Home / اہم ترین / کنہیا اور جگنیش ہاتھ کے ساتھ، یواجوش سے کتنی مضبوط ہوگی کانگریس ؟

کنہیا اور جگنیش ہاتھ کے ساتھ، یواجوش سے کتنی مضبوط ہوگی کانگریس ؟

نئی دہلی: (ہرپل نیوز؍ایجنسی)21؍ستمبر: سابق اسٹوڈینٹ لیڈرکنہیا کمار اور گجرات کے ایم ایل اے(آزاد) جگنیش میوانی 2 اکتوبر کو ایک پروگرام کے دوران کانگریس میں شامل ہوں گے۔ پارٹی ذرائع نے یہ معلومات این ڈی ٹی وی کو آج شام دی ہے۔ انہیں 28 ستمبر کو شامل ہونا تھا لیکن اب اس تاریخ کو اگلے ماہ تک بڑھا دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گجرات کے وڈگام حلقے کی نمائندگی کرنے والے دلت لیڈر جگنیش میوانی کو پارٹی کے ریاستی یونٹ کا ورکنگ صدر بنایا جا سکتا ہے۔

میوانی کی پارٹی میں شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ کانگریس کا ووٹ بینک اگلے سال گجرات،پنجاب اور اتر پردیش سمیت سات ریاستوں کے انتخابات سے پہلی کی ریاضی پر مرکوز ہے۔ دلت برادری ان ریاستوں میں سے ہر ایک میں آبادی کا نمایاں فیصد ہے۔

سی پی ایم لیڈر کنہیا کمار،جو جواہرلال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر تھے،کانگریس میں شامل ہوتے ہیں توتوقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ساتھ کچھ دیگر بائیں بازو کے رہنماؤں کو بھی لائیں گے۔

جگنیش میوانی اور کنہیا کمار کی متوقع شمولیت کی خبر کانگریس کے 2022 میں ریاستی انتخابات اور 2024 میں لوک سبھا انتخابات سے قبل نوجوان اور متحرک چہروں کو پارٹی میں لانے کی غمازی کرتی ہے۔

کانگریس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ کنہیا کمار پہلے ہی دو ہفتوں میں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی وڈرا سے ملاقات کر کے پارٹی میں اپنے کردار پر تبادلہ خیال کر چکے ہیں۔ کمار نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات بہار میں اپنے آبائی شہر بیگوسرائے سے لڑاتھا، لیکن بی جے پی کے گری راج سنگھ سے وہ ہار گئے۔

آج جگنیش میوانی نے پنجاب کے نئے وزیر اعلیٰ اور ریاست کے پہلے دلت سکھ لیڈر کے بارے میں ٹویٹ کیا۔میوانی نے اس فیصلے کے لیے راہل گاندھی اور پارٹی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس کا اثر ہر طبقہ پر پڑے گا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/DxMf0

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.