Home / اہم ترین / ہر ایک مجرم کیخلاف’ زیرو ٹالرنس ‘کی پالیسی کے تحت کاروائی کی جائے: یوگی

ہر ایک مجرم کیخلاف’ زیرو ٹالرنس ‘کی پالیسی کے تحت کاروائی کی جائے: یوگی

لکھنؤ:(ہرپل نیوز؍ایجنسی)24؍مئی:یوپی اسمبلی کے اجلاس کے دوسرے دن منگل کووزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی قسم کا جرم ناقابل معافی ہے اور حکومت کو مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے، خاص طور پر خواتین کے خلاف جرائم پرحکومت کو اور بھی سنجیدہ ہونا چاہیے۔یوگی آدتیہ ناتھ نے منگل کو اپوزیشن لیڈر اکھلیش یادو کی طرف سے ریاست میں خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم کا مسئلہ اٹھائے جانے کے بعد کہا کہ بی جے پی کی حکومت ہے، یہاں یہ نہیں کہا جاتا کہ لڑکے ہیں، وہ غلطیاں ہوجاتی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ بہت پہلے خواتین کیخلاف جرائم کے ایک معاملے میں سماج وادی پارٹی کے بانی ملائم سنگھ یادو نے کہا تھا کہ لڑکوں سے غلطی ہوجاتی ہے ،۔کسی کا نام لیے بغیر ایس پی سربراہ اور اپوزیشن لیڈر پر نشانہ لگاتے ہوئے یوگی نے کہا کہ اگر کوئی مجرم ہے، چاہے وہ کوئی بھی ہو،اس کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ قائد حزب اختلاف اس بات کو سمجھتے ہیں اور انہوں نے بھی مان لیا ہے کہ کارروائی کی گئی ہے۔

وقفہ صفر کے دوران اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اکھلیش یادو نے الہ آباد، چندولی، سدھارتھ نگر اور للت پور میں خواتین کے خلاف مجرمانہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ خواتین کیخلاف سب سے زیادہ جرائم ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیرو ٹالرنس کی بات کرنے والی حکومت میں پولیس من مانی کر رہی ہے۔ اسٹیشن ہاؤس آفیسر کے ذریعہ للت پور تھانے میں عصمت دری کی متاثرہ کے ساتھ زیادتی کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ قائد ایوان للت پور گئے اور اس معاملے میں کارروائی کی گئی۔

انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ قائد ایوان سچ بولتے ہیں، مجھے یہ بات بہت پسند آئی، میں اس میٹنگ میں موجود نہیں تھا لیکن مجھے اخبارات کے ذریعے معلوم ہوا کہ جب افسران اور حکومت سے شکایت کی گئی۔۔قائد حزب اختلاف کا مزید کہنا تھا کہ 5 سال تک دلالی ہوتی رہی، قائد ایوان کو خبر تک نہیں ہوئی۔ کن افسران کو درست کیا گیا؟ میں یہ مسئلہ اس لیے اٹھا رہا ہوں کیونکہ میں خود للت پور گیا تھا اور جب مجھے اطلاع ملی کہ ایک بیٹی کے ساتھ ایسا واقعہ ہوا ہے اور حکومت نے ایکشن لیا تو کیا حکومت بتائے گی کہ یہ واقعہ نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کیا کررہی ہے۔

یوگی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ مجرم ہے، چاہے وہ کوئی بھی ہو، اس کے خلاف کارروائی زیرو ٹالرنس کی پالیسی کے تحت کی جاتی ہے، اپوزیشن لیڈر اس بات کو سمجھتے ہیں اور انہوں نے یہ بھی قبول کیا ہے کہ کارروائی کی جاتی ہے۔یوگی نے کہا کہ اتر پردیش کی لا اینڈ آرڈر کی صورتحال آج ملک میں ایک مثال بنی ہوئی ہے۔ پانچ سالوں میں کوئی فساد نہیں ہوا۔

2012 سے 2017 کے درمیان فسادات کے 700 سے زیادہ واقعات ہوئے، لیکن 2017 سے 2022 کے درمیان کوئی ہنگامہ نہیں ہوا اور نہ ہی کرفیونافذ کیا گیا۔ یوگی نے کہا کہ یوپی میں مافیا کی دو ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی جائیداد ضبط کر لی گئی ہے، پھر چاہے وہ خواتین کی حفاظت کا معاملہ ہو،یا 25 کروڑ شہریوں کی حفاظت کا معاملہ ہو یا ریاست میں بہتر امن و امان کا نظم کیا گیا ہے ، یہی حکومت کے ترجیحی نکات ہیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/RF7IL

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.