Home / اہم ترین / ہمارا سچ بھی حکومت کو باغیانہ لگا۔ڈاکٹر کفیل کی رہائی یوگی حکومت پر عدالتی طمانچہ۔ از:اظہرالدین شیخ،اورنگ آباد

ہمارا سچ بھی حکومت کو باغیانہ لگا۔ڈاکٹر کفیل کی رہائی یوگی حکومت پر عدالتی طمانچہ۔ از:اظہرالدین شیخ،اورنگ آباد

خدمت خلق کے لیے خود وقف کردینے اور موجودہ سرکاری نظام کے خلاف آواز اٹھانے والے اترپردیش کے ڈاکٹر کفیل خان کو ایک طویل قانونی جنگ کے بعد آخر کار 216 دنوں بعد الہ آباد ہائی کو رٹ سےرہائی مل گئی ڈاکٹر کفیل خان کی رہائی کا حکم سناتے ہوئے ہائی کورٹ نے ان پر لگا این ایس ے ہٹانے کا بھی حکم دیا ہے ، ڈاکٹرکفیل پر ڈسمبر میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں سی اے اے اور این آرسی کے اجلاس میں اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں اس وقت این ایس اے لگایا گیا تھا جب انھیں الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہا کیاجارہا تھا ، ڈاکٹر کفیل پر نہ صرف این ایس اے لگایا گیا بلکہ لااینڈ آرڈر کا مسئلہ بتا کر اس میں توسیع بھی کی گئی ، ہائی کورٹ نے اپنے تازہ فیصلے میں ڈاکٹر کفیل کی این ایس اے میں گرفتاری کو ہی سرے سے غلط بتایا اس کے ساتھ ہ ڈاکٹر کفیل خان کو فوراً رہا کرنے کے بھی احکامات دیئے ہیں۔ واضح رہے کہ اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں ڈاکٹر کفیل خان متھرا جیل میں بند ہیں۔ یہ حکم چیف جسٹس گووند ماتھر اور جسٹس ایس ڈی سنگھ کی بینچ نے ڈاکٹر کفیل خان کی ماں نزہت پروین کی عرضی پر دیا ہے۔ ڈاکٹرکفیل کی گرفتاری سے لیکر رہائی تک ایک طویل جدوجہد ہے جو کئی محاذ پر جاری رہی ڈاکٹر کفیل خاناس وفت سرخیوں میں آئے جب ستمبر 2017 میں اترپردیش کے شہر گورکھ پور کے سرکاری بی آر ڈی ہسپتال میں مبینہ طور پر آکسیجین کی کمی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے۔حکومت نےانہیں وہاں سے برخاست کر دیا اور لاپرواہی کےالزام میں ان کی گرفتارعمل آئی اور تقریباً آٹھ ماہ جیل میں گزارنے کے بعد انہیں اپریل 2018 میں رہا کر دیا گیا۔ اس معاملے میں ریاستی حکومت کی جانب سے بھی انہیں 'کلین چٹ' گئی تھی۔ تاہم اترپردیش کی حکومت کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر کفیل کی لاپرواہی کی وجہ سے بچوں کی ہلاکتیں ہوئی لیکن ڈاکٹرکفیل کا الزام ہے کہ حکومت کی جانب سے گیس سپلائی کرنے والوں کے بل نہ ادا ہونے کی وجہ سے بچوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

اس وقت کچھ میڈیا حلقوں نے بی آر ڈی کالج میں معصوم بچوں کی جان بچانے کے لیےڈاکٹر کفیل کو ہیرو کے طور پر پیش کیا تھا ڈاکٹر کفیل نے میڈیا کا دل اس وقت بھی جیت لیا جب رہائی کے بعد بہار میں آنے والے سیلاب کے دوران انہوں نے مفت میڈیکل کیمپ لگائے جس سے بہت سارے ان لوگوں کو فائدہ پہنجا جن کی ڈاکٹروں تک رسائی ممکن نہیں تھی۔ سن دو ہزار سترہ میں جب پہلی بار ڈاکٹر کفیل کو بچوں کی اموات کے معاملے میں لاپرواہی برتنے کے الزام میں جیل بھیجا گیا تو انہوں نے 10 صفحات پرمشتمل ایک خط لکھا جس میں انہوں نے اترپردیش کی حکومت اور مقامی انتظامیہ کے بعض اعلی افسران پر سنگیں الزامات لگائے گئے تھے جس میں اہم یہ تھا کہ حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے بچوں کی اموات ہوئی ہیں۔ اور حکومت کی ’نااہلی' کو چھپانے کے لیے انہیں ’قربانی کا بکرا' بنایا جا رہا ہے۔اس وقت ان کی حمایت میں سوشل میڈیا پر لوگوں کے علاوہ جماعت اسلامی سے لے کر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طلباء نےمظاہرے کیے۔ گورکھپور میں عام انتخابات کے دوران مسلم اکثریت والے علاقوں میں سماج وادی پارٹی اور نشاد پارٹی نے ڈاکٹر کفیل کو ہیرو کی طرح پیش کیا اور حکومت کے خلاف جم کر حملہ بولا۔خود ڈاکٹر کفیل نے سوشل میڈیا کے ذریعے بار بار یہ بات کہی ہے کہ آدتیہ یوگی ناتھ کی حکومت انہیں صرف اس لیے نشانہ بنا رہی ہے کیونکہ انہوں نے ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں معصوم بچوں کی مدد کرنے کی کوشش کی اور حکومت کی نا اہلی پر سوال اٹھائے۔اس وقت ڈاکٹر کفیل پر متعدد الزامات لگائے گئے۔ سوشل میڈیا میں ایک پوسٹ آئی جس میں بتایا گیا تھا کہ 2009 میں انہوں نے ایک طبی امتحان میں کسی اورشخص کی جگہ امتحان دیا تھا۔ اس کے خلاف کاروائی بھی ہوئی۔اسی دوران ان کے خلاف ریپ کا الزام بھی اچھالا گیا۔ در اصل 2015 میں ایک خاتون نے ڈاکٹر کفیل اور ان کے بھائی کاشف پر ریپ کا مقدمہ درج کرایا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ خاتون ایک ایسے شخص کی ملازمہ تھیں جن کی ڈاکٹر کفیل کے خاندان کے ساتھ قانونی لڑائی چل رہی تھی اور اسی لیے یہ الزام لگایا گیا تھا۔ ایک ایسے شخص کو جو کہ پیشے سے ڈاکٹر ہے اورلوگوں کی خدمت کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے ایسے ڈاکٹر کے خلاف ریاستی حکومت کا باربار قانونی ہتھکھنڈے اپنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آپ کو حکومت کی پالیسی پر سوال اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ،
ہمارا مقصد ڈاکٹر کفیل کو کلین چٹ دینا نہیں ہے عدالت انھیں کلین چٹ دے چکی ہے لیکن ہمارے ملک کا موجودہ نظام کس دھرے پر جارہا ہے اس جانب توجہ دینا ضروری ہے یہ صرف ایک ڈاکٹر کفیل ، معروف تیلگوغزل گلوکار ورورا راؤ یا امبیڈکر وادی پروفیسر آنند تیل تمبڑے کی بات نہیں ہے بلکہ اس ملک کے ان امن پسند شہریوں سے جڑا معاملہ ہے جو زندگی کے مخلتف شعبوں میں سچ کا علم بلند کرنے کی پاداش میں پابند سلاسل ہوئے اب جبکہ عدالت نے ڈاکٹر کفیل کی رہائی کا پروانہ جاری کردیا ہے اور ان پراین ایس اے کے اطلاق کو غلط قرار دیا ہے ایسے میں این ایس اے کے تعلق سے قارئین کو جانکاری دینا ضروری ہے ، این ایس اے یعنی قومی سلامتی ایکٹ یہ قانون سن انیس سو پچانووے میں منظور ہوا اس قانون کے تحت سیکورٹی ایجنسیویوں کو غیر معمولی اختیارات حاصل ہیں محض شک کی بنا پر کسی کو بھی گرفتار کیا جاسکتا ہے ،اس کے لیے ملزم یا اس کے گھر کے افراد کو اطلاع دینا بھی ضروری نہیں ہے ،

قابل ذکر بات یہ ہیکہ این ایس اے کے اطلاق کے بعد عدالت بھی اس معاملے میں زیادہ مداخلت نہیں کرسکتی، ایک تین رکنی ایڈوائزری باڈی کو اس میں رپورٹ دینے کی اجازت ہے لیکن وہ بھی گرفتاری کے چھ مہینے کے بعد اس طرح این ایس اے کے تحت پکڑے گئے افراد کی چھ ماہ تک کوئی سنوائی نہیں ہوتی اور نہ ہی اسے کوئی قانونی مددکی گنجائش ہے ، ڈاکٹر کفیل کو ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بتاکر ان پر این ایس اے کا اطلاق کیا گیا تھا عدالت نے اسے مسترد کردیا ہے لیکن اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہماری حکومتیں ملک کی سلامتی کےلیے بنے قوانین کا کتنا جائز استعمال کررہی ہیں ۔

نوٹ: مضمون نگارمحمد اظہر الدین  اورنگ آباد کے معروف صحافی ہیں اور پچھلے دو دہوں سے میڈیا  کے میدان میں سرگرم ہیں ، حساس موضوعات پر لکھتےرہتے ہیں۔(ایس این)

The short URL of the present article is: http://harpal.in/qycLW

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.