Home / اہم ترین / کرناٹک میں ایک بار پھر ٹیپوسطان پر سیاست ، کورونا کو وجہ بتا کر ساتویں جماعت کے نصاب سے ٹیپوسطان کے سبق کو ہٹایا گیا

کرناٹک میں ایک بار پھر ٹیپوسطان پر سیاست ، کورونا کو وجہ بتا کر ساتویں جماعت کے نصاب سے ٹیپوسطان کے سبق کو ہٹایا گیا

بنگلورو(ہر پل نیوز؍ایجنسی)29؍جولائی: کرناٹک میں بی جے پی حکومت کیا ایک بار پھر ٹیپو سلطان کو نشانہ بنا رہی ہے؟  کورونا وبا کی آڑ میں کیا تاریخ کی ایک عظیم شخصیت کو نظر انداز کیا جارہاہے؟ ریاست میں ساتویں جماعت کے نصاب سے ٹیپوسطان کے سبق کو ہٹائے جانے کے بعد یہ سوالات اٹھ رہے ہیں ۔ کرناٹک میں کورونا کی وبا اور طویل لاک ڈاؤن کے سبب ریاستی حکومت نے اسکول کے نصاب میں 30 فیصد کی کٹوتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس فیصلہ کے بعد کرناٹک ٹیکسٹ بک سوسائٹی نے سال 2020-21 کیلئے اسکولی نصاب کو از سر نو مرتب کیا ہے ۔ رواں تعلیمی سال کیلئے جاری کئے گئے نصاب میں ساتویں جماعت کی سماجی سائنس کتاب میں سبق نمبر 5 کو حذف کیا گیا ہے ۔ سبق نمبر 5 ،  میسور کی خداد سلطنت کے بانی نواب حیدرعلی خان ، ان کے فرزند ٹیپو  سلطان اور میسور کے تاریخ مقامات کے متعلق ہے۔

تاہم حکومت نے 6 ویں اور 10 ویں جماعت کے نصاب میں ٹیپوسطان کے متعلق اسباق کو برقرار رکھا ہے ۔ حکومت اور محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کے سبب تعلیمی سال میں تقریبا  120 دنوں کی یعنی چار ماہ کی تخفیف ہورہی ہے ۔ اس لئے نصاب کے بوجھ کو کم کرنا ناگزیر ہے ۔ لہذا کمیٹی نے کئی اسباق کو نصاب سے حذف کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ لیکن اپوزیشن جماعت  کانگریس اور جے ڈی ایس کا کہنا ہے کہ حکومت تاریخ کے ساتھ کیسے چھیڑ چھاڑ کرسکتی ہے۔ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ ٹیپوسطان ایک تاریخی شخصیت ہیں ، تاریخ تاریخ ہوتی ہے ، اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کرے گی ۔

جے ڈی ایس کے ریاستی نائب صدر سید شفیع اللہ نے کہا کہ بی جے پی نے اس سے پہلے بھی ٹیپوسطان کے اسباق کو اسکول کے نصاب سے ہٹانے کی کوشش کی ہے ۔ اب کورونا کو بہانہ بنا کر بی جے پی حکومت اپنے ایجنڈے کو نافذ کرنا چاہتی ہے ۔ سید شفیع اللہ نے اس مسئلہ پر وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا کو مکتوب روانہ کیا ہے اور تاریخ کے ساتھ کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ نہ کرنے کی اپیل کی ہے ۔

دوسری جانب حکومت کے اس قدم پر ٹیپوسطان تنظیمیں سخت برہمی اور غصہ کا اظہار کررہی ہیں۔ ٹیپوسطان یونائٹید فرنٹ کے صدر سردار احمد قریشی نے کہا کہ حکومت فوری طور پر اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے ۔ ورنہ اس معاملے میں احتجاج کے ساتھ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا ۔ ٹیپو سطان شہید پیس فاونڈیشن کے ریاستی سکریٹری صوفی ولی با قادری نے کہا کہ بی جے پی اپنے سیاسی فائدہ کیلئے ہمیشہ ٹیپوسطان کی مخالفت کرتی ہوئی آئی ہے ۔ ریاست کے ہندو بھی بی جے پی کے اس مقصد کو اچھی طرح  سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور سنگھ پریوار کی تنظیمیں ٹیپوسطان کے خلاف فرقہ پرستی کا الزام عائد کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں ، لیکن تاریخ کہتی ہے کہ ٹیپوسطان ایک سیکولر حکمراں تھے ۔

کرناٹک مددگار فاؤنڈیشن کے نمائندے محب الرحمن سمین احمد نے کہا کہ کسی بھی حکومت کی سوچ وسیع ہونا چاہئے ، لیکن ریاست کی بی جے پی حکومت کی سوچ کافی تنگ اور محدود دکھائی دے رہی ہے ۔ پوری دنیا حضرت ٹیپوسطان کے کارناموں سے واقف ہے ۔ امریکہ کے خلائی ادارے ناسا میں ٹیپوسطان کی میزائل ٹیکنالوجی پر ریسرچ ہوتی ہے۔ لیکن افسوس کہ کرناٹک کی موجودہ حکومت اس عظیم شخصیت کے کارناموں کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے ۔ واضح رہے کہ ایک سال قبل جوں ہی ریاست میں بی جے پی حکومت قائم ہوئی ، سرکاری سطح پر منائی جانے والی ٹیپوسطان جینتی کو رد کیا گیا ۔

چند ماہ قبل بی جے پی کے ایک ایم ایل اے نے اسکول کے نصاب سے ٹیپوسطان کے اسباق کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کو خط لکھا تھا ۔ اس مطالبہ پر غور کرنے کیلئے حکومت نے کمیٹی بھی تشکیل دی تھی ، لیکن کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر کہا ہے کہ اسکول کے نصاب سے ٹیپوسطان کے اسباق کو ہٹایا نہیں جاسکتا ۔ لیکن اب کورونا وبا کو وجہ بتا کر حکومت نے ساتویں جماعت کے نصاب سے ٹیپوسطان کے سبق کو ہٹانے کی پہل کی ہے ۔  ٹیپو سطان یونائٹید فرنٹ کے نمائندے داؤد اقبال نے کہا کہ  حکومت کی نیت صاف نہیں ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/cd4iZ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.