Home / اہم ترین / مہاراشٹرا: شندے حکومت ایوان کے فلور ٹیسٹ میں بھی کامیاب ہوگئی

مہاراشٹرا: شندے حکومت ایوان کے فلور ٹیسٹ میں بھی کامیاب ہوگئی

ممبئی:(ہرپل نیوز؍ایجنسی)4؍جولائی:آج مہاراشٹر اسمبلی میں فلور ٹیسٹ کے دوران جیسا کہ توقع کی گئی تھی ویسا ہی ہوا۔ شندے حکومت نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا ہے۔ شندے حکومت کو 164 ایم ایل ایز کی حمایت ملی۔ جب کہ مخالفت میں محض99 ووٹ ڈالے گئے۔ اس طرح شندے حکومت فلور ٹیسٹ میں کامیاب ہو گئی۔ ووٹنگ کے وقت 266 ایم ایل ایز ایوان میں موجود تھے۔ ان میں سے تین ایم ایل ایز نے اپنا ووٹ نہیں ڈالا۔ 21 ارکان اسمبلی ایوان سے غیر حاضر رہے۔ووٹنگ سے پہلے سپریم کورٹ نے شیوسینا کی عرضی پر فوری سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ شیوسینا نے اسپیکر راہل نارویلکر کے فیصلے کے خلاف عرضی داخل کی تھی۔ اتوار کو اسپیکر نے اسمبلی میں شیوسینا کے لیڈر اور چیف وہپ کی پہچان ختم کر دی تھی۔مہاراشٹر میں 14 دنوں سے جاری سیاسی بحران کے درمیان این سی پی سربراہ شرد پوار نے بڑا بیان دیا ہے۔ ممبئی میں این سی پی ممبران اسمبلی کی میٹنگ میں پوار نے کہا کہ ایکناتھ شندے کی حکومت زیادہ دیر نہیں چلے گی۔6 ماہ میں حکومت گرجائے گی۔سب کو مڈ ٹرم الیکشن کی تیاری کرنی چاہیے۔اسپیکرکاانتخاب جیتنے کے بعدایکناتھ شندے کے دھڑے نے آدتیہ ٹھاکرے سمیت شیوسینا کے16 ایم ایل ایز کو نااہل قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شندے دھڑے کے چیف وہپ بھرت گوگاوالے نے نئے اسپیکر راہل نارویکر کو ایک خط سونپا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ 16 ایم ایل ایز نے وہپ کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس لیے ان کی رکنیت منسوخ کی جائے۔

اسپیکر نے ان کا خط لے کر اس پر غور کرنے کو کہا ہے۔ باغی دھڑے کے 16 ایم ایل ایز کی رکنیت کا معاملہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں ہے۔ایکناتھ شندے نے اتوار کو ادھو حکومت کو گرانے کے بعد اسمبلی میں پہلا فلور ٹیسٹ جیت لیا۔ بی جے پی کے راہول نارویکر کو اسمبلی کا نیا اسپیکر منتخب کیا گیا ہے۔ نارویکر کو 164 ووٹ ملے، جب کہ شیوسینا کے راجن سالوی کو 107 ووٹ ملے۔ ووٹنگ کے دوران این سی پی کے 7 اور کانگریس کے 2 ایم ایل اے غیر حاضر تھے۔ اسمبلی کی کارروائی شروع ہونے کے بعد اپوزیشن کے مطالبے پر ڈپٹی اسپیکر نرہری جروال نے ایم ایل اے کی گنتی شروع کی۔ اس وقت اسمبلی میں 287 ایم ایل ایز ہیں اور جیتنے کے لیے 144 کا جادوئی ہندسہ درکار تھا۔ تاہم ووٹنگ میں صرف 275 ایم ایل ایز نے حصہ لیا۔اسپیکرمیں نواب ملک (این سی پی)، انیل دیشمکھ (این سی پی)، مکتا تلک (بی جے پی)، لکشمن جگتاپ (بی جے پی)، پرنیت شندے (کانگریس)، دتا بھرے (این سی پی)، نیلیش لنکے (این سی پی)، انا بنسودے (این سی پی) شامل ہیں۔

انتخاب، دلیپ موہتے (این سی پی)، ببن شندے (این سی پی)، مفتی اسمعیل شاہ (اے آئی ایم آئی ایم) اور رنجیت کامبلے (کانگریس) نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔راہل نارویکر 2014 سے پہلے شیوسینا میں تھے، تاہم انہیں لوک سبھا کا ٹکٹ نہیں ملا، پھر پارٹی چھوڑ کر این سی پی میں شامل ہو گئے۔ 2014 میں انہوں نے ماول لوک سبھا سیٹ سے انتخاب لڑا، لیکن انہیں شکست ہوئی۔ نارویکر پھر بی جے پی میں شامل ہو گئے۔2016 میں نارویکر گورنر کے کوٹے سے قانون ساز کونسل میں پہنچے تھے۔ اس کے ساتھ ہی 2019 کے اسمبلی انتخابات میں انہوں نے کولابہ اسمبلی سیٹ سے کامیابی حاصل کی۔ راہل نارویکر کو بی جے پی اتحاد کے 106 ایم ایل اے، شیوسینا کے 39 اور آزاد امیدواروں کے 19 ووٹ ملے ہیں۔20 جون کو شیوسینا کے تقریباً 20 ایم ایل اے ایکناتھ شندے کے ساتھ سورت کے لیے روانہ ہوئے، جس کے بعد ان ایم ایل اے کو گوہاٹی لے جایا گیا۔ ایم ایل اے تقریباً 6 دن تک گوہاٹی میں رہے۔ اس کے بعد شندے دھڑے نے دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ 39 ایم ایل اے ہیں۔ساتھ ہی اس معاملے میں سپریم کورٹ میں بھی انٹری ہوئی جس کے بعد عدالت نے 11 جولائی کو سماعت کرنے کا کہا ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے فلور ٹیسٹ کرانے کی گورنر کی ہدایت کے بعد 29 جون کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/foGWW

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.