Home / اہم ترین / مولانا وحیدالدین خاں کا انتقال ،پنچ پیراں قبرستان میں تدفین اہم شخصیات کی تعزیت

مولانا وحیدالدین خاں کا انتقال ،پنچ پیراں قبرستان میں تدفین اہم شخصیات کی تعزیت

User Rating: Be the first one !

نئی دہلی، (ہرپل نیوز؍ایجنسی)23؍اپریل : مشہور اسلامی اسکالر،عالم اسلام کی  نابغہ روزگار شخصیت اورمیگزین الرسالہ کے مدیر مولانا وحیدا لدین خاں کا  بدھ کی رات  دہلی کے  اپولواسپتال میں انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر تقریباً 96؍  سال تھی۔ پسماندگان میں دو بیٹے اوردو بیٹیاں ہیں۔ مولاوحیدالدین خاں کافی عرصے سےعلیل تھے۔ انہیں 12؍ اپریل کو اسپتال داخل کیا گیا تھا جہاں ان کی کورونا رپورٹ پازیٹیو آئی تھی ۔ بدھ کی رات انہوں نے آخری سانس لی ۔   ان کے بڑے فرزند ظفر الاسلام خان نے بتایا کہ ’’ مولانا کو اسپتال داخل کرنے کے بعد ان کی حالت بہتر ہو رہی تھی ۔ پیر سے  طبیعت میں کچھ افاقہ تھا ، انہیں بخار بھی نہیں تھا اور بدن میں آکسیجن کی سطح بھی بہتر ہو رہی تھی لیکن  بدھ کی رات ان کی حالت اچانک خراب ہوئی اور پھر وہ جانبر نہ ہو سکے۔‘‘قریبی اور خاندان کے افراد کی موجودگی میں نظام الدین کے پنج پیراں  قبرستان میں  جمعرات کی دوپہر کو  انہیںسپرد خاک کیا گیا ۔ کورونا پروٹوکول کی وجہ سے کم لوگوں کو شرکت کی اجازت تھی اس لئے خاندان کے افراد اور قریبی لوگ ہی تدفین میں شریک ہوپائے۔

  مولانا  ایک نابغہ روزگار شخصیت تھے۔مولانا کی تمام زندگی معرفت خدا اور امن و روحانیت سے عبارت تھی۔ وہ گہرے دینی فہم اور بصیرت کے مالک تھے ۔   انہیں عربی، انگریزی ،اردو اور ہندی  پر عبور حاصل تھا۔ انہوں نے اسلام پر کتابیں لکھنے کے علاوہ تفسیر بھی لکھی اور متعدد اصلاحی کتابیں تصنیف کی۔ وہ تقریباً 200؍ کتابوں کے مصنف تھے۔ انہوں نے جواہر لال نہرو، مولانا حسین احمدؒ مدنی، سبھاش چندر بوس  وغیرہ بھی کو دیکھا تھا اور ان کی تقریریں سنی تھیں۔ وہ گاندھیائی طرز فکر کو بھی اہمیت دیتے تھے۔مولانا کے انتقال سے عالم اسلام اور دنیا ایک بہترین اسکالر سے محروم ہوگئی  ۔ مولانا نے اپنے  میگزین الرسالہ  کے ذریعے بہت بڑے طبقے کی ذہنی تربیت کی اور انہیں منفی  سے مثبت سوچ کی طرف لیجانے کی کوشش کی۔ ان کی حیثیت سماج میں ایک مصلح کی بھی تھی۔وہ عرصہ تک جمعیۃ علماء سے وابستہ رہے جبکہ مدرسۃ الاصلاح، اعظم گڑھ سے فارغ التحصیل تھے۔

 مولانا وحید الدین خان کی تحریریں بلا تفریق مذہب و نسل مطالعہ کی جاتی ہیں۔  ٹی وی چینلوں میں آپ کے پروگرام نشر ہوتے رہے ہیں۔  ان کے لیکچرس خاص طور پر پسند کئے جاتے تھے ۔ مولانا وحیدالدین خاں عام طور پر دانشور طبقہ میں امن پسند مانے جاتے ہیں۔ ان کا مشن ہے مسلمانوںاور دیگر مذاہب کے لوگوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا تھا ۔   اسلام کے متعلق غیرمسلموں میں جو غلط فہمیاں ہیں انہیں دور کرنا   اور ان میں اسلام کے اصولوں کی تبلیغ ان کا نصب العین تھا۔ مسلمانوں میں غیر مسلموں کی ایذا وتکلیف پر یکطرفہ طور پرصبر اور اعراض کی تعلیم کو عام کرنے کیلئے انہوں نے کافی کام کیا  ۔   ان  کے انتقال پرصدر کووند اور وزیر اعظم نے اظہار تعزیت کیا ہے۔

صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’’مشہور اسلامی اسکالر مولانا وحید الدین خاں کے انتقال سے ہمیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔مولانا وحیدالدین ​​جنھیں پدم وبھوشن سے نوازا گیا تھا ، نے معاشرے میں امن ، ہم آہنگی اور اصلاحات میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے اہل خانہ،خیرخواہوں اور مداحوں سے میری تعزیت۔  وزیراعظم نریندر مودی نے مولانا  کے انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے  ٹویٹ کرکے کہا ’’مولانا وحید الدین خان کے انتقال کی خبر سن کر غمزدہ ہوں۔ عالم دین  ہونےاور روحانی امور پر گرفت رکھنے کے لئے انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ مسلم برادری کی خدمت اور انہیں سماجی طور پر بااختیار بنانے کا  ان میں جنون تھا۔ ان کے کنبے کے لوگوں اور پورے مسلم سماج سے میری تعزیت۔ خدا ان کی  روح کو سکون دے۔ ‘‘

 مولانا کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ وہ دین سے دور بھٹکتی نسل کو دین کے قریب لائے اور اُنہیں اپنے دین پر ایقان عطا کیا۔مولانا  مرحوم کی کتاب ’مذہب اور جدید چیلنج‘ دنیا کی نصف درجن سے زائد یونیورسٹیوں میں داخل نصاب ہے۔اس کے علاوہ ان کی متعدد کتابیں قبول عام کا درجہ پاچکی ہیں جن میں ’اللہ اکبر ‘ ،اسباق تاریخ ، عظمت اسلام ،دعوت اسلام اور دیگر شامل ہیں۔ ان کی سماجی و اصلاحی خدمات کے عوض انہیں حکومت کی جانب سے متعدد اعزازات سے نواز گیا جن میں پدم شری ،پدم بھوشن اور پدم وبھوشن  جیسے اعلیٰ ترین شہری اعزازات شامل ہیں۔  انہیں اسی سال جنوری میں ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہری اعزاز پدم وبھوشن سے سرفراز کئے جانے کا اعلان کیا گیا تھا ۔  ان کی موت سے بلاشبہ مسلمانوںکے علاوہ غیر مسلموںکا بھی ایک بڑا طبقہ غمگین ہے۔ فی الحال ان کے تصنیفی کارناموں کے رک جانے سے علمی  دنیا میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/r2iSi

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.