Home / اہم ترین / وقف بورڈ معاملے میں امانت اللہ خان کو ملی ضمانت

وقف بورڈ معاملے میں امانت اللہ خان کو ملی ضمانت

نئی دہلی:(ہرپل نیوز؍ایجنسی)28؍ستمبر: دہلی وقف بورڈ میں ملازمین کی تقرری سے متعلق بے ضابطگیوں کے معاملے میں ملزم عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان کو راؤس ایونیو کورٹ نے ان کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

خصوصی جج وکاس دھول نے امانت اللہ خان کو ایک لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے پر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔

قبل ازیں پیر 26 ستمبر2022 کو اس کیس کی سماعت کے دوران دہلی کی راؤس ایونیو کورٹ نے امانت اللہ خان کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔

بتا دیں کہ پانچ دن کی حراست ختم ہونے کے بعد اے سی بی نے انہیں پیر کو عدالت میں پیش کیا۔

عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان پر دہلی وقف بورڈ میں 32 ملازمین کو غیر قانونی طور پر بھرتی کرنے اور تنخواہوں میں دھاندلی کا الزام ہے۔

اس کے بعد 17 ستمبر کو چھاپے میں ملے شواہد کی بنیاد پر امانت اللہ خان کو پوچھ گچھ کے لیے اے سی بی نے چار دن کے ریمانڈ پر لے لیا تھا۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز ایونیو کورٹ میں امانت اللہ خان کی ضمانت سے متعلق سماعت ہوئی، دوپہر 12 بجے دونوں جانب سے بحث شروع ہوئی، کھانے کا وقفہ ڈیڑھ بجے سے ڈھائی بجے تک تھا۔ دوپہر 2:35 بجے دوبارہ سماعت شروع ہوئی مگر ضمانت نہ مل سکی تھی۔

دہلی کی ایک عدالت نے پیر کے روز عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان کو دہلی وقف بورڈ کے کام میں مبینہ مالی خرد برد اور دیگر بے ضابطگیوں سے متعلق ایک معاملے میں 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔

بتا دیں کہ امانت اللہ خان کو 16 ستمبر 2022 کو گرفتار کیا گیا تھا۔انسداد بدعنوانی برانچ (اے سی بی) کی طرف سےان کی 5 روزہ حراستی پوچھ گچھ کے اختتام پر انہیں راؤس ایونیو عدالت میں پیش کیا گیا، جسے عدالت نے 21 ستمبر کو اجازت دی تھی۔

انسداد بدعنوانی برانچ کے اعلیٰ ذرائع کے مطابق، اس معاملے میں پہلی ایف آئی آر جنوری 2020 میں بدعنوانی کی روک تھام کے قانون کی دفعہ 7 کے تحت درج کی گئی تھی جس میں تعزیرات ہند کی دفعہ 120 بی کے درج کی گئی تھی۔

بعد میں اس کیس میں انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 13 کے ساتھ ساتھ آئی پی سی کی دفعہ 409 بھی شامل کی گئی۔ دو سال پرانے کیس کے بعد، اینٹی کرپشن برانچ نے ایم ایل اے کو 16 ستمبر2022 کو طلب کیا تھا، جب کہ ایم ایل اے سے منسلک چار مقامات پر متوازی چھاپے مارے اور کئی جگہوں پر قابل اعتراض مواد ملا۔

حکام کے مطابق امانت اللہ خان نے مبینہ طور پر دہلی وقف بورڈ کے فنڈز کا بھی غلط استعمال کیا ہے، جس میں دہلی حکومت کی جانب سے دی جانے والی امداد بھی شامل ہے۔ چار مقامات پر اے سی بی کے چھاپوں کے دوران 24 لاکھ روپے نقد برآمد کیے گئے اور دو غیر قانونی اور غیر لائسنس یافتہ ہتھیار، کارتوس اور گولہ بارود بھی ضبط کیا گیا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/N40Oa

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.