Home / اہم ترین / مظفر پور ہاسپٹل کے پیچھے انسانی کھوپڑیاں اور ہڈیاں ملنے سے سنسنی۔ پوسٹ مارٹم ہاوس کے پیچھے واقع جھاڑیوں میں پائی گئیں ہڈیاں۔ جانچ کمیٹی تشکیل

مظفر پور ہاسپٹل کے پیچھے انسانی کھوپڑیاں اور ہڈیاں ملنے سے سنسنی۔ پوسٹ مارٹم ہاوس کے پیچھے واقع جھاڑیوں میں پائی گئیں ہڈیاں۔ جانچ کمیٹی تشکیل

نئی دہلی (ہرپل نیوز، ایجنسی) 23جون: بہار کے مظفر پور واقع شری کرشنا میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل میں انسانی ہڈیاں ملی ہیں ۔ اسی ہاسپٹل میں چمکی بخار سے ابھی تک 108 بچوں کی موت ہوچکی ہے۔ واضح ہوکہ چمکی بخار سے بہار میں اب تک 139 بچوں کی موت ہوچکی ہے۔این ڈی ٹی وی کی ایک خبر کے مطابق، انسانی ہڈیوں کے ملنے کے بعد ہاسپٹل میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ایس کے شاہی نے کہا کہ ، یہ پوسٹ مارٹم محکمہ کے پرنسپل کے ماتحت آتا ہے ، لیکن اس میں انسانی جذبات کاخیال رکھنا چاہیے ۔ میں پرنسپل سے بات کروں گا اور ان کو اس معاملے کی جانچ کے لیے جانچ کمیٹی بنانے کے لیے کہوں گا۔
شری کرشنا میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل ، مظفر پور کی جانچ ٹیم نے انسانی ہڈیوں کے ملنے والی جگہ کا دورہ کیا ۔ ہاسپٹل کے ڈاکٹر وپن کمار نے کہا کہ ، یہاں انسانی ہڈیا ں ملی ہیں ، پرنسپل مکمل جانکاری دیں گے۔چمکی بخار سے متاثر 108 بچوں کے علاج کے دوران مرنے کے بعد جہاں اس ہاسپٹل کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا،وہیں اب انسانی ہڈیوں کا ملنا ہاسپٹل کے لیے ایک اور پریشانی کا سبب بن گیا ہے۔غور طلب ہے کہ ایک یا دو لاش جلی ہوئی تھی اور کئی انسانی ہڈیاں جنگل میں بکھری پڑی ہوئی تھیں۔خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق؛ہاسپٹل کے گارجین جنک پاسوان نے کہا،’پوسٹ مارٹم کے بعد سبھی میت کو ہاسپٹل کے پیچھے جنگل میں پھینک دیا جاتا ہے۔وہاں چھوڑی گئی انسانی ہڈیوں کو نہ تو جلایا گیا تھا اور نہ ہی دفنایا گیا تھا۔ایس کے شاہی نے کہا،جب کسی ہاسپٹل کو کوئی لاش ملتی ہے تب وہ نزدیکی پولیس اسٹیشن سے رابطہ کرتا ہے اور اس کے بارے میں ایک شکایت درج کرواتا ہے۔ رپورٹ درج ہونے کے بعد لاش کو 72 گھنٹوں تک پوسٹ مارٹم روم میں رکھا جاتا ہے۔اگر 72 گھنٹے کے اندر لاش کی شناخت کے لیے فیملی کا کوئی ممبر نہیں آتا ہے تب طے شدہ پروسیس کے مطابق پوسٹ مارٹم ڈپارٹمنٹ کے ذریعے لاش کو دفنایا یا جلایاجاتا ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/a6kV0

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.