Home / اہم ترین / گریجویشن کے لئے اب چار سال کی تعلیم۔ نئی تعلیمی پالیسی(این ای پی) میں طلبہ کیلئے کیا جاننا ضروری ہے؟ یہاں پڑھیں تفصیلات

گریجویشن کے لئے اب چار سال کی تعلیم۔ نئی تعلیمی پالیسی(این ای پی) میں طلبہ کیلئے کیا جاننا ضروری ہے؟ یہاں پڑھیں تفصیلات

نئی تعلیمی پالیسی کے ذریعے ملک کے تعلیمی نظام کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی ہے،اس کا ایک اہم مقصد طلبہ کی بہترین ذہنی نشوونما اور ان کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرنا ہے۔دنیا کے تمام ممالک تعلیمی پالیسی پر زور دیتے ہیں ۔ تعلیمی پالیسیوں کے نتائج اور سماجی اور معاشی ترقی پر ان کے اثرات پر توجہ دینے کیلئے عالمی سطح پر دنیا بھر کی حکومتوں کو غور کرنے کیلئے کہا جاتا ہے۔ تعلیمی پالیسی مرتب کرنے کیلئے برسوں محنت کی جاتی ہے جس میں کئی باتوں کو مد نظر رکھا جاتا ہے تاکہ ایک بہترین تعلیمی پالیسی تیار ہو جس کا فائدہ طلبہ کے ساتھ ساتھ ملک کو بھی ہو۔ ہر تعلیمی پالیسی کا مقصد ملک کے تعلیمی نظام کو مستحکم کرنا ہوتا ہے۔ہندوستان میں 1986کے بعد سے تعلیمی پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی گئی ہے البتہ 1992میں اس میں چند ترامیم کی گئی تھیں ۔ تاہم،29 جولائی 2020کو مرکزی کابینہ نے نئی تعلیمی پالیسی کو منظوری دی ہے۔ اس پالیسی کے عمل میں آتے ہی ملک کے تعلیمی نظام میں کئی اہم تبدیلیاں ہوں گی۔اگر آپ طالب علم ہیں تواس نئی تعلیمی پالیسی کے تعلق سے چند باتیں جاننا آپ کیلئےضروری ہے۔

تعلیمی پالیسی کی تاریخ:ابتداء ہی سے ہندوستان میں وہ افراد تعلیمی پالیسی مرتب کرتے رہے ہیں جو اقتدار میں ہوتے ہیں ۔ اہم بات یہ ہے کہ آزادی سے قبل تعلیمی پالیسی تیار کرنے کیلئے نہ کسی سائنسی طریقے کا سہارا لیا جاتا تھا اور ہی نہ کوئی تحقیق کی جاتی تھی۔برسر اقتدار افراد جس چیز کو اہم خیال کرتے یا جو چیز انہیں دلچسپ محسوس ہوتی اسے تعلیمی پالیسی میں شامل کرلیا جاتا تھا۔ ہندوستان میں جب انگریزوں نے قدم رکھا تو وہ اپنے ساتھ تعلیم کا مغربی نظام بھی لائے۔ مؤرخین کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں تعلیمی پالیسی لانے والے انگریز ہی تھے۔ ان کے خیال میں ہندوستان کا تعلیمی نظام فرسودہ تھا جسے بدلنا بہت ضروری تھا۔ انگریزوں نے کوشش کی کہ ہندوستان کے ہر حصہ میں تعلیمی نظام کو مستحکم کیا جائے لیکن اس وقت تعلیم صرف اعلیٰ ذاتوں اور امراء ہی کے بچوں کو دی جاتی تھی۔ غریب طلبہ کو اکثر نظر انداز کردیا جاتا تھا۔لیکن وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ معاشرہ کے سبھی طبقات تعلیم کی اہمیت کو سمجھنے لگے اور اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کیلئے تگ و دو کرنے لگے۔

آزادی کے بعد :آزادی کے بعد سینٹرل بورڈ آف ایجوکیشن (سی اے بی ای) نے ۲؍ کمیشن بنائے جن میں سے ایک کا کام یونیورسٹی کی تعلیم پر جبکہ دوسرے کا کام سیکنڈری ایجوکیشن پر توجہ دینا تھا۔ پہلی کمیشن نے 1948 میں اپنے کام کا آغاز کیا تھا جبکہ سیکنڈری ایجوکیشن کی کمیشن نے ڈاکٹر اے ایل لکشمن سوامی کی قیادت میں ۱۹۵۲ء میں اپنے کام کی شروعات کی تھی۔ اس کمیشن نے 1953ء میں اپنی رپورٹ پیش کی جس میں ملک کے تعلیمی نظام کے متعلق کافی تفصیل سے بتایا گیا تھا۔اسی رپورٹ میں ملک میں ہائی اسکولوں کی تعمیر، طلبہ کیلئے یونیفارم اور ٹیکنیکل اسکولوں کو شروع کرنے کی تجاویز پیش کی گئی تھیں ۔ یہ پالیسی کئی وجوہات کی بناء پر قبول نہیں کی گئی البتہ اس کی چند تجاویز کو بہتر قرار دیا گیا تھا۔

کوٹھاری کمیشن کی تشکیل:ڈی ایس کوٹھاری کی لیڈرشپ میں ۱۹۶۴ء میں انڈین ایجوکیشن کمیشن (کوٹھاری کمیشن) تشکیل دی گئی تھی جس نے ۱۹۵۳ء کی کمیشن کے ان نکات پر خاص توجہ دی جن کے سبب اسے قبول نہیں کیا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک کے کمزور تعلیمی نظام کو بیک وقت کئی اصلاحات ہی مستحکم کرسکتی ہیں ۔

نیشنل پالیسی آن ایجوکیشن:کوٹھاری کمیشن کی رپورٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے 1968ء میں وزیر اعظم اندرا گاندھی نے ’’نیشنل پالیسی آن ایجوکیشن‘‘ مرتب کروائی جس میں معاشرہ کے تمام طبقات کو مد نظر رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے تعلیمی پالیسی بنائی گئی تھی۔ تنقیدوں کے باوجو ، اس پالیسی کو ہندوستانی تعلیمی نظام کو شکل دینے کی پہلی منظم کوشش کے طور پر سراہا گیا۔ 1979ء میں ’’ڈرافٹ نیشنل پالیسی آن ایجوکیشن‘‘ بنائی گئی جس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ملک کے تعلیمی نظام کو مستحکم کرنے کیلئے ہندوستان کی تمام کمیونٹیز کو ایک ساتھ مل کر کام کرنا ہوگااور ایک دوسرے کی مدد کرنی ہوگی۔

قومی تعلیمی پالیسی:وزیر اعظم راجیو گاندھی کی حکومت نے ۱۹۸۶ء میں نئی ’’نیشنل پالیسی آن ایجوکیشن‘‘ بنائی۔ اس کا ایک مقصد معاشرہ کے ہر طبقہ، خاص طور پر نچلی ذاتوں ، قبائلیوں اور لڑکیوں کی تعلیم پر زور دینا تھا۔ اسے منظوری ملنے کے بعد بڑے پیمانے پر ملک بھر سے ٹیچروں کا تقرر کیا گیا، نئے اسکول اور کالجز تعمیر کئے گئے۔ اس پالیسی کا ایک اہم مقصد تمام بچوں کو پرائمری تک کی تعلیم دلوانا یقینی بنانا بھی تھا۔ اسی پالیسی میں تعلیمی نظام میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔

تعلیمی پالیسی میں ترامیم:حکومت ہند نے 1992ء میں اچاریہ راما مورتی کی قیادت میں ایک کمیشن تشکیل دیا۔ اس کے بعد این جنا دھن ریڈی کی لیڈرشپ میں سینٹرل ایڈوائزری بور ڈ آف ایجوکیشن تشکیل دیا گیا تھا۔ اس کمیشن نے کئی اہم ترامیم پیش کیں جن میں تعلیمی نظام کو مزید مستحکم کرنا اور معیاری تعلیم دینا قابل ذکر ہیں ۔

نئی تعلیمی پالیسی:پہلی قومی تعلیمی پالیسی 1986ء میں مرتب کی گئی تھی جس میں 1992ء میں ترمیم کی گئی تھی۔ تقریباً ۳؍ دہائیوں سے اس میں تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اس مدت میں دنیا بھر میں کئی نمایاں تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں ۔ ۲۱؍ ویں صدی کے تقاضوں اور ملک کو مزید مستحکم کرنے کیلئے ہمیں ایک نئی تعلیمی پالیسی کی ضرورت تھی۔ 2014ء میں اس جانب ایک مرتبہ پھر توجہ دی گئی۔ جب اسمرتی ایرانی کو وزیر برائے ترقی انسانی وسائل بنایا گیا تھا تبھی ملک کے مختلف شعبوں سے وابستہ ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے گزشتہ تعلیمی پالیسیوں ، دیگر ممالک کے تعلیمی نظام اور مختلف شعبوں کی تحقیق کے بعد ۲۰۱۹ء میں اپنی رپورٹ پیش کی۔ واضح رہے کہ اس دوران اسمرتی ایرانی کے بعد 2016ء میں پرکاش جاؤڈیکر اور مئی 2019ء میں رمیش پوکھریال کو وزیر برائے ترقی انسانی وسائل بنایا گیا تھا۔

دی ڈرافٹ نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2019ء (ڈی این ای پی) کا 22؍ زبانوں میں ترجمہ کرکے اسے ’’مائے گو‘‘ (مائے گورنمنٹ) اور وزارت برائے ترقی انسانی وسائل کی ویب سائٹس پر اپ لوڈ کیا گیا اور ملک کے ماہرین اور عوام سے اس پر رائے طلب کی گئی۔ تمام ریاستوں کے وزارء کے علاوہ عوام کی جانب سے اس پالیسی پر حکومت کو تقریباً ۲؍ لاکھ جوابات موصول ہوئے۔ نومبر 2019ء میں نئی تعلیمی پالیسی کو پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں پیش کیا گیا جہاں اس پالیسی پر کافی بحث کی گئی۔ تاہم، 29؍ جولائی 2020ء کو کابینہ نے نئی قومی تعلیمی پالیسی کو منظوری دے دی۔ اس پالیسی کا مقصد موجودہ ہندوستانی تعلیمی نظام میں متعدد تبدیلیاں متعارف کروانا ہے۔اسی دن وزارت برائے ترقی انسانی وسائل کو دوبارہ وزارت تعلیم اور رمیش پوکھریال کو وزیر تعلیم بنایا گیا۔

نئی تعلیمی پالیسی کے متعلق طلبہ کیلئے کیا جاننا ضروری ہے؟

♦تعلیم کا حق پہلے 14 سال کی عمر تک ہی تھا، جسے 3سے 18سال کی عمر تک لازمی قرار دیا گیا ہے۔

♦تعلیم حاصل کرنے کے موجودہ طریقے کو تبدیل کیا جائے گا۔

♦بورڈ امتحانات میں ، طلبہ کو درحقیقت کتنی معلومات ہے اس کا جائزہ لیا جائے گا۔ روٹ لرننگ (رٹا مارکر پڑھائی کرنا) کا فیصد کم کردیا جائے گا۔

♦بورڈ امتحانات سال میں2 مرتبہ منعقد ہوں گے۔

♦نصاب میں 3 زبانوں کی پالیسی برقرار رہے گی البتہ مادری زبان یا مقامی زبان5ویں یا 8ویں جماعت تک ہی تعلیم کا ذریعہ ہوگی۔

♦رپورٹ کارڈ (رزلٹ) صرف نمبروں اور ریمارکس کے بجائے طلبہ کی مہارت اور صلاحیتوں پر ایک جامع رپورٹ کی شکل میں ہوگا۔

♦اسکول کے طلبہ کو سال میں 10 ’’بیگ لیس ڈے‘‘ (بغیر بستہ کے) دیئے جائینگے۔ ان دنوں میں وہ اپنی دیگر صلاحیتوں (غیر نصابی سرگرمیوں ) پر توجہ دیں گے۔

♦طلبہ کو آرٹس، سائنس اور کامرس میں تقسیم ہونا نہیں پڑے گا بلکہ وہ کسی بھی شعبے سے اپنی پسند کے مضامین منتخب کرکے تعلیم حاصل کرسکیں گے۔

♦کالج میں داخلہ لینے کیلئے کامن انٹرنٹس ٹیسٹ منعقد کیا جائے گا۔

♦گریجویشن 3 سال کے بجائے 4 سال کا ہوگا۔

♦تعلیم دینے کےجدید طریقوں جیسے ٹیکنالوجی وغیرہ کا بھرپور استعمال کیا جائے گا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/LUjHK

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.