Home / اہم ترین / وبائی بحران کے دوران یتیم بچوں کوغیر قانونی طور پر گود لینے والوں کے خلاف کی جائے کاروائی :سپریم کورٹ

وبائی بحران کے دوران یتیم بچوں کوغیر قانونی طور پر گود لینے والوں کے خلاف کی جائے کاروائی :سپریم کورٹ

نئی دہلی : (ہرپل نیوز؍ایجنسی) 8؍جون:۔ سپریم کورٹ نے تمام ریاستوں اور مرکزی وسطی علاقوں کوکووڈ19 وبائی مرض کے دوران یتیم بچوں کو غیر قانونی طور پر گودلینے میں ملوث این جی اوز اور افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال (این سی پی سی آر) نے پیر کو عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ 5 جون تک مختلف ریاستوں اور مرکزی علاقوں کی جانب سے جمع کروائے گئے اعدادوشمار کے مطابق 30071 بچے یتیم ہوگئے، ان میں سے زیادہ تر بچے وبائی بیماری کی وجہ سے والدین کے انتقال یا چھوڑدینے کی وجہ سے بے سہارا ہوگئے۔

عدالت نے یتیم بچوں کی دیکھ بھال اور حفاظت کے سلسلے میں سلسلہ وار ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ یتیم بچوں کو گود لینے کیلئے مدعو کرنا قانون کے منافی ہے کیونکہ سنٹرل ایڈوپشن ریسورس اتھارٹی (سی اے آراے) کی شراکت کے بغیر گود لینے کی اجازت نہیں ہے۔جسٹس ایل این راؤ اور انیرودھ بوس کی بنچ نے کہا کہ جویوینائل جسٹس (کیئر اینڈ پروٹیکشن آف چلڈرن) ایکٹ 2015 کی شقوں اور مرکز، ریاستوں اور مرکزی ریاستوں کے پروگراموں کو وسیع پیمانے پر تشہیر کی جانی چاہئے تاکہ متاثرہ بچوں کو فائدہ پہنچے۔

عدالت عظمیٰ نے ریاستوں اور مرکز ی علاقوں سے کہا کہ کووڈ 19 یا کسی اور وجہ سے پچھلے سال مارچ سے اپنے والدین کوکھودینے والے یا یتیم ہوئے بچوں کی شناخت کے کام کو جاری رکھنے اور بغیر کسی تاخیر کے دستیاب اعداد و شمار این پی سی آر پر کو فراہم کرنے کو کہا۔

بنچ نے کہاکہ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ کسی تاخیر کے بچہ جس مالی مددکاحقدار ہے ،وہ اسے فراہم کیا جائے۔ ریاستوں اورمرکزی علاقوں کو غیر قانونی طور پر گود لینے میں ملوث پائے گئے غیر سرکاری تنظیم یا فرد کوکے خلاف کاروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/Mt6al

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.