Home / اہم ترین / کانپورمیں مظاہرہ حسن قرا ت وعظمت قرآن کانفرنس کا شاندارانعقاد

کانپورمیں مظاہرہ حسن قرا ت وعظمت قرآن کانفرنس کا شاندارانعقاد

کانپور(ہرپل یوز، پریس ریلیز)23فروری:۔ جامعہ اسلامیہ قلی بازار کے بانی عالم ربانی مولانا ظفرالدین احمد،کی یاد میں آل انڈیا انجمن ترتیل القرآن وتنظیم اہل سنت والجماعت کانپور کے زیر اہتمام ایک روزہ عظیم الشان مظاہرہ حسن قرا ت وعظمت قرآن کانفرنس لیاقت دادا چوراہا طلاق محل کانپور میں منعقد ہوا۔قرآن کی فضیلت کو مفسر قرآن مولانا سید محمد طلحہ قاسمی نقشبندی مجددی نے تفصیل سے بیان کیا اس کے بعد قراء حضرات نے مختلف لب ولہجہ میں قرآن پڑھ کر سامعین کو مسحور کردیا۔ کانفرنس کا آغاز قاری مجیب اللہ عرفانی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔
جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید محمد طلحہ قاسمی مجددی نے کہا کہ قرآن ایسی منفرد کتاب ہے جس کی سچائی کی دلیل وہ خود ہے،قرآن خود اپنے کلام اللہ ہونے کی دلیل، ایک مکمل معجزہ اور بے شمار معجزات کا مجموعہ ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آنے والے انسانوں کیلئے نازل فرمایا ہے۔ انسانوں کو بھی انسانوں سے زیادہ اللہ جانتے ہیں اور آنے والے زمانوں میں کیا کیا تبدیلیاں آئیں گی ان تبدیلیوں کو بھی زمانے والوں سے زیادہ اللہ جانتے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب قرآن پاک میں اس کا انتظام کیا ہے کہ جیسے جیسے حالات بدلتے جائیں گے قرآن کے نئے نئے اعجازی پہلو سامنے آئیں گے اور ہر زمانے کے لوگ قرآن کی حقانیت کو ماننے کیلئے مجبور ہو جائیں گے،اس لئے کہ اگر قرآن کی حقانیت ثابت ہو گئی تو حضرت محمدﷺ کی حقانیت خود بخود ثابت ہو جائے گی، کیونکہ حضورؐ قرآن کے بارے میں یہی تو کہہ رہے تھے کہ یہ میرا کلام نہیں ہے اللہ کا کلام ہے، میں تو اللہ کا رسول ہوں اور اللہ کا پیغام اللہ کے بندوں تک پہنچا رہا ہوں۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور انسان کا کلام نہیں ہے تو انکار کرنے والے یہ تو نہیں کہتے کہ یہ زمین سے اگا ہے یا آسمان سے ٹپک گیا ہے وہ تو یہ کہتے ہیں کہ یہ حضرت محمدﷺ کا کلام ہے اس لئے جیسے ہی یہ ثابت ہو جائے کہ یہ اللہ کا کلام ہے تو حضرت محمد ﷺ کی سچائی بھی ثابت ہو جاتی ہے اور اللہ نے حضورؐکو قرآن کے علاوہ جو کچھ علوم آپ ؐ کو عطا فرمایا اس کے ذریعہ جو کچھ آپ ؐ نے بتلایا وہ سب سچ ثابت ہو جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ نبیؐ کہیں کہ اللہ نے مجھے قرآن عطا فرمایا تو اس بات کو سچ مان لیں اور کہیں کہ مجھے اور بھی کچھ علوم عطا فرمایا ہے تو کہیں کہ یہ جھوٹ ہے کیونکہ جھوٹے انسان کی ہر بات جھوٹی ہوتی ہے۔ اگر کسی نے حضورؐ کے کسی ایک بات کو جھوٹ کہا تو اسے پورے قرآن کا انکار کرنا پڑے گا۔
مولانا نے بتایا کہ جس زمانے میں قرآن اترا اس وقت دنیا میں بسنے والے انسانوں کے پاس اس کائنات کے سلسلے میں کچھ زیادہ وسیع معلومات نہیں تھی، جو باتیں معلوم بھی تھیں وہ بہت ابتدائی درجے کی تھیں اور زیادہ تر وہ انسانوں کے اپنے خیالات،اندازے اور گمان تھے،یقین کے ساتھ اس زمانے میں کائنات کو جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ کسی چیز کو یقین کے ساتھ اسی وقت جانا جا سکتا ہے جب انسان اس کو دیکھ سکے،چھو سکے یا پرکھ کر تجربہ کر سکے۔مثال کے طو رپر کوئی دوا ہے اس کے بارے میں ایک انسان کو معلوم ہے کہ اس سے کیا نفع اور کیا نقصان ہے لیکن جب تک وہ اس کا کئی مرتبہ تجربہ نہ کر لے اس بات کو یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ اس سے کیا نفع یانقصان ہے یعنی یقینی علم حاصل کرنے کیلئے تجربہ ضروری ہے۔ جس زمانے میں جب انسانوں کے پاس آسمان میں اڑنے اور زمین کے اندر دیکھنے کے وسائل بھی نہیں تھے اور اس وقت میں اللہ نے کائنات کی حقیقتوں کواتنے آسان لب ولہجہ میں انسانوں کو بتلایا کہ اس وقت کا انسان سمجھ بھی نہیں سکا کہ یہ کتنی بڑی بڑی حقیقتیں ہیں جو ہمیں بتلا دی گئیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کا انتظام کیا کہ جیسے جیسے انسانی علم کو وسعت حاصل ہو اور انسان کائنات کو دیکھتا،پرکھتا،آزماتا اور تجربہ کرتا جائے ویسے ویسے اس قرآن پاک کے ان بیانات کی اہمیت اس پر واضح ہوتی جائے گی اور اس کا سر اللہ کے آگے جھکتا جائے گاکہ اللہ آپ کے سوا کوئی معبود نہیں ہو سکتا۔مظاہرہ قراء ت میں بیرونی قراء عظام میں جناب الحاج قاری آفتاب عالم صاحب دار العلوم دیوبند، جناب الحاج قاری ارشاد احمد صاحب دار العلوم دیوبند، جناب الحاج قاری ریاض احمد صاحب مظاہری ندوی دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ، جناب الحاج قاری رحمت اللہ صاحب الہ آباد،جناب قاری حسیب الرحمان صاحب بجنور،جناب قاری ہدایت اللہ صاحب جے پور، جناب قاری بدر الدّجیٰ صاحب لکھنؤ، جناب قاری محمد صادق صاحب گنگوہ سہارنپور نے خوبصورت لب ولہجہ میں قرآن کریم کی تلاوت فرمائی تو دیر رات تک لوگوں تلاوت قرآن سے قلوب کو منور ومجلّٰی فرماتے رہے۔صدر اجلاس مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی قاضی شہر کانپور نے اخبار کے ذریعہ تمام قراء و شرکاء کو مبارک باد دی۔ نظامت کے فرائض حضرت الحاج مولانا محمد اکرم صاحب جامعی نے پر انجام دیا اور نعت کا گلدستہ حافظ محمد شعیب بلرامپوری نے پیش کیا۔مظاہرہ حسن قرأت میں مولانا محمد شفیع مظاہری،قاری محمد امین جامعی،محمود عالم قریشی،مولانا انیس خاں قاسمی،قاری مجیب اللہ عرفانی،قاری شمشی صاحب،مولانا نور الدین احمد قاسمی، قاری انیس احمد صابری، الحاج شیخ سلیم الدین متولی مسجد،مولانا سید مختار احسن جامعی نقشبندی، مفتی سعد نورقاسمی، مولانا سعید خاں قاسمی،قاری عبد المعید چودھری،مولانا عاقب،مفتی اظہار مکرم قاسمی، مولانا محمد ذاکر قاسمی،قاری محمد غزالی خاں،الحاج فخر عالم، الحاج حافظ محمد عمران،مفتی سبحان الٰہی نقشبندی، حافظ محمد ریحان، قاری محمود،شارق نواب کے ساتھ ہی شہر واطراف شہرسے سیکڑوں علماء،حفاظ وقراء اور ہزاروں عوام وخواص نے شرکت کی۔ مولانا سید مختار احسن جامعی ومولانا مفتی سعد نور نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/HmwOI

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.