Home / اہم ترین / ہاتھرس متاثرہ کے کنبہ نے رات میں لکھنو جانے سے کیا انکار۔ سخت حفاظتی انتظامات کےساتھ پیر کو لکھنؤ کے لئے ہوگی روانگی

ہاتھرس متاثرہ کے کنبہ نے رات میں لکھنو جانے سے کیا انکار۔ سخت حفاظتی انتظامات کےساتھ پیر کو لکھنؤ کے لئے ہوگی روانگی

لکھنو(ہرپل نیوز ، ایجنسی)11اکتوبر:اترپردیش کے ہاتھرس میں 14 ستمبر کو دلت لڑکی کی مبینہ اجتماعی آبروریزی کے واقعہ کی جانچ سی بی آئی نے اپنے ہاتھ میں لے لی ہے ۔ اتوار کو سی بی آئی کی ٹیم جانچ کی شروعات کرنے کیلئے سب سے پہلے چندپا پولیس اسٹیشن پہنچی ۔ بتایا جارہا ہے کہ سی بی آئی کی ٹیم کے ساتھ فورینسک ٹیم بھی موجود رہے گی ۔ وہیں پیر کی صبح متاثرہ کے گاوں پہنچ کر جائے واقعہ کا معائنہ کرسکتی ہے ۔ ذرائع کے مطابق 15 دنوں تک سی بی آئی کی ٹیم ہاتھرس میں میں ٹھہر کر معاملہ کی جانچ کرے گی ۔

متاثرہ کے بھائی کے مطابق ہم رات میں لکھنو کا سفر نہیں کرنا چاہتے ہیں ۔ وہیں کبنہ کے انکار کے بعد پولیس نے جانکاری دی ہے کہ اب لکھنو کیلئے پیر کی صبح ساڑھے پانچ بجے نکلنا ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ ہائی کورٹ نے اس معاملہ میں ازخود نوٹس لیا ہے ۔ یہ نہیں ، اس پورے معاملہ کو لے کر کنبہ نے اپنی جان کو خطرہ بتایا تھا ، جس کی وجہ سے انہیں پولیس تحفظ فراہم کرایا گیا ہے ۔ہاتھرس کے ایس پی ونیت جیسوال نے بتایا کہ اترپردیش پولیس اور انتظامیہ کی ایک ٹیم انہیں سخت سیکورٹی میں لکھنو لے کر جائے گی ۔ پولیس کی ٹیم میں دو سینئر افسران ، ایک سی او اور ایک مجسٹریٹ شامل ہیں ۔ یہ افسران متاثرہ کنبہ کو لکھنو لے جانے کے دوران سیکورٹی کی نگرانی کریں گے ۔

خیا ل رہے کہ مبینہ آبروریزی کی شکار 19 سالہ لڑکی کی دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں 29 ستمبر کو موت ہوگئی تھی ۔ ابھی تک ہاتھرس واقعہ کی جانچ ایس آئی ٹی کررہی تھی ۔ حال ہی میں اس جانچ کو پوری کرنے کیلئے یوپی حکومت نے 10 دنوں کا مزید وقت دیا تھا ، تاکہ سچ سامنے آسکے ۔ تاہم اب یہ معاملہ سی بی آئی کے پاس پہنچ گیا ہے ۔ (بشکریہ نیوز ایٹین اردو)

The short URL of the present article is: http://harpal.in/swydM

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.