Home / اہم ترین / ٹائم لائن: دنیا بھر میں حالیہ تاریخ کے بھیانک ترین زلزلے

ٹائم لائن: دنیا بھر میں حالیہ تاریخ کے بھیانک ترین زلزلے

لندن:(ہرپل نیوز؍ایجنسی)22؍جون: افغانستان میں گذشتہ رات آ نے والے زلزلے سے اب تک 950 سے زائد افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے اور حکام کی جانب سے ہلاکتوں میں اضافے کے خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ منگل اور بدھ کی درمیانی شب آنے والے زلزلے کی ریکٹر سکیل پر شدت 6.1 ریکارڈ کی گئی تھی اور اس سے سب سے زیادہ نقصان افغانستان کے صوبے پکتیکا میں ہوا ہے۔یو ایس جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کی رپورٹ کے مطابق زلزلے کے جھٹکے پاکستان میں بھی محسوس کیے گئے۔ تاہم پاکستان میں ابھی تک کسی جانی یا دوسرے نقصان کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔اس سے قبل بھی اس خطے اور اس سے باہر حالیہ دنوں میں معمولی نوعیت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جاتے رہے ہیں۔لیکن حالیہ تاریخ میں تقریباً ڈیڑھ دہائی کے دوران دنیا بھر میں انتہائی خوفناک زلزلے بھی ریکارڈ کیے گئے جن سے بھاری جانی و مالی نقصان بھی دیکھنے میں آیا تھا۔

بارہ نومبر 2017 کو ایران میں آنے والے ایک زلزلے میں 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس کے نتیجے میں عراق میں بھی چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔اس زلزلے سے ایران کے مغربی صوبوں کے علاقوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا تھا۔ ریکٹرا سکیل پر اس کی شدت 7.3 ریکارڈ کی گئی تھی جس کا مرکز ایران اور عراق کا سرحدی علاقہ تھا۔انیس ستمبر 2017 میں ایک زلزلے نے میکسیکو کے وسطی علاقوں میں تباہی پھیلا دی تھی اور اس کے نتیجے میں تقریباً 369 لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے۔ریکٹر سکیل پر اس کی شدت 7.1 ریکارڈ کی گئی تھی۔24 اگست 2016 کو وسطی اٹلی کے کچھ حصوں میں 6.2 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس سے پہاڑوں پر بنی آبادیوں کو شدید نقصان پہنچا تھا اور 300 سے زائد لوگ ہلاک ہوئے تھے۔16 اپریل 2016 کو جنوبی امریکہ کے ملک ایکواڈور میں آنے والے ایک زلزلے سے کم از کم 650 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ریکٹر سکیل پر اس 7.8 ریکارڈ کی گئی تھی۔26 اکتوبر 2015 کو افغانستان کے شمال مشرقی علاقوں میں آنے والے زلزلے سے تقریباً 400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 7.8 ریکارڈ کی گئی تھی اور اس کے جھٹکے پاکستان کے بعض علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے تھے۔25 اپریل 2015 کو نیپال میں آنے والے زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی اور اس کے کے نتیجے میں ایک اندازے کے مطابق 9 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 7.8 ریکارڈ کی گئی تھی اور اس سے تقریباً 80 لاکھ لوگ متاثر ہوئے تھے۔تین اگست 2014 کو جنوب مغربی علاقوں میں زلزلہ آیا تھا جس میںتقریباً 600 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ریکٹر سکیل پر شدت 6.3 ریکارڈ کی گئی تھی۔پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 24 ستمبر 2013 کو مختلف وقفوں سے آنے والے دو زلزلوں کے نتیجے میں 825 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ریکٹر سکیل پر ان زلزلوں کی شدت 7.7 اور 6.8 ریکارڈ کی گئی تھی۔

11 اگست 2012 میں ایک زلزلے کے نتیجے میں ایران کے شمال مغربی شہر تبریز میں 300 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ریکٹر اسکیل پر اس زلزلے کی شدت 6.4 ریکارڈ کی گئی تھی۔سنہ 2011 میں ترکی میں بھی ایک خوفناک زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں تقریباً 600 افراد ہلاک ہوئے تھے، اس زلزلے کی شدت سات اعشاریہ دو تھی۔حالیہ تاریخ میں شدت کے اعتبار سے سب سے بڑا زلزلہ 11 مارچ 2011 کو جاپان میں آیا تھا جس نے سونامی کو بھی جنم دیا تھا۔ جاپان کے شمال مشرقی علاقوں میں آنے والے اس زلزلے میں تقریباً ساڑھے 15 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور پانچ ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ریکٹر سکیل پر شدت 9.0 ریکارڈ کی گئی تھی جس سے جاپان کے نیوکلیئر پلانٹس کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/srLXs

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.