی نگرانی میں لاتے ہیں۔ڈیجیٹل نیوز میڈیا اور ویڈیو سٹریمنگ پلیٹ فارمز کے لیے نئے قواعد ایک سیلف ریگولیٹری باڈی اور ایک بین ڈپارٹمنٹل کمیٹی کو وسیع پیمانے پر تعزیری اختیارات فراہم کرتے ہیں۔کئی میڈیا اداروں نے ان نئے قوانین کو عدالتوں میں چیلنج کیا ہے۔ انھوں نے دلیل دی ہے کہ یہ رہنما خطوط حکومت کو براہ راست ان کے مواد کو کنٹرول کرنے کی اجازت دیں گے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/5WKl8

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.