Home / اہم ترین / چین میں مسجد شہید کردی گئی۔ ایغور مسلمان بربریت کا شکار

چین میں مسجد شہید کردی گئی۔ ایغور مسلمان بربریت کا شکار

بیجنگ(ہرپل نیوز؍ایجنسی) 19؍اگست : چین میں اویغور مسلمانوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ بڑھتا ہی جارہاہے ۔ کئی پابندیاں عائد کر کے ان کے حوصلوں کو پست کرنے کے ساتھ ہی ان کے ایمان و اعتقاد کو چوٹ پہنچائی جارہی ہے۔ ژنجیانگ میں اویغوروں کی مسجد کو منہدم کر کے وہاں ایک عوامی بیت الخلاء تعمیر کی گئی ہے ۔

ایک مقامی عہدیدار کے مطابق شمال مغربی چین کے صوبہ ژنجیانگ کے اتوش میں منہدم کی گئی ایک مسجد کی جگہ ایک عوامی بیت الخلاء تعمیر کی گئی ہے۔ ریڈیوفری ایشیا (آر ایف اے ) نے اطلاع دی ہے کہ اتوش کے گاؤن سانتگھ میں ٹوکول مسجد کے سابقہ مقام پر بیت الخلاء کی تعمیر ایک ناپاک مہم کا حصہ ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کامقصد اویغور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا ہے۔ آر ایف اے کی اویغور سروس کی جانب سے منہدم کی گئی مسجد کی جگہ پر بیت الخلاء کی تعمیر کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ حکام نے 2016 کے آخر میں شروع کی گئی ایک مہم میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو تباہ کر نے کیلئے تین میں سے سے دو مساجد کو منہدم کردیا تھا۔

یہ مہم چین صدر رشی جن پنگ کی سربراہی میں سخت پالیسیوں کی سیریز کا ایک حصہ ہے، جو وہ اپریل 2017 سے اٹھارہ کروڑ اویغور مسلمانوں اور دیگر مسلم برادریوں پر ہونے والے بڑے پیمانے پر ظلم و ستم کو انجام دہے رہا ہے۔

چین میں نہ صرف ان کے مزارات کو نشانہ بنایا جارہا ہے، بلکہ اویغور خواتین کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جارہا ہے ۔ اس کے بارے میں چن کے ژنجیانگ اویغور خود مختار خطے سے تعلق رکھنے والی مشہور امریکی اویغور خواتین کو چین میں نسل کشی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ ان کی عصمت دری، تشدد اور برین واش کیاجارہا ہے ۔

کیمپن آف اویغور کے بانی اور ایگزیکٹوڈائریکٹر روشن عباس نے کہا کہ ’’جدید دور میں مشرقی ترکستان (ژنجیانگ) میں اویغور خواتین کے ساتھ ان کے مذہب اور نسل کی وجہ سے مجرم جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/ZbhoM

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.