Home / اہم ترین / ویکسین کی بجائے نمک کا پانی۔ بڑی دھاندلی کا انکشاف،14 گرفتار

ویکسین کی بجائے نمک کا پانی۔ بڑی دھاندلی کا انکشاف،14 گرفتار

نئی دہلی (ہرپل نیوز،ایجنسی)7جولائی: ہندوستان میں کورونا وائرس ویکسین کے نام پر ہزاروں افراد بڑے پیمانہ پر نقلی ویکسین فروخت کرنے والے اسکام کا شکار ہوچکے ہیں جس میں ڈاکٹرس اور کئی میڈیکل ورکرس ملوث ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اِس اسکام میں ملوث کئی افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ ملک کی مغربی ریاست مہاراشٹرا کے تجارتی دارالحکومت ممبئی کے قرب و جوار میں کم از کم 12 نقلی ویکسین کی مہمات چلائی گئیں۔ ممبئی پولیس ڈپارٹمنٹ کے سینئر عہدیدار وشال ٹھاکر نے بتایا کہ وہ لوگ اصل ویکسین کے بجائے نمک کا پانی سیرینج میں ڈال کر ٹیکے لگاتے رہے ہیں۔ جہاں کہیں اُنھوں نے ویکسینیشن کیمپ لگایا، وہاں وہ لوگ یہی کام کرتے رہے۔ ایک اندازہ کے مطابق 2500 افراد کو نقلی کوویڈ ویکسین لگائے گئے۔ آرگنائزرس نے اپنے سنٹرس سے رجوع ہونے والوں سے ٹیکہ اندازی کے لئے فیس وصول کی اور اس طرح انھوں نے تقریباً 28,000 ڈالر کمائے۔ وشال ٹھاکر نے بتایا کہ کئی ڈاکٹرس گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ وہ ایک ہاسپٹل کو استعمال کرتے رہے جہاں سے جعلی سرٹیفکٹ، ویکسین کی خوراکیں اور سیرینجس اُنھیں مہیا کئے گئے۔ ابھی تک 14 افراد کو دھوکہ دہی، نسل کشی کی کوشش، مجرمانہ سازش اور دیگر الزامات پر گرفتار کیا جاچکا ہے۔ مزید گرفتاریاں ہوسکتی ہیں کیوں کہ پولیس کی اِس اسکام میں ملوث دیگر لوگوں سے تحقیقات جاری ہیں۔ ہندوستان میں اپریل اور اوائل جون کے درمیان کورونا وائرس کی دوسری لہر کا قہر برپا رہا جس سے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے اور دسیوں ہزار مریض فوت ہوگئے۔ مئی میں کورونا وائرس عروج پر پہونچنے کے بعد بتدریج گھٹ گیا جس سے میڈیکل سسٹم پر دباؤ کم ہوا اور حکام کو اِس مدت میں ویکسینیشن پروگرام میں شدت پیدا کرنے کا موقع ملا۔ جون میں وزیراعظم نریندر مودی نے مرکز کی طرف سے ویکسین کی مہم کا اعلان کیا جس میں ریاستوں کو مرکزی حکومت کی طرف سے قابل لحاظ ویکسین ڈوز فراہم کئے گئے۔ جلد ہی ملک بھر میں ایک روز میں 80 لاکھ ویکسین دیئے گئے جو ایک ریکارڈ ہے لیکن متوازی خطوط پر سازشی اور غیر سماجی عناصر پر مشتمل افراد کی ٹولی نے ایک اسکام کو روبہ عمل لانے کی راہ ہموار کرلی۔ اِس ٹولی نے ممبئی کے اطراف و اکناف کے لوگوں کو نشانہ بنایا اور خوب رقم جمع کرلی۔ پولیس اپنی تحقیقات کررہی ہے وہیں قانونی کارروائی بھی جاری ہے۔ ممبئی کے وکیل سدھارتھ چندرشیکھر نے 24 جون کو مفاد عامہ کا مقدمہ دائر کیا جس کے ذریعہ نشاندہی کی کہ پبلک پراسکیوٹر پہلے ہی اسکام کے زائد 2000 متاثرین کی تصدیق کرچکے ہیں۔ بامبے ہائیکورٹ نے اِس پر سخت حیرانی ظاہر کی اور کہاکہ الزامات سنگین ہیں۔ عدالت نے ریاستی اور مقامی حکام سے فوری کارروائی کے لئے کہا تاکہ بھولے بھالےافراد کو مستقبل میں دھوکہ نہ دیا جاسکے۔

بشکریہ سیاست حیدرآباد

The short URL of the present article is: http://harpal.in/SpxHn

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.