Home / اہم ترین / چاردہائیوں تک ریاستی ومرکزی سطح کی بڑی ذمہ داریوں پر فائز رہ چکےجماعت اسلامی ہندکی صفِ اول کےعظیم رہنمامولانا سراج الحسن کا انتقال ۔ ملی حلقوں میں غم کی لہر ۔سابق امیر کی وفات عظیم ملی خسارہ :امیرجماعت اسلامی ہند کابیان

چاردہائیوں تک ریاستی ومرکزی سطح کی بڑی ذمہ داریوں پر فائز رہ چکےجماعت اسلامی ہندکی صفِ اول کےعظیم رہنمامولانا سراج الحسن کا انتقال ۔ ملی حلقوں میں غم کی لہر ۔سابق امیر کی وفات عظیم ملی خسارہ :امیرجماعت اسلامی ہند کابیان

رائچور، نئی دہلی(ہرپل نیوز) 2 اپریل: مولانا محمد سراج الحسن تحریک اسلامی اور ملت اسلامیہ کے قد آور رہ نما تھے _ ان کی دینی و تحریکی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا _ ان کی وفات تحریک و ملّت کا ایک زبردست خسارہ ہے _" ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی ہند جناب سید سعادت اللہ حسینی نے سابق امیر جماعت مولانا محمد سراج الحسن صاحب کے سانحۂ ارتحال پر فرمایا _ مرحوم کی وفات آج شام عصر کو ہوئی ۔وہ 1989برس کے تھے _جماعت اسلامی ہند کے شعبہ میڈیا، کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ امیر جماعت نےمولانا محمد سراج الحسن کی شخصیت نگہ بلند ، سخن دل نواز اور جاں پر سوز کی زندہ تصویر بتایا ۔ وہ نوجوانی ہی میں جماعت سے وابستہ ہو گئے تھے _ 1958 سے 26 برس تک وہ حلقہ کرناٹک کے امیر رہے، اس کے بعد انہیں مرکزی سکریٹری کی حیثیت سے مرکز جماعت اسلامی ہند بلا لیا گیا ، 1990 سے 2003 تک انھوں نے کل ہند امیر کی حیثیت سے ذمے داری نبھائی _ اس کے ساتھ ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ، بابری مسجد رابطہ کمیٹی جیسے اداروں میں بھی سرگرم اور فعال کردار ادا کیا ۔ موثر خطابت ، تعلقات میں گرم جوشی ، متوازن فکر ، اور سادہ لیکن محنتی مزاج ، ان کی نمایاں خصوصیات تھیں ، جن کے ذریعے انہوں نے تحریک اسلامی کو خوب فائدہ پہنچایا ۔ ان کے دورِ امارت میں ہندوستان کے مسلمان متعدد آزمائشوں سے گزرے۔ 1992 میں شہادتِ بابری مسجد کے بعد خود جماعت اسلامی ہند پر پابندی عائد کی گئی۔ مولانا نے اپنی بصیرت اور متعدل مزاجی کے ذریعہ ان مسائل کو حل کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مرحوم کو دعوت اسلامی کے کاموں میں خصوصی دلچسپی تھی _ مختلف مذاہب کی نمایاں شخصیات سے ان کے گہرے روابط تھے ۔ انھیں ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے انھوں نے 'دھارمک جن مورچہ' کی تشکیل کی ۔
مولانا محمد سراج الحسن سے اپنے ذاتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے امیر جماعت نےکہا کہ میری شخصیت کی تعمیر و تربیت میں مولانا مرحوم کا اہم کردار رہا ہے۔ مجھ جسیے بے شمار نوجوانوں کو مولانا نے تحریک کے لئے تیار کیا ۔امیر جماعت نے مولانا مرحوم کے لیے بلندی درجات کی دعا دی ۔ کل ملا کر مولانا سراج الحسن کے انتقال پر مذہبی،سیاسی اورسماجی حلقوں میں رنج وغم کی لہر دوڑ گئی ہے اور مختلف ملی و سیاسی جماعتوں کے لیڈروں اورعوامی نمائندوں نے ان کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے ۔
دوسری جانب امیر مقامی رائچور محمد عاصم الدین اختر نے بتایا کہ نماز جنازہ و تدفین کل بتاریخ 3 اپریل 2020 بروز جمعہ ٹھیک 2:30 بجے دوپہر بمقام بڈی بابا قبرستان، متصل مسجد منیر میں ہوگی۔موجودہ لاک ڈاؤن کے پیش نظر رائچور کی مقامی جماعت نے گزارش کی ہے کہ نماز جنازہ و تدفین میں شرکت کی ہرگز کوشش نہ کریں. بس دعا فرمائیں اور جیسے بھی ممکن ہو، 'حالات کا لحاظ رکھتے ہوئے محدود تعداد میں اپنے مقام پر غائبانہ نماز جنازہ کا نظم کریں۔ ہرپل آن لائن مولانا مرحوم کے بلندی درجات کے لئے دعا گو ہے اور لواحقین کے غم میں شریک ہے ۔اللہ رب العزت ا نکی خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے اور اپنی شایان شان بدلہ عطا فرمائے آمین ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/ivGVr

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.