Home / اہم ترین / کووڈ ٹیسٹنگ کیلئے نئے قواعد میں آر ٹی پی سی آر کی ضرورت نہیں:مرکز

کووڈ ٹیسٹنگ کیلئے نئے قواعد میں آر ٹی پی سی آر کی ضرورت نہیں:مرکز

نئی دہلی: (ہرپل نیوز؍ایجنسی) 5؍مئی : مرکزی حکومت نے کورونا وائرس کے معاملات میں اضافے کے دوران تشخیصی لیبس پر دباؤ کم کرنے کیلئے ملک کے کورونا وائرس جانچ کے قواعد میں ترمیم کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ "صحت مند" مسافروں اور کووڈ مریضوں کے صحت یاب ہونے کے بعد ان کے ٹیسٹ کی کوئی ضرورت نہیں ہے- مرکز نے کہا کہ تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز کی بھرمار کی وجہ سے ملک میں 2500 سے زیادہ لیبس انتہائی دباؤ میں کام کر رہے ہیں-مرکز نے ریاستوں کو جاری ایک سرکیولر میں کہا کہ " صحت مند افراد جو بین الر یاستی سفرکر رہے ہیں ان کے لئے آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کی ضرورت کو مکمل طور پر ختم کیا جاسکتا ہے۔"اس میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ "ا سپتال سے ڈسچارج ہوتے وقت کووڈ سے نجات پانے والے افراد کے لئے بھی کسی قسم کی جانچ کی ضرورت نہیں ہے۔" مرکزی حکومت کے مطابق جو افراد رپیڈ ٹیسٹ یا آر ٹی پی سی آر کے ذریعے ایک دفعہ کووڈ پازیٹو رہ چکے ہیں ان کے لئے بھی ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہے۔

حکومت نے مزید کہا کہ کووڈ کی علامت رکھنے والے اور غیر ضروری سفر کرنے والے افراد کو انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے کے لئے سفر سے گریز کرنا چاہئے۔ ایک ہفتہ سے زیادہ عرصہ سے ہندوستان میں روزانہ 3 لاکھ کیسز کورونا معاملات رپورٹ ہورہے ہیں- منگل کو ملک میں یک روزہ کووڈ مریضوں کی تعداد 24 گھنٹوں کے دوران 3.35 لاکھ تھی اور 3449 اموات بھی درج ہوئی ہیں۔

متعدد متاثرہ ریاستوں میں میڈیکل آکسیجن ،دوائیں اور اسپتال کے بستروں کی قلت کی اطلاع ملی ہے۔ طبی دیکھ بھال اور آکسیجن معاونت کی عدم موجودگی میں اسپتالوں کے باہر لوگوں کی موت کی خوفناک کہانیوں نے دنیا کو حیران کردیاہے- اس اضافے پر قابو پانے کے سلسلے میں کئی ممالک نے ہندوستان کو طبی امداد بھی فراہم کی ہیں- آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کے نتائج کو کئی دن تاخیر سے موصول ہونے کی اطلاعات متعدد کووڈ متاثرہ ریاستوں سے سامنے آئی ہیں۔زیادہ سے زیادہ لوگ اب مہنگے سی ٹی اسکین کا انتخاب کررہے ہیں جو پھیپھڑوں میں انفیکشن کے آثار کا پتہ لگاسکتے ہیں۔واضح رہے کہ ایمس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گلیریا نے پیر کو سی ٹی اسکین کے "غلط استعمال" کے خلاف خبردار کیا تھا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/SmI7Y

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.