Home / اہم ترین / گنگا کے قریب دفن لاشوں کو نمٹانے سے متعلق مفاد عامہ کی عرضی الہ آباد ہائی کورٹ سے خارج

گنگا کے قریب دفن لاشوں کو نمٹانے سے متعلق مفاد عامہ کی عرضی الہ آباد ہائی کورٹ سے خارج

لکھنؤ(ہرپل نیوز ،ا یجنسی)16 جون۔: الہ آباد ہائی کورٹ نے الہ آباد اور کانپور میں گنگا کے مختلف گھاٹوں کے قریب دفن لاشوں کو نمٹانے سے متعلق مفاد عامہ کی عرضی کو جمعہ کے روز خارج کر دیا۔ہائی کورٹ نے اس سلسلے میں سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ گنگا کے مختلف گھاٹوں کے قریب دفن لاشوں کو ہٹانے کے لئے دائر پی آئی ایل عرضی کی نوعیت صرف تشہیر نظر آتی ہے۔ اس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ عوامی مفاد کی ایسی عرضیوں پر غور نہيں کرے گی۔چیف جسٹس سنجے یادو اور جسٹس پرکاش پاڈیا پر مشتمل ڈویژن بنچ نے درخواست گزار کے اس مؤقف کو بھی مسترد کردیا کہ مذہبی رسومات کے مطابق لاشوں کو جلانا اور احترام کے ساتھ لاشوں کی آخری رسومات ادا کرنا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے۔’قومی آواز ‘ نیوز پورٹل میں شائع خبر کے مطابق عدالت نے درخواست گزار سے پوچھا ہے کہ اس میں اس کی ذاتی رول کیا رہا ہے اور کیا اس نے خود ہی لاشیں کھودا اور اس کی آخری رسومات ادا کی ہیں۔ہائي کورٹ نے اس بات پر بھی برہمی کا اظہار کیا ہے کہ درخواست گزار نے مناسب معلومات حاصل کئے بغیر ہی عدالت میں عوامی مفاد کی عرضي ہ درج کرنے کی کوشش کی ہے۔ عدالت نے یہ درخواست خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس طرح کی درخواستوں پر جرمانہ عائد کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔عدالت نے مزید کہا کہ درخواست گزار نے ان رسومات پر کوئی تحقیق نہیں کی ہے جو گنگا کے قریب رہائش پذیر مختلف برادریوں میں پائی جاتی ہیں۔ تاہم عدالت نے اجازت دی ہے کہ درخواست گزار پوری معلومات اور تحقیق کرنے کے بعد دوبارہ درخواست دائر کرسکتا ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/8OKUi

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.