Home / اہم ترین / کیرالہ میں نپاہ وائرس سے 12 سالہ بچے کی موت ، دو دیگر مریض ملے ، مرکزی حکومت نے بھیجی ٹیم

کیرالہ میں نپاہ وائرس سے 12 سالہ بچے کی موت ، دو دیگر مریض ملے ، مرکزی حکومت نے بھیجی ٹیم

نئی دہلی: (ہرپل نیوز؍ایجنسی)5؍ستمبر:  کیرالہ ان دنوں کورونا وائرس کی زد میں ہے ۔ ہر دن ریاست میں ہزاروں کی تعداد میں کورونا کے معاملات سامنے آرہے ہیں ۔ کورونا انفیکشن کے ساتھ ساتھ اب ریاست میں نپاہ وائرس نے بھی دستک دیدی ہے ۔ ریاست کے کوزی کوڈ ضلع میں نپاہ وائرس کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ یہاں اس وائرس کے انفیکشن سے ایک بارہ سال کے بچے کی موت ہوگئی ۔ بچہ کی موت کے بعد انتظامیہ فورا حرکت میں آگئی اور بچہ سے رابطہ میں آنے والے لوگوں کی فورا جانچ کی گئی ۔ یہ جانکاری محکمہ صحت نے دی ہے ۔

وزیر صحت وینا جارج نے کہا کہ کوزی کوڈ ضلع میں ایک بچے میں نپاہ وائرس کی علامت ملنے کے بعد اس کو علاج کیلئے ایک پرائیویٹ اسپتال میں بھرتی کرایا گیا تھا ۔ علاج کے دوران بچے کی موت ہوگئی ۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے 188 ابتدائی رابطوں کی شناخت کی ہے ، جن میں سے 20 افراد ہائی رسک کٹیگری میں ہیں ۔ ان لوگوں کو آج شام تک میڈیکل کالج میں منتقل کردیا جائے گا ۔

وزیر صحت نے کہا کہ بچے کا روٹ میپ بھی جاری کیا جائے گا ، جس سے لوگوں کو یہ پتہ چل سکے کہ وہ کہاں کہاں گیا تھا اور کن کن لوگوں کے رابطے میں آیا تھا ۔ انہوں نے لوگوں نے اپیل کی کہ لوگ اپنی جانچ کیلئے افسران سے رابطہ کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بچے کے علاوہ دو دیگر لوگوں میں بھی نپاہ وائرس کا انفیکشن پایا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں نپاہ وائرس کا انفیکشن نہ پھیل سکے ، اس کیلئے سرکار نے ٹیمیں تشکیل کردی ہیں ۔ رابطہ ٹریسنگ اور اس کو روکنے کیلئے دوسرے بندوبست کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وائرس کو لے کر پینک نہ ہوں بلکہ انفیکشن کے اس دور میں احتیاط برتیں ۔ بچے کے رابطہ میں آنے والوں کو کوارنٹائن کی سخت وارننگ دی گئی ہے ۔

اس درمیان مرکزی حکومت نے نپاہ وائرس کا معاملہ سامنے آنے کے بعد ایک ٹیم کیرالہ کیلئے بھیجی ہے ۔ یہ ٹیم ریاست کے افسران کو تکنیکی مدد فراہم کرے گی ۔ اس کے ساتھ ہی مرکز نے ہدایت دی ہے کہ ریاست میں گزشتہ 12 دنوں میں متاثرہ بچے کے رابطے میں آنے والوں کی ٹریسنگ کی جائے اور ضلع افسر ایسے لوگوں کے نمونے جمع کرکے ٹیسٹنگ کرائیں ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/nX279

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.