Home / اہم ترین / واضح دیار علم کے روشن چراغ تھے۔ بقلم :مولاناسید ہاشم نظام ندوی

واضح دیار علم کے روشن چراغ تھے۔ بقلم :مولاناسید ہاشم نظام ندوی

مولانا واضح رشید ندوی کے انتقال پر ان کے ایک باکمال شاگرد کی طرف سے  خراج عقیدت سے بھرپور تحریر

کہتے ہیں کہ بعض اوقات نہایت قدآور اور بڑی بڑی شخصیات ہمارے اردگرد موجود ہوتی ہیں مگر ہمیں  اس کااحساس نہیں ہوپاتا کہ وہ ہمارے قریب ہی کہیں موجود ہیں، یا ہماری غفلت کی وجہ سے ہم ان کی زندگیوں میں قدر نہیں کر پاتے ہیں،ایسی شخصیات کے دنیا سے گزر جانےکے بعد پتہ چلتا ہے کہ کس قدر بڑا انسان ہمیں داغِ مفارقت دے گیا، قوم کس سرمایہ سے محروم ہوگئی ، گویاکارواں سے میرِ کارواں چل بسا۔جی ہاں اسی طرح کی ایک شخصیت ،جو انتہائی قدآورتھی ، اسلامی صحافت کے علمبردار،عربی زبان کے مایہ ناز فنکار، قلم کے شہسوار، بہترین نثر نگار، ادبِ اسلامی کےقافلۂ ادباء کےسالار تھے، جسے مولانا سید واضح رشید حسنی ندوی سے یاد کیا جاتا ہے، بدھ کی شب  تھی ، رات کی  تاریکی پر  صبح صادق کی مدھم مدھم روشنی غالب آرہی تھی، آپ سخت سردی میں تھنڈے پانی سے وضو فرما چکے تھے،وضو کے فورا بعد طبیعت میں گرانی محسوس ہوئی،اور اس قدر مضمحل ہوتی گئی کہ احباب کو بات سمجھ میں آتی، اس سے پہلے ہی معاملہ ہاتھ سے نکل گیا، حضرت نے معافی کے ساتھ دعا و درود کی تلقین فرمائی، سب دعا ومناجات میں مشغول ہوگئے،سورۂ  یسین کی تلاوت بھی شروع ہو ئی،تکلیف میں بظاہر کچھ تخفیف معلوم ہونے لگی ، كہ اذان فجر  كا وقت آ پہنچا، مؤذن نے اذان شروع کی ،اور اسی دوران با وضو اذان کے  کلمات سنتے سنتے  آپ نے داعئ اجل کو لبیک کہا ۔ إنا لله وإليه راجعون ۔
آپ چلے گئے مگر آپ کا جانا عام آدمیوں کے جانے کی طرح نہیں تھا، اور آپ کے جانے سے ایسا خلاپیداہوگیا  جس کو پر ہوتے ایک زمانہ لگے گا ،آپ کی وفات سے فرزندان دار العلوم ندوۃ العلماء کےسروں سےعلمی و تعلیمی سرپرستی  كا سایہ اٹھ گیا،خاندانِ حسنی اورخانوادۂعلم اللہی کا روشن چراغ گل ہوا،دار العلوم ندوۃ العلماء کا ایک قابلِ فخر سپوت چل بسا،ندوہ اپنا معتمدِ تعلیم،مجلہ" البعث الاسلامی" اپنا مدیرِمعاون اورجریدۂ " الرائد "اپنا مدیر اعلی کھو بیٹا ،آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈمیں ایک بنیادی رکن اور رہبر کا خلا پیدا ہوا،حلقۂ پیامِ انسانیت كامخلص مشیرکوچ كر گیا،عالمی رابطہ ادب اسلامی كا جنرل سکریٹری داغِ مفارقت دے گیا،كئی  مدارس اور مکاتب اپنے ناظمِ اعلی و سرپرست سے اورعالم اسلامی ایک عظیم ادیب اورمصنف،دانش وراور مشیر،اور خاموش مجاہد و صحافی سے محروم ہوگیا۔
آخری وصیت :آپ چلے گئے ، لیکن چلتے چلتے  چند وصیتوں اور نصیحتوں کے ساتھ اپنا آخری پیغام بھی امت کے نام دے گئے ،جن کا خلاصہ رفیق مکرم مولانا کے   بھتیجےمولانا محمود الحسن حسنی ندوی نے یوں بیان فرمایا،  پہلی وصیت سورۂآلِ عمران کی آخری آیت پڑھ کر ، اس سے لطف لیتے ہوئے فرمانے لگے کہ زندگی کے نشیب وفرازمیں صبر و تقوی كو تھامے رکھو ،قربانیوں کے لئے تیار رہو،  اسی میں کامیابی مضمر ہے، یہی دین  کا خلاصہ ہے   اور اسی میں زندگی کی حقیقی کامیابی کا راز بھی ہے ۔
دوسری نصیحت یہ تھی کہ اہلِ كفرونفاق  كے غلبہ اور ان كے دور دورے سے مسلمانوں كو پریشان نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی اس سے دھوكہ میں آنے كی ضرورت ہے، اہلِ ایمان كےلئے  آخرت ہے  ، یہ دنیا چند روزہ ہے ۔
تیسری وصیت پہلی وصیت ہی کے ضمن میں تھی کہ سورۂ آل عمران كی اس آخری آیت كو لكھ كر در و دیوار پر آویزاں كرنا چاہئے "  يا أيها الذين آمنوا اصبروا وصابروا ورابطو واتقوا الله لعلكم تفلحون ( آل عمران ۲۰۰ ) " اے ایمان والو تم ثابت قدم رہو، اور ایک دوسرے کو تھامے رکھو اور جہاد کے لئے تیار رہو اور اللہ تعالی سے ڈرتے رہو تاکہ تم مراد کو پہنچو  "
ذات وصفات  اورخصوصی امتیازات :۔            آپ نجیب الطرفین تھے ، شجرۂ نسب مبارك تھا ،دونوں طرف سادات كا سلسلۂ ذرین تھا ، نسبی  بركت كے ساتھ ساتھ علم وحکمت بھی موجود تھی اورروحانیت ومعرفت بھی،جس كا اثر آپ پر بھی نمایاں تھا ، آپ علم وعمل کی جیتی جاگتی  تصویرتھے، پرہیزگاری وپاکبازی کااعلی نمونہ تھے،ولی صفت انسان تھے ، آپ کی زندگی صدق وصفا کی کتاب تھی، زہد وتقوی سے عبارت تھی ،ساتھ میں رہنے والوں كا بیان ہے كہ آپ میں آخرت كا استحضار ہمہ وقت رہتا، آخری درجہ كا مراقبہ فرماتے، ہر دن كو زندگی كا آخری دن اور ہر گھڑی كو آخری گھڑی گردانتے۔ حقیقی معنی میں نمونہ سلف تھے، انتہائی متواضع ومنکسرالمزاج تھے، نماز وں کے بعدتلاوت قرآن کا اہتمام كرتے، تلاوت بھی ایسی كہ ایك ایك حرف سمجھ سمجھ كر عشقِ الہی میں سرشار ہو کر کرتے،آخری عمر میں جب بینائی متاثر ہوگئی تھی، دیكھ كر پڑھنے میں دقت ہو رہی تھی، اس لئے آپ كے پوتے مولوی خلیل حسنی سلمہ اللہ تعالی پڑھ كر سناتے، لکھنا اور پڑھنا زندگی کے معمولات میں شامل تھا،اپنی ذات کوشہرت نام ونمود سے محفوظ رکھا، بڑی سے بڑی کمیٹیوں اور عہدوں تک رسائی پائی،مگر عہدوں پر فخر کرنے کے بجائے اس کو بارِ امانت گردانا ،احساسِ ذمہ داری کو اپنے اوپر سوار کیا، اس کے نبھانے کے لیے فکریں کیں ، اپنا ہر ممکن تعاون پیش کیا، اس نام ونمود کے دوراور شہرت کے بازارمیں اس طرح کی بے نفسی اور منکسر المزاجی کی مثالیں خال خال نظر آتی ہیں ۔ نخوت اور خود بینی کا مفہوم ہی ان کے ذہن سے غائب تھا،کبھی کسی ملاقاتی کے سامنے اپنی شخصیت کا اظہار نہیں فرماتے۔ اپنے حسن اخلاق کے طفیل اپنا مخالف شاید ہی کسی کو چھوڑا ہو، ہرمكتبۂ فکر کے افراد کے ساتھ محبوبیت کا اظہارفرماتے ،بد گمانی سے پرہیز کرتے،عوام وخواص سے یکساں محبت کرتے، استغناء اورخوداری ورثے میں ملی تھی، حیا کا حقیقی مفہوم آپ کی زندگی پر منعکس تھا عزم و استقلال کے پہاڑتھے۔ کہتے کم اور لکھتے زیادہ، بولتے کم اور کرتے بہت تھے، گفتار سے بڑھ کر کردار کے غازی تھے، تقریر کے شوقین نہ تھے، بلکہ ضرورت کے وقت بقدرِ ضرورت بولتے ، انتہائی اختصار کے ساتھ جامع الفاظ میں مافی الضمیر ادا فرماتے، پانچ منٹ میں پچاس منٹوں کا خلاصہ کرتے، گھنٹوں کو منٹوں میں سمیٹ دیتے ۔
فکر اسلامی کی صحیح  ترجمانی : ۔            آپ زبان کی باریکیوں ، الفاظ کے حسنِ انتخاب اورمعانی کی لطافتوں و نزاکتوں سے بخوبی واقف تھے اور ہر موضوع کو زبان کی لطافت اور کمالات کی وسعت کے ساتھ پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ جس موضوع پر لکھتے اپنی انفرادیت قائم رکھتے،زبان وبیان کے جمال کو دوبالا کرتے، جملہ اسلامی علوم پرآپ کی فکر نہایت گہری اورانتہائی وسیع تھی ،فكرِ اسلامی پر حد درجہ دسترس تھی، آپ نے مطالعہ کا محور کسی خاص فکر وخیال کو نہیں رکھا، صرف ایک تہذیب وتمدن تک محدود نہیں رکھاتھا  بلکہ تمام اسلامی مفكرین كی كتابوں سے حتی المقدور مستفید ہوئے تھے ۔
آپ کی تحریریں اور کتابیں فکرکی بلند پروازی کا بین ثبوت ہیں،آپ کا مفکرانہ ذہن قرآنی بصیرت کی روشنی میں معاملات پر غور و فکر کرتا ،جس میں ایمانی حرارت بھی شامل ہوتی۔ فکرِ ولی اللہی کے حقیقی ترجمان اورمفکراسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی ؒ کے افکار کے  حقیقی داعی اور انکی تحریروں کے امین تھے، قدیم وجدید کا حسین امتزاج ندوۃ العلماء کے تخیل کا زندہ جاوید پیکرتھے،قدیم صالح اور جدید نافع  اور خذ ما صفا ودع ما کدر  کے اصول پر عمل پیرا تھے ، علیگڑھ اور ندوہ کی تعلیم اور وہاں كے ماحول کے حسین امتزاج نے فكرمیں اعتدال اور توازن پیدا كر دیا تھا ،ہر خیر کو سراہتے ، تدریس ہو کہ صحافت ،دعوتی و فکری محاذ ہو یا مستشرقین کی یلغار ،ہر محاذ پر مؤثر انداز اور حکیمانہ اسلوب میں اسلام کا دفاع فرماتے، علمی گہرائی کے ساتھ فکرِ اسلامی کی تشریح کرتے، اپنے ارشادات و فرمودات سے ٹھنڈے دلوں میں زندگی کی ایک روح پیداکردی، کتنے بے ہمت اشخاص بلندحوصلہ ہوئے، اور كتنے مایوس افراد منزل مقصود  پا گئے ۔
اسلامی صحافت سے فریضۂ دعوت تك:۔            آج صحافت کے نام پر تجارت ہو رہی ہے، پیشہ ور صحافیوں کو قلم کا تاجر کہا جاتا ہے، صحافت آپ کے یہاں پیشہ نہیں تھا، تجارت نہیں تھی، بلکہ زندگی کا ایک مشن تھا، دعوت الی اللہ کا وسیلہ اور عبادت کا ذریعہ تھا،ملت کی ٹھوس تعمیری خدمت اور فکری راہنمائی ان کا نصب العین تھا،وہ ایک باضمیر صحافی تھے ، بامقصد ادیب تھے، بغیر کسی کی خوش آمد کئے ہوئے ایک زندہ ضمیر کے ساتھ اسی خدمت میں لگے رہے، اپنی قلمی صلاحیتوں کو دین وملت کی خدمت کے لیے وقف کر دیا،ملک ووطن کو مستفید کیا،صحافت مولانا کی زندگی کا ایک حصہ تھا،صحافت کو آپ سے اور آپ کو صحافت سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔آپ نے صحافت کے ذریعہ عربی اردو اور انگریزی تینوں زبانوں میں عظیم خدمات انجام دیں،تینوں زبانوں کی صحافت سے باخبر رہے،عالمی حالات پر گہری نظر رکھی، اس پر بے لاگ اور مثبت تجزیے فرمائے، مغربی تہذیب کے خطرات سے آگاہ فرمایا، تعلیم وصحافت کے ذریعہ آنے والے مضر اثرات اور ارتداد کے خطرات سے آگاہ فرمایا، بالخصوص آپ کے قلم گوہر بار سے عربی زبان کی غیر معمولی خدمات انجام پائی،اورجہاں دامنِ عربی میں ایک بڑا ذخیرہ جمع ہوگیا،وہیں اربابِ اردو نے بھی ایک قیمتی سرمایہ پایا،اس طرح آفاقی اور عالمی زبانوں کی خدمت کے ذریعہ آپ کی شخصیت بھی عالمی اور آفاقی بن گئی ،آپ کی ذات سے عرب وعجم کو یکساں فیض پہونچا،آپ کے علمی محاضرات، ثقافتی و فکری خطبات اور افکار وخیالات سے لاکھوں بندگانِ خدا نے فائدہ اٹھایا،اور ان شاء اللہ مولانا کی وفات سے یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا بلکہ یہ سلسلہ جاری رہے گا اور اس چشمہ سے آنے والی نسلیں سیراب ہوتی رہیں گی۔ اورجریدہ "الرائد "نے جہاں امت مسلمہ کی فکری رہنمائی میں حصہ لیا وہیں انھیں صحافیانہ ذمہ داریاں نبھانے، سچائی و صداقت اور حق و حقیت کے چراغ روشن کرنے کے گر بتلائے ۔
آپ كا مزاج  خالص دعوتی تھا،جماعتِ عوت وتبلیغ سے بھی بڑی مناسبت تھی، اس كی افادیت كے قائل ہی نہیں بلكہ اس میں عملا شریك بھی رہے، اپنی جوانی كا ایك حصہ لگایا، حضرت جی مولا محمد یوسف صاحب كاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ كے ساتھ تبلیغی محنت میں شریك ہوئے  جبكہ حضرت جی مولانا انعام الحسن رحمۃ اللہ علیہ كے ساتھ  چلہ میں وقت بھی گزارا ۔
درس وتدریس سے افراد سازی تک:جی ہاں یہ بات بالکل صحیح ہے کہ "استاد ہی لکھتے ہیں نئی صبح کی تحریر"، وہی مستقبل کے معمار ہوتے ہیں، انہی کے ہاتھوں قوم کا مقدر چمکتا ہے، انہی سے قوم و ملت كی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں،آپ کی خدمات کا ایک سلسلہ درس وتدریس  سے بھی جڑا ہوا ہے ، سنہ عیسوی ۱۹۷۱ سے دار العلوم ندوۃ العلماء میں بحیثیت استاد ادب عربی تقرر ہوا، ذرا غور کیجیے کہ یہ کس قدر قربانی کا مرحلہ تھا، کہ آپ دہلی میں رہ کر آل انڈیا ریڈیو میں عربی زبان کی ہی خدمت انجام دےرہے تھے ، جہاں کا قیام کئی حیثیتوں سے مفید اور بہتر تھا، مادی اعتبار سے بھی آپ کا روشن وتابناک مستقبل وہیں سے وابستہ تھا، مگر آپ نےاپنے بڑوں کے اشارے اور اپنے خالِ معظم سابق ناظم ندوۃ العلماء مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کے ایماء پران تمام مفادات کو قربان کر دیا اور اپنے مادرِ علمی دار العلوم کو ترجیح دی، ریڈیو کی اعلی درجہ کی ملازمت کو خیر باد کیا ،دینی خدمت کے جذبہ سے دار العلوم سے جڑ گئے، آپ نے جس قربانی کے ساتھ دار العلوم میں قیام فرمایا تھا،یقینا یہ قربانیاں رنگ لائیں اور  ان کاتذکرہ ان شاء اللہ العزیز تاقیامت باقی اور آپ کے فیوض کا سلسلہ جاری رہے گا۔
دار العلوم میں رہ کر آپ نے افراد سازی کی طرف اپنی توجہ مبذول فرمائی، کئی نسلوں کی تربیت کی،آپ قلم کار نہیں بلکہ قلم گر ٹہرائے، کتنوں کو عربی کا اچھا انشاء پرداز بنایا، ہزاروں  کو سوچنے کے زوایے دئے، سمجھنے کے گر سکھلائے، خدمتِ دین میں ترجیحات کو اپنانے کا سلیقہ بتلایا، روز مرہ کی خبروں پر بے جا تبصروں کے بجائے با مقصد رخ پر کام کرنے کی صلاح دی،آپ نےدرس وتدریس، صحافت اور ہر شخصی ملاقاتوں سے ہرمیدان کے افراد تیار کئے۔ اور اپنی شبانہ روز کوششوں سے کچھ ایسے نامور اہل قلم اورصحافیوں کی بھی کھیپ تیار کی جو آج ایک اچھے دانشور اور کامیاب صحافی کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں،ایك چراغ گل ہونے سے پہلے ہی ہزاروں چراغوں كو روشن كر گیا،ایك چشمہ سے ہزار چشمے پھوٹے ، جس سے آنے والی نسلیں سیراب ہوتی رہیں گی، درس وتدریس اور افراد سازی كی یہی ایک خدمت آپ کو ممتاز بنانے کے لیے کافی تھی  ۔
تحریر سے تصنیف وتالیف تک ۔محض توفیقِ الہی اور فضلِ ربانی ہی کہا جا سکتا ہے  کہ آپ کی پیدائش ایک ایسے خاندان میں ہوئی ، جوعلم وادب  کا گہوارہ ہے ،فکر وفن کی قدر جس خاندان کاحقیقی ورثہ ہے ، علم و حکمت  سے وابستگی اس کا لازمی لاحقہ ہے، تحریر وتصنیف جس کا  امتیاز ہے  ، لہذا اس عظیم علمی خانوادہ كا علمی ذوق وشوق آپ كورثہ میں مل گیا ، بچپن  ہی سے علمی اور تعلیمی ماحول میسر آیا، مزید آپ كی كوششوں اور شبانہ روز كے علمی شغف نے اور جلا بخشا۔            آپ کی تحریر رواں اور ادیبانہ ، زبان میں برجستگی ، انذاز بیان میں شگفتگی ،اسلوب میں سنجیدگی اور الفاظ میں حسنِ معنوی اور صوری بھی رہتا،اوریہ اسلوب ایسا تھا جو  نازک ترین  فکری، اجتماعی اور سیاسی مسائل پر لکھتے  وقت بھی آپ کے ساتھ رہتا،پورے حکیمانہ انداز  میں پیش کرتے، آپ نے اپنے وسیع مطالعہ كے حاصلِ مطالعہ كو  قلمبند کر کے نئی نسل پر احسان کیا، اپنے افکار و نظریات کو تحریر کا جامہ پہنایا،اپنے خیالات وتجربا ت كو الفاظ کا پیراہن دےكر اسے  تاریخ كا حصہ بنا دیا، وقت تو گزر جاتا ہے مگر بیتے لمحوں کو اپنے قلم کی روشنی سے اسیر کرنا کسی کسی کے نصیب میں آتا ہے، کس قدر رواں اور شستہ تحریر فرماتے،  واقعات سے عبرت حاصل كرنا اور اس كاتجزیہ كرنا  یہ ہر لکھاری کے بس میں کہاں؟  ۔              آپ نے عربی اور اردو دونوں زبانوں میں تحریر فرمایا، البتہ اکثر وبیشتر تصنیفات عربی میں ہیں، مقالات بھی عربی ہی میں تحریر کرنا پسند فرماتے،اپنی تحریروں سے مغربیت کا چہرہ دکھلایا، مستشرقین پر لکھا اور اسلام کی حقانیت، اس کی برتری اور فوقیت کو ظاہر کیا ،نظامِ تعلیم وتربیت پر عالمانہ تبصرے كئے، مبصرانہ تجزیے لكھے، تعلیمی راہ سے آنے والے اندیشے اور تقاضے بتلائے۔عربی زبان وادب، اس كی خصوصیات اور امتیازات پر بھی مستقل تالیف فرمایا،ادب اسلامی كے ساتھ ساتھ ادبِ جاہلی پر بھی خوب لكھا، ادبِ عربی میں نصابی كتابوں كے لئے تصنیفی مواد فراہم كیا، زمانہء جاہلیت سے كر عصرِ حاضر تك كے اہم ادباء اور اہلِ قلم كی نشاندہی فرمائی ،شیخ الحدیث حضرت مولانا زكریا رحمۃ اللہ علیہ كی كتاب فضائل قرآن اور فضائل درود كا سلیس عربی میں ترجمہ كر كے عربی كتب خانہ میں گرانقدر اضافہ فرمایا، حجاز ِ مقدس اور جزیرۃ العرب كے سفرنامے قلمبند كئے ۔سوانح میں حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ اور ان تحریك كے علاوہ اپنے کرم فرما مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی پر لكھ كر ان  کے فکری پہلؤوں کو واضح كیا، ان كے افكار كی روشنی میں دعوتِ اسلامی كے تقاضوں كی طرف نشاندہی كی،مختصر شمائلِ محمدیہ پر لكھنے كے بعدسیرتِ محمدیہ اور ادب ِ نبوی پر گرانقدر مواد جمع فرمایا اور آخری كتاب جو انتقال سے دو ہی دن قبل زیورِ طبع سے آراستہ ہو كر آئی، وہ حضراتِ صحابہء كرام كی مثالی زندگی تھی ۔
قابلِ تقلید رفاقت :آج مولانا کی جدائی پر زمانہ سوگوار ہے، مگر ذرا اس بڑے بھائی حضرت مولاناسید محمدرابع حسنی ندوی(ناظم ندوۃ العلماء)مدظلہ العالی  کا سوچئے ، جو عمر کے تفاوت میں تقریبا چار سال بڑے ہیں ، مگر جو دونوں "اک جان دو قالب " کے مصداق رہے ، جن دونوں كا ساتھ عمر عزیز کے اکثر حصہ پر محیط تھا،دونوں ایك دوسرے سے الگ ہونا پسند نہیں كرتے ، حضرت مولانا كے لئے آپ ایك نہیں دونوں بازؤں  كی طرح تھے، ایك ہی كمرہ میں دونوں كا قیام رہتاتھا، تقریبا ہر سفر میں دونوں ساتھ رہتے، ہمہ وقت دینی اور تعلیمی امور پر تبادلۂ خیالات کرتے،قومی اور ملی مسائل پر گفت وشنید ہوتی،آپ کا  مشورہ کامیابی وروشن مستقبل کی ضمانت ہوتا،مسائل کے صحیح پیش کرنے میں آپ بھی بحیثیت مشیر شریک رہے ، جس طرح ایك سایہ كے مانند ہمہ وقت اپنے بھائی کے ساتھ رہے ہیں اور ہر ایک معاملہ میں باہمی مشورہ كے ساتھ طے كیا ہے یقینا ایك قابلِ تقلید عمل ہے۔ اللہ تعالی مخدومی حضرت مولانارابع صاحب دامت برکاتہم کا سایۂ عاطفت امت تا دیر باقی رکھے ، اس اندوہناک سانحہ اور چھوٹے بھائی کے فراق پر صبر جمیل عطا فرمائے ۔
کچھ یادیں :توفیقِ الہی اور فضلِ خداوندی كے سبب حضرتِ والا رحمہ اللہ سے شرفِ تلمذ حاصل ہوا، استفادہ كے مواقع ملے، دار العلوم ندوۃ العلماء سے فراغت كے بعد بھی روابط بحال رہے، موقعہ بہ موقعہ خدمتِ گرامی میں حاضری كے مواقع ملے، شكر وسپاس كے جذبہ سے سرشار ہو كر یہ اعتراف بھی میرا واجبی حق ہے كہ اس خانوادہ كے اكابرین سے ملاقاتوں اور ان سے روابط كو بنائے بلكہ نبھائے ركھنے میں رفیق مكرم اور مخلص دوست مولانا سید محمود الحسن حسنی ندوی مد ظلہ العالی كا بہت بڑا حصہ ہے۔اس لئے مولانا مرحوم كے تعلق سے بھی متفرق یادیں ہیں جو ماضی كے حسین لمحات بن چكے ہیں، مناسب معلوم ہوتا ہے كہ زیرِ نظر مضمون میں دو تین كو برسبیلِ تذكرہ رقم كیا جائے، تاكہ ذكرِ خیر كا كچھ حق ادا ہو سكے ۔
گزشتہ سال بھٹکل میں منعقدہ حضرت مولانا پر عالمی سمینار میں راقم الحروف كا موضوع تھا " اسلامی صحافت  اور مفکر اسلام" جو کافی ضخیم مقالہ بلکہ ایک کتابچہ کی شکل اختیار كر چكا تھا، تیار کرتے ہی ایک نظرسرسری نظر  استاد گرامی قدر مولانا نذر الحفیظ صاحب کو دکھایا، پھر اپنے دوست  فاضل مصنف مولانا محمود حسنی ندوی نے بھی طائرانہ نظر ڈالی، اس کے بعد مہمان خانہ میں مولانا کے کمرہ کا رخ کیا، مولانا کی خدمت میں مقالہ  پیش کیا، آپ نے شروع کے دو تین صفحات پر نظر ڈالی، اس کے بعد صحافت کے تعلق سےانتہائی قیمتی باتیں گوش گزار فرمائیں، اس موضوع کی حساسیت کی طرف اشارہ فرمایا،ضرورت اور تقاضوں کو بتلایا،میرا یہ پہلا موقعہ تھا کہ مولانا کی زبانی اتنی گہرائی اور پوری وضاحت کے ساتھ میڈیا پر بات رکھی ہو،  حضرت مولانا نے اسلامی صحافت میں جو کارہائے نمایاں انجام دئے تھے اس کا جامع خلاصہ پیش فرمایا، میں گھر گیا ، دوسرے دن مجھے مقالہ پیش کرنا تھا مگر موضوع کا حق ادا نہ ہونے اور مواد میں اضافہ کرنے کی غرض سے بیٹھ گیا اور ایک دن میں اس کو تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کی۔
مرکز جمعۃ الماجد للثقافۃ والتراث کی طرف سے ڈاکٹر عز الدین بن زغیبۃ الجزائری کے ساتھ جب ندوۃ العلماء حاضری ہوئی تو آپ نے دو نشستوں میں مختصر اور جامع انداز میں عالمی حالات پر تبصرہ فرمائے،دینی  تقاضوں کو سامنے رکھا۔اسی لئے موصوف کی زبان پر آپ کا تذکرہ رہتا، اور جب انتقال کی خبر سنی، تو اسی وقت سوشیل میڈیا کے ذریعہ عرب دنیا میں اس خبر کو نشر کرنے میں سبقت لے گئے ۔راقم کو آپ سے براہِ راست استفادہ کا موقع فضیلت کے دو سال  بعد کے خصوصی درجہ " المعہد العالی للدعوۃ والفکر الاسلامی" میں ملا، اس وقت ہم پانچ ساتھی تھے، قریب رہ کر استفادہ کیا،جس میں فکر اسلامی کی تشریح کا خاص اندازپایا، مکاتب فکر کی خوبصورت ترجمانی کرتے دیکھا، ہر خیر کو قبول کرنے بلکہ اس کو سراہنے كاجذبہ پایا ۔
آج سے چھ سال قبل اپنے بڑوں سے مشوروں کے بعد جب فکر وخبر  کے قیام کی توفیق ملی،تو سوشیل  میڈیا میں قدم رکھنے کے بعد قربت اور بڑھتی گئی، ہر ملاقات پر اپنے بڑے بھائی حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی مد ظلہ العالی  کی طرح فکر وخبر کے متعلق دریافت فرماتے،اس کی ضرورت کو اجاگر کرتے، تعریفی کلمات سے ہمت افزائی فرماتے، زمانہ کے تقاضوں کو بتلاتے، آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے اور کبھی مفید مشوروں سے نوازتے۔
دست قضا نے ہم سے جدا کر دیا جسے      وہ  تو  دیار  علم  کا  روشن  نشان  تھا
تاریکیوں میں شمعِ  ہدایت تھا اس کا نام       ۔  وہ پتھروں کے شہر میں ہیرے کی کان تھا
♦مضمون نگار بھٹکل کے ممتاز عالم دین اور معروف نیوز پورٹل’’ فکرو خبر‘‘ کے ایڈیٹر ان چیف ہیں۔(ہرپل) 

The short URL of the present article is: http://harpal.in/uHJK7

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.