Home / اہم ترین / ہزاروں کسان موجود تھے، صرف 23 عینی شاہدین ملے؟ لکھیم پور تشدد پر سپریم کورٹ کا سوال

ہزاروں کسان موجود تھے، صرف 23 عینی شاہدین ملے؟ لکھیم پور تشدد پر سپریم کورٹ کا سوال

نئی دہلی: (ہرپل نیوز؍ایجنسی)26؍اکتوبر:لکھیم پور کھیری تشدد کیس کی عدالت کی نگرانی میں آزادانہ انکوائری کی درخواست پر آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس این وی رمنا، جسٹس سوریا کانت اور جسٹس ہیما کوہلی کی بنچ نے یہ سماعت کی۔ اب اگلی سماعت 8 نومبر کو ہوگی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ گواہوں کے بیانات مجسٹریٹ کے سامنے درج کرائے ؟۔ یوپی حکومت – مجسٹریٹ کے سامنے کچھ گواہوں کے بیانات درج کرائے گئے ہیں، کچھ باقی ہیں۔

یوپی حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے ہریش سالوے نے کہا کہ 30 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں۔ جن میں سے 23 عینی شاہدین بتائے گئے ہیں۔ سی جے آئی نے کہا کہ معاملہ یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر کسانوں کی ریلی تھی، کیا صرف 23 عینی شاہدین ملے ؟ یوپی حکومت کی جانب سے سالوے نے کہا کہ عوامی اشتہار دے کر ہم نے ان چشم دید گواہوں کو جنہوں نے اصل میں کار میں لوگوں کو دیکھا ہے، آگے آنے کو کہا ہے۔

ہم نے واقعے کی تمام موبائل ویڈیوز اور ویڈیو گرافی کو بھی دیکھا ہے۔جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ وہاں چار پانچ ہزار لوگ تھے، جو مقامی تھے۔ سالوے نے جواب دیا کہ زیادہ تر مقامی تھے، لیکن باہر کے لوگ بھی تھے۔ جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ واقعہ کے بعد بھی بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے جو تحقیقات کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس پر سالوے نے کہا – یہاں سوال عینی شاہدین کا ہے۔

سی جے آئی نے کہا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ ان معاملات میں ہمیشہ ایک امکان رہتا ہے۔ سالوے نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں۔ سی جے آئی نے کہا کہ اپنی ایجنسی سے پوچھیں کہ اس واقعہ کے بارے میں بات کرنے والے 23 لوگوں کے علاوہ کتنے لوگوں نے اس واقعہ کو دیکھا۔ سالوے نے پوچھا کہ کیا ہم آپ کو گواہوں کے کچھ ریکارڈ شدہ بیانات سیل بند لفافے میں دکھا سکتے ہیں؟

جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ان چار ہزار میں سے بہت سے لوگ صرف دیکھنے آئے ہوں گے، لیکن کچھ لوگوں نے چیزوں کو سنجیدگی سے دیکھا ہوگا اور وہ گواہی دینے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ سالوے نے کہا کہ مزید گواہ بھی ہوں گے جو ملزم کی شناخت کر سکیں گے۔

سی جے آئی نے پوچھا کہ کیا ان 23 چشم دید گواہوں میں سے کوئی زخمی ہوا ہے؟ سالوے نے کہا – نہیں۔ بدقسمتی سے زخمی ہونے والے بعد میں دم توڑ گئے۔ سی جے آئی نے کہا کہ مزید معلومات لیں پھر ہم لیب سے معاملے کو تیز ی لانے کے لیے کہہ سکتے ہیں۔ سالوے نے کہاکہ ہم اگلی بار عدالت کو تفصیلات دیں گے۔

سی جے آئی نے کہا کہ گواہوں کی حفاظت کا مسئلہ بھی ہے۔ سالوے نے کہا کہ انہیں سیکورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے مقتول صحافی اور ایک ملزم کے اہل خانہ کی شکایت پر یوپی حکومت سے بھی رپورٹ طلب کی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ حکومت کو ان شکایات پر الگ سے اسٹیٹس رپورٹ بھی داخل کرنی چاہیے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/om9TA

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.