Home / اہم ترین / مولانا محمدسراج الحسن صاحب کا سانحہ ارتحال۔ امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند تلنگانہ مولانا حامد محمد خان و دیگر کا اظہار تعزیت

مولانا محمدسراج الحسن صاحب کا سانحہ ارتحال۔ امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند تلنگانہ مولانا حامد محمد خان و دیگر کا اظہار تعزیت

حیدر آباد ،( پریس ریلیز)2اپریل : سابق امیر جماعت اسلامی ہندو نائب صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ حضرت مولانا محمد سراج الحسن صاحب کا مختصر علالت کے بعد آج بعد عصر ان کے آبائی وطن رائچور میں ان کے مکان پربعمر87 سال انتقال ہوگیا۔چند دن قبل وہ اپنے مکان میں گر پڑے تھے جس کے نتیجہ میں ان کے کولہے کی ہڈی میں چوٹ آئی تھی اور انہیں دواخانہ میں شریک کیا گیا تھا۔مولانا محترم نے ابتدائی عمر سے ہی تحریک اسلامی سے وابستگی اختیار کی اور تادم آخر جب تک اعضا و جوارح نے ساتھ دیا جدوجہد سے بھرپور زندگی بسر کی۔مولانا کی زندگی تقوی و پرہیزگاری کا نمونہ تھی،وہ انتہائی شفیق ملنسار اور انکساری و سادگی کا پیکر تھے۔ملت کے تمام علماء اور سیاسی و دینی قائدین سے ان کے بڑے قریبی تعلقات رہے۔اقامت دین کی جد وجہد کے دوران انہوں نے صبر و استقامت اور ثابت قدمی کے ساتھ جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔عرصہ دراز تک آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر رہے اس وقت بورڈ کو متحد رکھنے میں مولانا کی کوششوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔مسلم مجلس مشاورت و دیگر ملی و سماجی تنظیموں کے قیام میں ان کا بڑا اہم رول رہا۔ اسکے علاوہ ہیومین ویلفر ٹرسٹ اور اشاعت اسلام ٹرسٹ کے چیرمین کی حیشیت سے بھی خدمات انجام دیں۔مولانا محترم امیر حلقہ جماعت اسلامی ہندریاست میسور اور بعد میں کرناٹک کے امیر حلقہ رہے۔ وہ جماعت کے1981 تا 1991 (مرکزی قیم)سکریٹری جماعت اسلامی ہند رہے۔پھر تین میقات 1992 تا 2003 تک بحیثیت امیر جماعت اسلامی ہند انہوں نے اپنی خدمات انجام دیں۔مولانا کے غیر مسلم مذہبی و سماجی قائدین سے بڑے اچھے تعلقات تھے۔دوران امارات مولانا نے ہندو مسلم میل ملاپ اور فرقہ وارانہ بھائی چارہ کے لئے غیر معمولی خدمات انجام دیں اور دیگر تمام مذاہب کے ذمہ داروں کو لیکر کل ہند سطح پر دھارمک جن مورچہ کی داغ بیل ڈالی۔مولانا محمدسراج الحسن صاحب کی پیدائش 3 مارچ 1933کو بمقام جولگیرہ، تعلقہ سندھنور، ضلع رائچورمیں ہوئی تھی۔مولانا سراج الحسن صاحب کے جملہ6 فرزندان ااور ایک دخترہیں۔مولاناکی اہلیہ محترمہ اور ایک صاحزادے(محمد نجم الحسن صاحب) کاکچھ عرصہ قبل انتقال ہوا تھا۔لواحقین میں پانچ صاحبزادے جناب محمد ا بولمحسن(ریٹائرڈ ڈرگ کنٹرولر)،جناب محمد ابوالحسن،ڈاکٹر محمدنجیب الحسن،جناب محمد انوار الحسن،جناب محمد فیض الحسن اور ایک دختر شامل ہیں۔مولانا حامد محمد خان،امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند حلقہ تلنگانہ نے مولانا محمد سراج الحسن کی رحلت پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا نے زندگی کے آخری سانس تک تحریک اسلامی کے کام کو آگے بڑھانے اوردعوت دین کی جدوجہد میں اپنی زندگی صرف کی۔سابق امیر حلقہ جناب عبدالباسط انور،تیلگو مترجم تفہیم القرآن جناب ایس ایم ملک،ناظم شہر جماعت اسلامی ہند حیدرآباد جناب حافظ محمد رشاد الدین، جناب محمد اظہر الدین، ذمہ داران جماعت اسلامی و دیگر جماعتوں کے ذمہ داران نے بھی مولانا محمد سراج الحسن کے انتقال پر تعزیت پیش کی اور دعا کی کہ اللہ تعالی،مولانا محمد سراج الحسن کی مغفرت فرمائے۔جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرئے اورلواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ جناب محمد عاصم الدین اختر،امیر مقامی جماعت اسلامی ہند رائچور کی اطلاع کے بموجب ان شاء اللہ نماز جنازہ و تدفین کا اہتمام بتاریخ 3 اپریل 2020 بروز جمعہ ٹھیک ڈھائی بجے دوپہر بمقام بڈی بابا قبرستان، متصل مسجد منیر،رائچور میں ہوگا۔حالات کا لحاظ رکھتے ہوئے محدود تعداد میں اپنے مقام پر غائبانہ نماز جنازہ کا نظم کرنے کی گذارش کی گئی ہے۔مزید تفصیلات کے لئے ان نمبرات 9886869372یا 9902847445 پر ربط کیا جاسکتا ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/X5r4B

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.