Home / اہم ترین / ممتا دیدی نے گھٹنے ٹھیکے۔ ڈاکٹروں کے تمام مطالبات منظور۔ کام پر لوٹنے کی اپیل کے بعد بھی تعطل برقرار

ممتا دیدی نے گھٹنے ٹھیکے۔ ڈاکٹروں کے تمام مطالبات منظور۔ کام پر لوٹنے کی اپیل کے بعد بھی تعطل برقرار

کلکتہ، (ہرپل نیوز۔ایجنسی)17جون : وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے ایک بار پھر جونیئر ڈاکٹروں سے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت ہڑتال میں شامل ڈاکٹروں کے خلاف ای ایس ایم اے کے تحت کارروائی نہیں کرے گی۔ممتا بنرجی نے ڈاکٹروں کے تمام مطالبات تسلیم کرلئے۔ خیال رہے کہ گزشتہ پانچ دنوں سے جاری ہڑتال کی وجہ سے ریاست کے اسپتالوں میں حالات نازک بن گئے ہیں۔جونیئرڈاکٹروں کے ذریعہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی دعوت کو رد کئے جانے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرا علیٰ نے کہا کہ قانون ہونے کے باوجود ہم اس کااستعمال نہیں کریں گے اور نہ ہی ہم کوئی سخت کارروائی کرنے کے حق میں ہے۔مگر جونیئر ڈاکٹروں سے اپیل ہے کہ وہ ہڑتال کو ختم کرکے فوری طور پر اسپتال میں حالات معمول پر لائیں۔مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ای ایس ایم اے کے تحت پوسٹ آفس، ریلوے، ائیرپورٹ اور اسپتال کے عملے کو ہڑتال کرنے سے روکا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دوسری ریاستوں میں اس ایکٹ کے تحت ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی ہوتی ہے۔ وزیرا علیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ان کے سارے مطالبات تسلیم کئے ہیں اور مزید مطالبات کو تسلیم کرنے کو تیار ہیں مگر انہیں جلد سے جلد کام پر لونٹا ہوگا۔ممتا بنرجی نے کہا کہ کل جمعہ کو پانچ گھنٹے تک وہ جونیئر ڈاکٹروں کا انتظار کرتی رہیں، انہوں نے اپنے تمام پروگرام کو رد کردیا۔مگر ڈاکٹروں کو بھی آئینی اداروں کا احترام کرنا ہوگا۔ڈاکٹروں کے اجتماعی استعفیٰ پر وزیرا علیٰ نے کہا کہ یہ قانونی طور پر جائز نہیں ہے۔ممتا بنرجی نے کہاکہ اگر جونیئر ڈاکٹر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مجھ سے بات نہیں کرسکتے ہیں تو وہ گورنر، چیف سکریٹری اور کمشنر آف پولیس سے بات کرسکتے ہیں۔اس سے قبل جونیئر ڈاکٹروں نے بند کمرے میں وزیرا علیٰ کے ساتھ بات چیت کرنے سے انکار کردیا تھا اور مطالبہ کیا تھاکہ وزیرا علیٰ این آر ایس میڈیکل کالج آئیں اور کھلے ماحول میں ہم سے بات چیت کریں۔ مغربی بنگال کے ڈاکٹروں کی حمایت میں پورے ملک میں ڈاکٹروں کی ہڑتال سے صحت نظام کے تباہ ہونے کے درمیان مرکزی حکومت نے ریاستی حکومت سے ہڑتال کے بارے میں فوراً ہی رپورٹ دینے کو کہا ہے۔ذرائع کے مطابق وزارت نے آج یہاں ریاستی حکومت کو ایک ایڈوائزری جاری کرکے کہاہے کہ اسے ملک کے مختلف حصوں سے ڈاکٹروں، صحت کے شعبوں سے منسلک پیشہ وروں اور طبی تنظیموں سے مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں میں ڈاکٹروں کی سلامتی کے بارے میں خطوط موصول ہوئے ہیں۔ مرکز نے ریاستی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ ریاست میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کے بارے میں فوراً تفصیلی رپورٹ وزارت داخلہ کو بھیجیں۔واضح رہے کہ مغربی بنگال میں ایک جونیئر ڈاکٹرکے ساتھ مریض کے اہل خانہ کی مارپیٹ کے بعد سے ڈاکٹر وں نے ہڑتال کردی۔ ان کی حمایت میں جمعہ کو پورے ملک کے مختلف اسپتالوں میں ڈاکٹر ہڑتال پر چلے گئے ہیں جس کی وجہ سے ایمرجنسی کو چھوڑ کر دیگر خدمات بدحالی کا شکار ہوگئی۔انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے پورے ملک میں اپنی سبھی شاخوں سے منسلک ڈاکٹروں کو مغربی بنگال کے ڈاکٹروں کی حمایت میں دھرنا اور مظاہرہ اور کالی پٹی باندھ کر اپنی مخالفت کا اظہار کرنے کا حکم دیا۔ ڈاکٹروں کی ہڑتال کی وجہ سے اسپتال میں مریضوں کو زبردست پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں بغیر علاج کرائے واپس لوٹنا پڑا۔ ممتا نے کہا کہ ڈاکٹروں کو آئینی اداروں کا احترام کرنا چاہئے۔ ممتا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں کے ساتھ مار پیٹ بدقسمتی ہے، ہماری حکومت معاملہ سلجھانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ اس ہڑتال کی وجہ سے غریبوں کا علاج نہیں ہو پا رہا ہے۔ کم سے کم ہسپتال میں ایمر جنسی خدمات جاری رکھنی چاہئیں۔ ہم ریاست میں ایسما ایکٹ لاگو نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ ممتابنرجی نے کہا کہ ہم نے ڈاکٹروں کی تمام مانگیں مان لی ہیں۔ میں نے کل اور آج اپنے وزراء، چیف سکریٹری کو ڈاکٹروں سے ملنے کے لئے بھیجا تھا، انہوں نے ڈاکٹروں کے وفد سے ملنے کے لئے 5 گھنٹے تک انتظار کیا، لیکن وہ نہیں آئے۔ آپ کو آئینی ادارے کا احترام دینا ہوگا، ہم نے ایک بھی شخص کو گرفتار نہیں کیا۔ ہم کسی طرح کی طاقت کا استعمال نہیں کریں گے۔ صحت کی خدمات اس طرح جاری نہیں رہ سکتیں،تاہم کوئی سخت کارروائی نہیں ہوگی۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ ریاستی حکومت جلد سے جلد حسب معمول طبی خدمات دوبارہ شروع کرنے کے لئے مصروف عمل ہے۔ 10 جون کا واقعہ بدقسمتی تھا، ہم مسلسل حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں تمام ڈاکٹروں سے دوبارہ کام شروع کرنے کی اپیل کرتی ہوں، کیونکہ ہزاروں لوگ علاج کے لئے انتظار کر رہے ہیں۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ مغربی بنگال حکومت ضروری اقدامات کرنے کے لئے مکمل طور پر مصروف عمل ہے۔ واضح ہو کہ ریاستی حکومت نے نجی اسپتال میں داخل جونیئر ڈاکٹر کے علاج کے تمام اخراجات برداشت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے پہلے تشدد کے بعد ہڑتال کر رہے ناراض ڈاکٹروں نے ممتا بنرجی سے بند کمرے میں ملاقات کرنے سے انکار کر دیا۔


The short URL of the present article is: http://harpal.in/3ACDi

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.