Home / اہم ترین / ممبئی پولیس میں ’’بغاوت‘‘کی جھوٹی خبر کی پاداش میں ارنب کی ٹیم سے کئی گھنٹہ پوچھ تاچھ، دوبارہ طلبی کا امکان۔TRPچوری میں کئی اور چینل کے نام بھی آئے سامنے

ممبئی پولیس میں ’’بغاوت‘‘کی جھوٹی خبر کی پاداش میں ارنب کی ٹیم سے کئی گھنٹہ پوچھ تاچھ، دوبارہ طلبی کا امکان۔TRPچوری میں کئی اور چینل کے نام بھی آئے سامنے

ممبئی(ہرپل نیوز، ایجنسی)25اکتوبر:ارنب گوسومی ،ان کے نیوز چینل ری پبلک ٹی وی اور ممبئی پولیس کے درمیان جاری شہ اور مات کے کھیل نے سنیچر کو پھر شدت اختیار کرلی۔ چینل کے ایک پروگرام میں پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ کےخلاف پولیس محکمہ میں بغاوت کی جھوٹی خبر کی پاداش میں درج کی گئی ایف آئی آر کے سلسلے میں سنیچر کو ریپبلک ٹی وی کی ایکزیکٹیو ایڈیٹر نرنجن نارائن سوامی اور ڈپٹی ایڈیٹر ساون سین کو این ایم جوشی مارگ طلب کیاگیاتھا مگر ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر چینل کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی اور ان کے عملے کے کئی افراد بھی پولیس اسٹیشن تک گئے۔

پولیس اسٹیشن کے باہر سے ڈرامائی انداز میں رپورٹنگ

ایک طرف جہاںریپبلک ٹی وی کے دونوں ایڈیٹرس سے پولیس نے کئی گھنٹے پوچھ تاچھ کی وہیں ارنب گوسوامی کی قیادت میں ان کی ٹیم نے پولیس اسٹیشن کے باہر سے ڈرامائی انداز میں رپورٹنگ کی۔ انہوں نے تازہ ایف آئی آر کو چینل کو نشانہ بنانے کی کوشش قراردیا ۔اس دوران ممبئی پولیس پر الزام تراشیاں بھی کی گئیں تاہم پولیس نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی طرح کی کارروائی نہیں کی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ریپبلک ٹی وی کے ایڈیٹرس کی پولیس اسٹیشن میں پیشی کی خبر کو دکھانے کیلئے این ڈی ٹی وی کے اپنے عملے کے علاوہ کسی بھی نیوز چینل کا کوئی رپورٹر یا فوٹوگرافر وہاں موجود نہیں تھا۔

دونوں ایڈیٹرس سے کئی گھنٹوں تک پوچھ تاچھ

واضح رہےکہ ممبئی پولیس نے ریپبلک ٹی وی کے کارکنان کے خلاف پولیس محکمہ میں بے اطمینانی پھلانے کے خلاف قانون ’’پولیس (انسائٹ منٹ ٹو ڈِس افیکشن ) ایکٹ ۱۹۲۲ء‘‘ کےتحت کیس درج کیا ہے۔ ریپبلک ٹی وی کے ایڈیٹرس پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی مذکورہ خبر کے ذریعہ پولیس محکمہ میںبدنظمی پھیلانے کی اوراسے بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔اس سلسلے میں ایکزیکٹیو ایڈیٹر نرنجن نارائن سوامی اور ڈپٹی ایڈیٹر ساون سین سے سنیچر کی شام ۸؍ بجے تک پوچھ تاچھ کی گئی۔ ان کی گرفتاری کا بھی اندیشہ ظاہر کیا جارہاتھا مگر شام کو پولیس نے یہ کہتے ہوئے انہیں چھوڑ دیا کہ ضرورت پڑنےپر انہیں دوبارہ طلب کیا جاسکتاہے۔ اس معاملے میں ماخوذ دیگر افراد کی بھی طلبی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

دیپک چوراسیا کا نیوز نیشن بھی ٹی آر پی گھوٹالہ کا حصہ

ٹی آر پی گھوٹالہ کی جانچ میں ممبئی پولیس نے پیش رفت کرتےہوئے جمعہ کو جہاں ۹؍ ویں ملزم کو گرفتار کیاہے وہیں ۳؍ نئے چینلوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔ان میں دیپک چوراسیا کا نیوز چینل ’نیوز نیشن‘ بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ اقلیتوں کے خلاف زہر افشانی کی مقابلہ آرائی میں نیوز نیشن بھی پیش پیش رہتا ہے۔ نیوز نیشنل کے علاوہ مہامووی نامی چینل کے بھی اس گھوٹالے میں ملوث ہونے کے اشارے ملے ہیں۔ جانچ سے جڑے ذرائع کےمطابق اس سلسلے میں گرفتار ہونےو الے افراد کے کھاتوں میں جن چینلوں کے کھاتوں سے رقم منتقل کی گئی ان میں ریپبلک ٹی وی کے علاوہ نیوز نیشن اور مہامودی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ پولیس نے جمعہ کو ہریش کملاکر پاٹل نامی ملزم کو گرفتار کرنے کا اعلان کیاتھا جبکہ اس کے ایک ساتھی ابھیشیک عرف امیت کی تلاش جاری ہے۔ اس سے قبل جس رام جی شرما اور دنیش ویشو کرما کو گرفتار کیا گیا تھا، ان سے کی گئی پوچھ تاچھ کے بعد ہریش کو پوائی علاقے سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ہریش کی گرفتاری کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ وہ ۵۹؍ کمپنیوں کا مالک ہے ۔پوچھ تاچھ اور بینک اکاؤنٹ کی جانچ کے بعد یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس کی ایک کمپنی کے بینک اکاؤنٹ میں ایک چینل نے پیسے ٹرانسفر کئے تھے اور وہ پیسے چینل دیکھنے والوں میں تقسیم کئے گئے تھے – (بشکریہ انقلاب ممبئی)

The short URL of the present article is: http://harpal.in/kLIev

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.