Home / اہم ترین / کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کابیان حکومت کی سنجیدگی کامظہر، چند اقدامات کی ضرورت۔ بقلم:محمدیوسف رحیم بیدری٭

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کابیان حکومت کی سنجیدگی کامظہر، چند اقدامات کی ضرورت۔ بقلم:محمدیوسف رحیم بیدری٭

تبلیغی جماعت کے اجتماع میں کچھ افراد کے کوروناوائرس سے متاثرہونے کی خبریں جیسے ہی عام ہوئیں اور قومی چینلوں نے جس طرح اس کا غلط مطلب نکال نکال کر اور اس کو بحث کا مدعابنانے کی خطرناک لیکن بھونڈی سازش کی اور اس پر کئی دن سے عمل پیرا ہیں۔جس کی بدولت سارے ملک میں مسلمانوں اوراسلام کے خلاف نفرت انگیز ماحول پیداہوا، ایسے میں کرناٹک کی بی جے پی حکومت کے وزیراعلیٰ بی ایس یڈیورپا نے ایک خانگی ٹی وی چینل کوبیان دیتے ہوئے ریاست کی عوام کووارننگ دی ہے کہ ”کوروناوائر س کے پھیلاؤ کومسلمانوں سے جوڑ کر اگر کسی نے اشتعال انگیز بیان بازی یا معاشرے میں نفرت پھیلانے کی کوشش کی تو ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ کوروناوائرس کے پھیلاؤکو اسلام سے جوڑنے یا پھراس کی آڑمیں ریاست کے کسی بھی مقام پر اگر مسلمانوں کو کسی نے ہراساں کرنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی“

وزیراعلیٰ کرناٹک کایہ بیان اردو کے بیشتر اخبارات نے شائع کیاہے جو حکومت کی سنجیدگی کامظہر ہے۔ اس بیان پرمسلمان حیرت زدہ ہونے کے ساتھ ساتھ مطمئن بھی نظر آتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ کرناٹک بی ایس یڈیوریانے وزارت اعلیٰ کی اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کافریضہ انجام دیتے ہوئے نہایت ہی سخت بیان دیاہے۔ اب اس پر عمل آوری بھی ہونی چاہیے۔حکومت کی جانب سے مختلف قسم کے اقدامات کے ذریعہ اس نفرت انگیز فضا کوختم کیاجاسکتاہے جو فضا کرناٹک میں مسلمانوں کے خلاف بنائی جارہی ہے۔ اتناہی نہیں وزیراعلی بی ایس یڈیورپا نے اس بات کا اقرار کیااور ستائش بھی کی کہ ”ریاست کرناٹک کے مسلم رہنماؤں نے ان سے ملاقات کی اور انہیں یہاں تک یقین دلایاکہ تاریخ میں پہلی بار وہ مساجد میں باجماعت نمازوں کاسلسلہ روک دیں گے اور گھروں میں نمازیں اداکریں گے۔ اگر اقلیتی طبقہ اس حدتک کوروناوائرس کے خلاف لڑائی میں حکومت کا ساتھ دے رہاہے توکسی چھوٹے موٹے واقعہ کوبنیاد بناکر پوری قوم کو بدنام کرنا درست نہیں۔“انھوں نے کہاکہ”بحیثیت وزیراعلیٰ وہ اس طرح کے مسلم مخالف بیانات دینے والے عناصر کووارننگ دیتے ہیں کہ ان کو اب برداشت نہیں کیاجائے گا۔ ایسا کوئی بھی مسلم دشمن بیان دے گاتو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی“

بی جے پی کا تعلق سنگھ پریوار سے ہے اور سنگھ پریوارکی حکمت عملی کے تحت اس کی ذیلی تنظیمیں بشمول بی جے پی مختلف بیانات دے کر بھارت کی فضا کو ہمیشہ ہی مکدرکرتی رہی ہیں، جس کی تازہ مثال دہلی کے فسادات سے پہلے کپل مشرااور دیگر بی جے پی قائدین کے فرقہ وارانہ بیانات ہیں لیکن اس وقت بھارتیہ جنتاپارٹی کے سینئر قائد اور جنوبی ہند میں 12سال قبل پہلی دفعہ پارٹی کو اقتدار پرلانے والے وزیر اعلیٰ کرناٹک بی ایس یڈیورپا نے مسلمانوں کی تائیدمیں جو بیان دیاہے وہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ ملک کے قومی چینل مسلمانوں اور اسلام کوبدنام کرنے میں شب وروز لگے ہوئے ہیں اور ایسے میں کوروناوائرس کو لے کر مسلمانوں پر الزام لگانے اور ان کے خلاف نفرت پھیلانے والوں کے خلاف وزیراعلیٰ یڈیورپا سخت کارروائی کاانتباہ دے رہے ہیں۔یہ ایک ایسا خوشگوار پیغام ہے جوکرناٹک ہی نہیں ملک بھرمیں مسرت آمیز انداز میں سنااور پڑھاگیا۔ اورہرایک جانب سے وزیراعلیٰ کرناٹک کی ستائش ہورہی ہے۔ ان کے اس بیان نے اقلیتوں میں ان کی شبیہ کوبہتر بنایاہے۔کوروناوائرس کو لے کر بھارت ہی نہیں دنیا کی تاریخ کے اہم موڑ پر یڈیورپا کے اس بیان کی اہمیت سے انکار قطعی ممکن نہیں ہے۔ جس کے دوررس اثرات ریاست کرناٹک اور اس کی سیاست پر پڑیں گے لیکن یہاں اہم سوال یہ ہے کہ آیاصرف بیان دینے سے حالات درست ہوسکتے ہیں؟ تواس کاجواب اثبات میں ہوگا کیونکہ حالات جب دگرگوں ہوں، لااینڈ آرڈر کامسئلہ کھڑا ہونے کااندیشہ ہو تو ایسے میں تمام ریاستوں کے وزیر اعلیٰ اور وزیراعظم کے بیانات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ منہ میں گھنگھنیاں ڈال کر وزرائے اعلیٰ یاوزیر اعظم کا بیٹھا رہنا خطرے کی گھنٹی ہواکرتاہے۔ جو حالات کو بدسے بدتر بنادیتاہے۔ اس لئے حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وقت پر بیان دینا بھی ایک بڑا کام ہے جو وزیراعلیٰ کرناٹک بی ایس یڈیورپا نے کیاہے جس پر سمجھدار لیکن سیاست سے دور اقلیتی افراد نے وزیراعلیٰ کاشکریہ اداکیاہے اور آج ہر جگہ اسی بات کاچرچاہے تاہم اس کے علاوہ بھی درج ذیل اقدامات ضروری ہیں۔

اقدامات کیاہوسکتے ہیں؟:٭حالات کو بہتر بنانے اورکوروناوائرس سے متعلق مختلف طبقات کے آپسی اعتماد کو بحال رکھنے کے لئے محکمہ پولیس اور ریاست کے تمام سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) کو وزارت داخلہ کی جانب سے سرکیولر جاری کیاجاسکتاہے٭پولیس اسٹیشن کے تحت آنے والے حسا س علاقوں میں مختلف طبقات کے عمائدین اور شہریوں کی نشست بلاکر اس معاملے کی حساسیت کو عوام پر واضح کیاجاسکتاہے کہ مرض کاکوئی مذہب نہیں ہوتااور ایک ملک کے مختلف طبقات آپس میں دست وگریبان ہوں گے تو ملک کی ترقی رک جائے گی۔ اگر ممکن ہوسکے تو روشن خیال اور یکجہتی کی علمبردار خواتین کو بھی پولیس اسٹیشنوں میں ہونے والی پیس میٹنگوں میں دعوت دی جائے کیونکہ سوشیل میڈیا پر نفرت انگیز پیغامات دینے میں خواتین بھی آگے آگے ہیں تاکہ ایسے پیغامات پر روک لگائی جاسکے۔٭پولیس خود آگے بڑھ کر ایسے واقعات پر روک لگانے کے لئے نفرت پھیلانے والوں کے خلاف اپنی جانب سے مقدمات درج کرسکتی ہے۔جس ریاست کا محکمہ پولیس جس قدر چاق وچوبند رہے گا اس قدر ریاست کی فضا پرامن ہوگی۔٭پولیس اپنے روایتی ذرائع پر انحصار کرنے کے بجائے شہراور دیہات کی معززشخصیات سے راست مشورہ کرے اور ان کے مشوروں کوحتی المقدور اہمیت دیتے ہوئے امن وقانون کی فضاکو بگڑنے اورکسی بڑے حادثہ کو رونما ہونے سے بچایاجاسکتاہے

مسلمانوں کے لئے کرنے کے کام:٭مسلمان اپنی داعیانہ حیثیت کو فراموش نہ کریں۔ وہ آدم اور حوا کی تمام اولادوں کے آخری مسیحا ہیں۔ انھیں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی بھلائی کے لئے نکالاہے۔مسلمان جب اس دنیا سے رخصت ہوجائے گا، قیامت آجائے گی۔ مسلمانوں کا اس زمین پرقیام دراصل انسانیت کاواحد سہارااور عین بھلائی ہے۔ تمام طبقات کومسلمان اسلامی اصولوں کے مطابق اپنے ساتھ لے کرچلیں اورخودبھی ان کے ساتھ چلتے ہوئے ان تک اسلام کی باتوں کوپہنچائیں۔ یہی وہ کام ہے جو کئی سوسال سے مسلمان انجام نہیں دے رہے ہیں ٭مسلمان اپنی سیاسی جماعتوں کے تعلق کو بحال ضرور رکھیں لیکن جہاں کہیں انسانی مفادات سامنے ہوں وہ ان مفادات کے ساتھ ہوجائیں۔٭ہرکام کو شک کی نظروں سے دیکھنا یاحالات کومایوسی کے ساتھ بیان کرنا ایک سچے مسلمان کاشیوہ نہیں۔ دلوں کوبدلنے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے جو سیاست دانوں کے قلب کو پھیرنے پر بھی قادر ہے۔٭کوروناوائرس کو لے کر مسلمانوں کو بدنام کیاجارہاہے ایسانہ سوچیں۔ بھارت میں ہر مسئلہ پر مسلمانوں کو بدنام کرنے کاجیسے فیشن بن گیاہے۔مسلمان آسان نشانہ ہیں۔ اس لئے ان نشانوں کوخطا کردینے کی مومنانہ فراست بھی مسلمانوں میں ہوناچاہیے۔کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مومنانہ فراست کی بڑی تعریف کی ہے ٭محکمہ پولیس سے مسلم عمائدین شہر اور دیہات اپنے تعلقات استوار کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر طبقات سے بھی اپنے تعلقات استوار کرتے ہوئے ان کی غلط فہمیوں کودور کرنے کی کوشش بھی ہونی چاہیے۔راست بات چیت بہت بڑا ہتھیار ہے،اس کا استعمال نہیں کیاگیا۔اس کااستعمال اب ہوناچاہیے۔ ٭آپسی معاملات کوفوری طورپر بہتر بنانے کی طرف توجہ ہواوریہ کہ اتحاد میں برکت ہے۔برادران وطن سے بھی اتحاد ہونا چاہیے٭تمام معاملات منجانب اللہ رب العزت ہوتے ہیں، اس پر مسلمانوں کاایمان ہے۔ اوردنیا و آخرت کی بھلائی اسی کے لئے مختص ہے جو اللہ کو دوست رکھتاہے اور اللہ کے کہنے پر چلتاہے۔اس لئے مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔ مسلمان مزید سنجیدگی کامظاہرہ کریں تو بڑی تبدیلی اہلِ وطن میں آسکتی ہے۔

نوٹ:مضمون  کے مندرجات سے ہرپل آن لائن کی ادارتی ٹیم کا  مکمل طور پر متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔

٭مضمون نگار ریاست کرناٹک کے اردو اخبارات کے معروف صحافی ہیں ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/ZZ2DN

3 comments

  1. محمدیوسف رحیم بیدری

    جزاک اللہ خیرا…. خاکسار کا مضمون شائع کیا. ممنون ہوں. ہرپل کی زندگی اردو والوں کو پل پل میسر رہے

  2. سیف الرین

    ہر پل ا باقاعدہ ماشاءاللہ نکھر رہا ہے. میں اپنے تئں دل کی گہرائیوں سےاستقبال کرتا ہوں اور دلی تمنا بھی رکھتا ہوں کہ اللہ آپ کو سرفرازی عطا کرے امیں
    خیر اندیش
    سیف اکرمی بھٹکل

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.