Home / اہم ترین / پوپی کے تین اضلاع سے پولیس کی بر بریت کی کہانیاں۔ ہاتھ پیرمیں میخیں ٹھونکنےاور رات بھر پٹائی کرنے کا الزام

پوپی کے تین اضلاع سے پولیس کی بر بریت کی کہانیاں۔ ہاتھ پیرمیں میخیں ٹھونکنےاور رات بھر پٹائی کرنے کا الزام

بریلی ، رائے بریلی ، مئو ، 26مئی (ہرپل نیوز ،ایجنسی)کرونا بحران میں اتر پردیش پولیس کا خوفناک چہرہ دیکھا گیا، صوبہ کے تین اضلاع میں پولیس نے تشدد کی تمام سر حدیں عبور کردیں۔ پہلا معاملہ بریلی کا ہے۔بریلی میں پولیس تھانہ بارہ د ری کے جوگی نوادہ میں ماسک نہ پہنے ہوئے ایک نوجوان کے ہاتھ اور پاؤں میں میخیں ٹھونکنے کا الزام ہے ، رائے بریلی میں پولیس پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے 5 نوجوانوں کو تھانہ میں مارا پیٹ کی ہے ، جب کہ مئو میں ایک نوجوان کو پیٹے ہوئے تھانہ لے جانے کا الزام ہے ۔ بصیرت آن لائن میں شائع خبرکے مطابق بریلی کے بارہ دری تھانہ علاقہ میں رہنے والانوجوان رنجیت کے ہاتھ اور پیرمیں کیل ٹھونکی ہوئی ملی ،پولیس مذکورہ نوجوان کو تھانہ لے گئی،کنبہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ نوجوان رات دس بجے کے قریب گھر سے باہر بیٹھا تھا، پولیس گشت پر تھی رنجیت کو گھر کے باہر بیٹھے دیکھ کر بپھر گئی، پولیس اسے تھانے لے گئی،اور اس کے ہاتھ پیر میں میخیں ٹھونک دی، اور اسے بری طرح پیٹا بھی گیا۔ رنجیت کی والدہ شیلا دیوی نے تھانے میں شکایت کی ہے، تاہم ایس ایس پی روہت سجان نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 24 مئی کو نوجوانوں نے پولیس کے ساتھ بدتمیزی کی تھی، بغیر ماسک کے گھوم رہا تھا۔ اس کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے، وہ گرفتاری سے بچنے کیلئے یہ تمام سازشیں کررہا ہے، اُس نے خود ہی کیلیں ٹھونک لی ہیں ۔جب کہ دوسرا معاملہ یوپی کے مئو ضلع کا ہے۔ مئو ضلع کے محمد آباد تھانے میں پولیس اہلکاروں پر ایک نوجوان کے ساتھ مار پیٹ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے ۔اطلاع کے مطابق نوجوان اپنے گھر کے باہر کھڑا تھا ، اسی دوران دو پولیس اہلکار وہاں پہنچے اور اسے گھسیٹتے ہوئے لے گئے ،اوراس کے ساتھ مار پیٹ بھی کی۔ اس کی ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی ہے، پولیس نے اس واقعہ کی تحقیقات کرنے کا کہا ہے۔جب کہ تیسرا معاملہ رائے بریلی کا ہے۔ یہاںپولیس پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ پولیس تلک چڑھاکر لوٹ رہے 5نوجوان کو رات بھر سوچی تھانہ میں بند کرکے بے رحمی کے ساتھ پٹائی کی ۔

رائے بریلی کے سرسرا گاؤں کے لو َکش ، شیوکانت ، راہل ، ونے کمار اور وپین تیواری نے ایس آئی مرتنجے کمار پر مارپیٹ کا الزام عائد کیا ہے۔ متأثرہ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ دوست کی بہن کا تلک چڑھا کر واپس آ رہے تھے، اسی درمیان سادے کپڑوں میں ملبوس چوکی ا نچارج مرتنجے کمارنے گاڑی روکنے کا اشارہ کیا، جب وہ نہ رکے ، تو 112 پولیس کی مدد سے انہیں گھیر لے لیا گیا ۔ پھر حراست میں لے کر پوری رات مار پیٹ کی گئی ۔ جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ تمام شراب کے نشہ میں دھت پولیس اہلکار کے ساتھ بدسلوکی کر رہے تھے،وہ پولیس کو گالیاں دے رہے تھے ،اور بھاگ رہے تھے۔ ان سب کے خلاف دفعہ 151 کے تحت کارروائی کی جارہی ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/DPfJR

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.