Home / اہم ترین / ملیشیا: انسٹاگرام پرموت کا پول اور لڑکی نے اٹھایا یہ قدم ۔ جان کر ہوجائیں گے حیران

ملیشیا: انسٹاگرام پرموت کا پول اور لڑکی نے اٹھایا یہ قدم ۔ جان کر ہوجائیں گے حیران

ملیشیا(یجنسی)20مئی :ملیشیا میں انسٹاگرام پرکرائے گئے ایک پول میں 69 فیصد لوگوں نے 16 سالہ طالبہ کو خودکشی کرنے کی رائے دیدی۔ پول کرانے کے پانچ گھنٹے بعد 16 سالپہ لڑکی نے ایک عمارت کی تیسری منزل سے چھلانگ لکاکرخودکشی کرلی ۔یہ واقعہ ملیشیائی ریاست سراواک میں پیش آیا۔ پولیس کہنا تھا کہ یہ لڑکی ممکنہ طور پر اپنے سوتیلے باپ کی ایک ویت نامی خاتون سے شادی پر تناﺅ کا شکار تھی۔

دوسری جانب خبررساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ملائیشین پارلیمںٹ کے رکن رام کرپال سنگھ نے انتظامیہ سے ان حالات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا جن کے نتیجے میں اس لڑکی نے خودکشی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لڑکی آج زندہ ہوتی اگر انٹرنیٹ صارفین اس کے انسٹاگرام اکاﺅنٹ میں خودکشی کے خیال کی حوصلہ شکنی کرتے۔غیرملکی میڈیا رپورٹس میں بتایاگیاہے کہ لڑکی نے پیر کی سہ پہر ایک پول انسٹاگرام پر پوسٹ کیا- جس میں لکھا تھا 'بہت ضروری، مجھے مرنے یا جینے کے انتخاب میں مدد دیں۔ لڑکی نےاپنے انسٹاگرام پوسٹ میں انگریزی میں (Really Important, Help Me Choose D/L)۔اس لڑکی نے فیس بک پر بھی ایک پوسٹ کی تھی جس میں لکھا تھا کہ وہ تھک چکی ہے اور اپنی زندگی کا خاتمہ چاہتی ہے۔

اور اس پول پر جو ووٹ ڈالے گئے اس میں 69 فیصد ڈی آپشن کے لیے تھے جس کا مطلب موت تھا، اس پول کے 5 گھنٹے بعد اس لڑکی نے ایک عمارت کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا کرخودکشی کرلی۔ پولیس اب یہ تعین کرنے میں مصروف ہیں کہ جن لوگوں نے پول میں موت کے لیے ووٹ ڈالا وہ لڑکی کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں یا نہیں۔ ملائیشیا میں نوعمرافراد کو خودکشی میں معاونت فراہم کرنا جرم ہے۔ جس کے ثابت ہونے پر سزائے موت یا 20 سال قید کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔

انسٹاگرام ایشیا پیسیفک کے کمیونیکشنز سربراہ چنگ یائی وونگ نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ لوگ انسٹاگرام کو استعمال کرتے ہوئے خود کو محفوظ تصور کریں۔ اس مقصد کے لیے ہم اپنی کوششوں کے ساتھ ہر ایک پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس وقت رپورٹنگ ٹولز استعمال کریں یا ایمرجنسی سروسز سے رجوع کریں جب وہ کسی قسم کے رویے سے وہ کسی کی زندگی کو خطرے میں محسوس کریں۔ واضح رہے کہ انسٹاگرام نے رواں سال فروری میں اس مقصد کے لیے چند فیچرز متعارف کرائے تھے تاکہ نوجوان صارفین کو اس پلیٹ فارم میں زیادہ تحفظ فرام کیا جاسکے۔اس مقصد کے لیے خود کو نقصان پہنچانے والی تصاویر کو ہٹایاگیا جبکہ ایسی نان گرافک تصاویرکو سینسٹیو بنادیا گیا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/gE0Ce

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.