Home / اہم ترین / ’موچا ‘طوفان سے میانمار اور بنگلہ دیش میں لاکھوں افراد متاثر

’موچا ‘طوفان سے میانمار اور بنگلہ دیش میں لاکھوں افراد متاثر

ڈھاکہ:(ہرپل نیوز/ایجنسی)17؍مئی: موچا سمندری طوفان کو سن 2007 کے بعد سے اب تک کا سب سے طاقت ور سمندری طوفان قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ سے متعدد افراد ہلاک ہوگئے اور لاکھوں افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچانا پڑا ہے۔دو سو دس کلومیٹر کی رفتار سے چلنے والی تیز ہواؤں کی وجہ سے کچے مکانات اور جھونپڑیوں کی چھتیں اڑ گئیں اور حکام کو لاکھوں افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کے لیے کافی جدوجہد کرنی پڑی۔حالانکہ اب تک پانچ افراد کے ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ چونکہ طوفان کی وجہ سے میانمار کے افلاس زدہ ریاست رکھائن کا مواصلاتی نظام بری طرح متاثر ہواہے جس کی وجہ سے تباہی کے اثرات کا درست اندازہ لگانا فی الحال مشکل ہے۔

پچھلے پندرہ برس کے دوران آنے والے سب سے شدید ترین سمندری طوفان موچا کی وجہ سے بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی ساحلی علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے جب کہ میانمار کے بندرگاہی شہری ستوے میں مکانات پانی میں ڈوب گئے ہیں۔حکام اور امدادی کارکنوں کے مطابق میانمار کا اہم شہر ستوے پیر کے روز ملک کے دیگر حصوں سے کٹ گیا ہے۔ ڈیڑھ لاکھ آبادی والے اس شہرکو موچا کی سب سے زیادہ تباہ کاری جھیلنی پڑی ہے۔ادھر بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ موچا دس لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزین والے کاکس بازار علاقے کے قریب سے گزر گیا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

ستوے میں رکھائن یوتھ فلنتھراپک ایسوسی ایشن کے ایک رہنما کے مطابق 700 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں اور 20000 سے زائد افراد نے اونچی عمارتوں، بودھ عبادت گاہوں،پگوڑوں اور اسکولوں میں پناہ لے رکھی ہے۔بنگلہ دیش میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ وزارت کے سکریٹری قمرالحسن نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ بنگلہ دیشی حکام نے ساڑھے سات لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ طوفان کی وجہ سے کسی کی موت نہیں ہوئی ہے۔حکام نے بتایا کہ روہنگیا پناہ گزینوں کے کیمپوں میں نصب خیموں کو بہت زیادہ نقصان نہیں پہنچا ہے۔

ڈپٹی رفیوجی کمشنر شمس الدجی ٰنے بتایا کہ تقریباً 300 خیمے تباہ ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب آسمان صاف ہو گیا ہے۔بنگلہ دیش کے محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر عزیز الرحمن کے مطابق سن 2007میں آنے والے صدر سمندری طوفان کے بعد موچا اب تک کا سب سے طاقتورسمندری طوفان تھا۔نومبر2007 میں بنگلہ دیش کے جنوبی ساحل سے ٹکرانے والے صدر طوفان کی وجہ سے 3000سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور اربوں ڈالر کی مالیت کا نقصان ہوا تھا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/J8U0e

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.