Home / اہم ترین / کیرالا کی ڈاکٹرریکھا کرشنن کا کارنامہ۔دم توڑتی ہوئی مریضہ کیلئےکی کلمہ کی تلقین

کیرالا کی ڈاکٹرریکھا کرشنن کا کارنامہ۔دم توڑتی ہوئی مریضہ کیلئےکی کلمہ کی تلقین

پالکاڈ(ہرپل نیوز، ایجنسی)24 مئی :مذہب کے نام پر نفرت اور تعصب  پھیلانے اورتشددبھڑکانے کے اس زمانے میں کیرالا کی ایک خاتون ڈاکٹر نے انسانیت نوازی اور احسان مندی کی مثال قائم کی ہے۔ کیرالاکے پالاکاڈ ضلع کے پٹامبی کےسیوانا   ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سینٹر میں کووڈ نمونیا میں مبتلا ایک مریضہ  زیر علاج تھی ، وہ گزشتہ ۲؍ ہفتے سے آئی سی یو میں وینٹی لیٹرپر تھی ۔   اس کے متعلقین کو اس سے ملنے کی اجازت نہیں تھی ۔ اس نے جب دم توڑ اتو ڈاکٹرریکھا کرشنن اس کے پاس ہی تھیںاور انہوں نےمریضہ کے کان میں کلمہ پڑھا۔

 ڈاکٹرریکھ کرشنن کا اس سلسلے میں کہنا ہےکہ’’۱۷؍مئی کو مریضہ کی طبیعت بگڑنے کے بعد انہیں وینٹی لیٹر سے ہٹا دیاگیا تھا۔ڈاکٹروں نے محسوس کیاکہ ایسی حالت میںوہ زیادہ کچھ نہیںکرسکیں گے، اسلئےانہو ںنے مریضہ کے گھر والوں کو مطلع کیا۔ ‘‘ڈاکٹر ریکھا مزید  بتاتی ہیںکہ ’’جب میں ان کے قریب گئی تومجھے لگا کہ ان کا دَم مشکل سے نکل رہا ہے۔ یہ دیکھ کر میں نے ان کے کانوں میںآہستہ سے کلمہ پڑھا ۔اس کےبعد میں نے دیکھا کہ انہوں نے کچھ لمبی سانسیں لیں اور د م توڑ دیا۔‘‘ڈاکٹر ریکھا کرشنا نے بتایا کہ’’میںنے ایسا کرنے کے بارے میں سوچا نہیں تھا۔ یہ اسی وقت ہوگیا۔‘‘ انہوں نے بتایاکہ ’’دبئی میں میری پیدائش ہوئی ہےاورمیں وہیں پلی بڑھی ہوںاسلئے مسلمانوںکی رسوم وروایات اورآداب سے میں واقف ہوں۔ ایک خلیجی  ملک میںمجھے جوعزت اور احترام ملا میںنے وہی لوٹایا ہے۔‘‘

 ڈاکٹر ریکھا کے مطابق ’’جب میںخلیج میںتھی تو اپنے مذہب اورعقیدہ کی بنیاد پرمجھے کبھی کسی تفریق کاسامنا نہیںکرنا پڑا ۔ وہاں مجھے جو عزت ملی ،موقع ملنے پر وہی میںنے لوٹائی ہے۔‘‘ انہوں نے مزیدکہا کہ میں نے جو کیا اس میںکوئی مذہبی اشارہ نہیں ہےبلکہ یہ  انسانیت نوازی کا ایک عمل ہے۔کووڈ ۱۹؍ کے مریضوںکا ایک بڑا مسئلہ  یہ ہےکہ وہ اپنےآپ کو اکیلااور الگ تھلگ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ صرف صحت کارکنان اورمیڈیکل اسٹاف کا ہی ان سے ملنا ہوتا ہے، اسلئے ہمیں وہ سب کچھ کرنا چاہئے جس سے ان کی مدد ہوسکے۔ ڈاکٹرریکھا نے صرف کلمہ ہی نہیںپڑھا بلکہ اس کا مطلب بھی انہوں نے بتایا کہ  اللہ  کے سوا کوئی خدا نہیںہے اورمحمد ؐ اس کے رسول  ہیں۔ اس تعلق سے  ایک پوسٹ جب انہوں نے سوشل میڈیا پر ڈالی  تو انہیں کئی تعریفی پیغامات ملے  اور  ایک ایسی رسم انجام دینے پرجوعام طورپر گھر والوںکے ذریعےپوری کی جاتی ہے، ان کی حوصلہ افزائی کی گئی   ۔( بشکریہ انقلاب ممبئی)

The short URL of the present article is: http://harpal.in/6uBfo

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.