Home / اہم ترین / ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف یوپی حکومت کے 2019 کے معطلی آرڈر پر ہائی کورٹ نے لگائی روک، 11 نومبر کو اگلی سماعت

ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف یوپی حکومت کے 2019 کے معطلی آرڈر پر ہائی کورٹ نے لگائی روک، 11 نومبر کو اگلی سماعت

لکھنؤ: (ہرپل نیوز؍ایجنسی)15؍ستمبر: ڈاکٹر کفیل خان کو دوہزار انیس میں دوسری بار بہرائچ ڈسٹرکٹ اسپتال میں مبینہ طور پر پریشانی پیدا کرنے اوراسپتال عملے کے ساتھ بدتمیزی کرنے پر معطل کیا گیا تھا۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی حکومت کے اس حکم پر روک لگا دی ہے کیونکہ ڈاکٹر کفیل خان پہلے سے ہی معطل تھے۔گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں مبینہ طور پر آکسیجن کی فراہمی میں رکاوٹ کی وجہ سے تیس بچوں کی موت کے بعدڈاکٹر خان کو دوہزار سترہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔

گرفتاری کے ایک سال بعد ڈاکٹرکفیل خان کو ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔ خان کے وکیل نے دلیل دی کہ ایسا کوئی اصول نہیں ہے جو ریاستی حکومت کو اس کے خلاف دوسرا معطلی کا حکم جاری کرنے کی اجازت دے جب کہ اُسے پہلے ہی معطل کیا جاچکا تھا۔ تاہم حکومت کی جانب سے ایڈیشنل چیف اسٹینڈنگ کونسل اے کے گوئل نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ خان کے خلاف انکوائری رپورٹ ستائیس اگست دوہزار اکیس کو پیش کی گئی تھی اور ایک دن بعد انہیں ایک کاپی بھیجی گئی۔معاملے کی اگلی سماعت گیارہ نومبر کو ہوگی۔

واضح رہے گزشتہ ماہ ، الہ آباد ہائی کورٹ نے علی گڑھ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کے ڈاکٹرکفیل خان کے خلاف نفرت انگیز تقریر کے مقدمے میں پولیس چارج شیٹ کو قبول کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ عرضی میں 2018 میں ڈائرکٹوریٹ دفتر لکھنؤ سے وابستہ تھا تو اسی وقت بہرائچ میں انسیفیلائٹس بیماری کی وجہ سے ایک ہفتے میں 70بچوں کی اموات ہوگئی تھیں۔ ایسے میں عرضی گذار علاج کرنے وہاں گیا تھا۔ اور عرضی گذار کو بغیر اجازت جبراَ بچوں کا علاج کرنے و سرکار مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں معطل کردیا گیا تھا۔جسے چیلنج کیا گیا ہے۔

عرضی گذار کا کہنا ہے کہ معطلی کے دو سال بعد بھی ابھی جانچ کا عمل پورا نہیں ہوا ہے۔ ایسے میں ان کی معطلی واپس کی جائے۔ جب ایک معاملے میں معطلی ہے تو دوسرے معاملے میں معطل کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ وہیں سرکاری وکیل نے کہا کہ جانچ رپورٹ 27 اگست کو پیش کردی گئی ہے۔ درخواست گزار کو اعتراض داخل کرنے کا موقع دیا گیا ہے ۔ حکومت کو جانچ کے دوران ملازم کو معطل کرنے کا حق حاصل ہے ۔ عدالت نے اس مسئلے کو قابل بحث سمجھا اور حکومت سے جواب طلب کیا ہے ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/HHoLO

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.